حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اطہار کا مقام ومرتبہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔یہ وہ خانوادہ ہے جس کے افراد کے متعلق اللہ رب العزت نے آیات قرآنیہ نازل فرمائی ہیں۔اسی خاندان مقدس سے تعلق رکھنے والی ایک ذات باصفات سیدہ اُم کلثوم سلام اللہ علیہا کی ہے ۔آپ حسنین کریمین علیہما السلام کی ہمشیرہ، امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی لخت جگر ہیں ۔ آپ کی ولادت باسعادت ربیع الاول 9ھ کومدینہ منورہ میں ہوئی (طبقات ابن سعد) آپ کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں برائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،اس خاندان کے افراد پاکیزگی اور طہارت کے حوالے سے آیت تطہیر کی شان کے مالک ہیں ۔جن کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے :’’پس اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت !تم سے ہرقسم کے گناہ کامیل دورکردے اورتمہیں طہارت سے نوازکربالکل پاک صاف کردے ۔‘‘ (سورۃالاحزاب :33)اس خاندان کی محبت کو اللہ تعالیٰ نے فرض قراردیاہے اور اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیاکہ آپ علی الا علان فرما دیں کہ:’’ میں اس (تبلیغ ِرسالت )پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر قرابت داروں سے محبت (چاہتا ہوں) ‘‘ (سورہ شوریٰ،آیت: 23)اسی عظمتوں والے خاندان کے پاکیزہ ماحول میں کسب ِکمال کی جو معراج آپ نے پائی وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔آپ ننھیال اور ددیال دونوں طرف سے شرف وکمال کی حامل ہیں اورمعدنِ عصمت و طہارت ہیں۔آپ کے خاندان کی عزت وعفت ،پاک دامنی اور شجاعت پر زمین و آسمان کے فرشتے گواہ ہیں ۔ اللہ رب العزت نے آپ سلام اللہ علیہا کو علم و حکمت سے خوب نوازا تھا ۔آپ کی ذات باصفات حلم ،برداری اور علم وعمل میں بے مثال تھی ۔ تقویٰ اور خوف خدا اس قدر تھاکہ زندگی بھر ہر حال میں شریعت مطہرہ پر کاربند رہیں ۔مشہور روایات کے مطابق آج آپ کا یوم وصال ہے ۔ مآخذ:القران ،ترمذی،طبقات ابن سعد