لاہور کی سیشن کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری اور ڈولفن سمیت دیگر فورسز کی موجودگی میں دن دیہاڑے پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان کو اس کے مخالفین نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ‘ یہ نوجوان اپنی ضمانت کے لئے عدالت میں گیاتھا۔ ماضی میں بھی عدالتوں کے احاطے میں قتل کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں‘ گزشتہ سال ایم این اے افضل کھوکھر اور ایم پی اے سیف الملوک کے بھتیجے کا قاتل اسلم عرف اچھا بھٹی عدالت کے احاطے میں قتل ہو گیا تھا‘ اگرچہ اس کے بعد سیشن کورٹ کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی تاہم اب پھر عدالت کے اندر اور سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے قتل کی تازہ واردات نے عدالتوںمیں سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے‘ عدالتیں تو انصاف کی جگہ ہیں وہاں کسی کا قتل ہونا سکیورٹی میں واضح سقم کی علامت ہے۔ کیا پولیس ‘ ڈولفن اور ان جیسے دوسرے سکیورٹی ادارے صرف حکومتی کار پردازوں‘وزیروں ‘ مشیروں کے لئے ہیں؟ کیا عوام کا تحفظ اور اداروں خصوصاً عدالتوں کی سکیورٹی ان کا کام نہیں ہے؟ وزارت داخلہ کو چاہیے کہ عدالتوں کی سکیورٹی کے لئے عملی اقدامات کرے‘ محض زبانی احکامات اور کاغذی کارروائیوں سے کام نہیں چلے گا۔ جج صاحبان کو بھی چاہیے کہ وہ اس غفلت اور لاپروائی کے مرتکب سکیورٹی اداروں خصوصاً پولیس کو واضح ہدایات اور تنبیہات جاری کریں تاکہ آئندہ عدالتوں کے اندر کسی کو قتل کرنے جیسے گھنائونے فعل کا ارتکاب کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔