اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)سینٹ نے دی پوسٹ آفس بل ،پوسٹل سروسز سے متعلق قانون کی تنسیخ ، نفاذ اورمعاشرتی ہم آہنگی بل اتفاق رائے سے منظورکرلئے ۔ آئین کے آرٹیکل 213اور215 میں مزید ترمیم کا بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا۔ ایک موقع پر چیئرمین سینٹ بیک وقت بولنے والے ارکان پر برہم ہوگئے اور کہاکہ آپ تمام لوگ خود چیئرمین بننا چاہتے ہیں، مجھے کام کرنے دیں، خاموش ہوکر بیٹھیں، ایوان میں بچگانہ کام شروع ہوچکا ۔آج تو سب بچے لگ رہے ہیں ۔اجلاس کے دور ان الیکشن کمیشن سے متعلق آئینی شقوں میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا گیا،سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ر عبد القیوم نے آئین کے آرٹیکلز 213 اور 215 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا، جسکے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری پر ڈیڈلاک کی صورت میں معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد ہونا چاہیے ۔حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی ۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاکہ الیکشن کمیشن ممبران اور چیف کی تقرری سے متعلق معاملہ پر ہم بند گلی میں داخل ہوچکے ،سپریم کورٹ کی بجائے معاملہ پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے ۔ پارلیمانی کمیٹی کے رولز میں دو تہائی اکثریت کی شق آئین سے متصادم ہے ۔چیئرمین سینٹ نے حکومت کی مخالفت کے باوجود بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر رانا مقبول نے اسلام آباد معاشرتی ہم آہنگی بل پیش کیا جواتفاق رائے سے منظورکرلیا گیا ۔اجلاس میں چاروں ہائی کورٹس کے مزید بنچ بنانے سے متعلق آئینی ترمیمی بل دو تہائی ارکان نہ ہونے کے باعث ایک بارپھر موخر کر دیا گیا ،چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد دوبارہ بل لانیکا اعلان کیا ۔مجوزہ ترمیم کے مطابق عوامی مشکلات کے پیش نظر لاہور،سندھ،بلوچستان،پشاور ہائیکورٹس کے مزید بنچ بنائے جائیں گے ۔اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے قائمہ کمیٹی میں چیئرمین واپڈا کی مسلسل غیر حاضری کا شکوہ کیا ۔وفاقی وزیر آبی وسائل کی عدم موجودگی کے باعث سندھ بیراج کو زیر بحث لانے کی تحریک موخر کر د ی گئی ۔سینٹ میں پمز ،ریلوے کی کارکردگی کو زیر بحث لانے ، علاقائی زبانوں کے تحفظ وبحالی ،معاشی ترقی میں کمی اور افراط زرکی شرح میں اضافے سے متعلق تحاریک کوموخرکردیا گیا۔ اجلاس کے دور ان سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد ، ایچ ای سی کے بجٹ میں10فیصد کٹوتی کے خلاف قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ سینیٹر عطاالرحمن نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی کے 400ملازمین کو نکالنے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے ، ایسا کرنے سے 400خاندان بھوک و افلاس میں چلے جائیں گے ،چیئرمین سینٹ نے معاملہ کیبنٹ کمیٹی کو بھیج دیا۔اجلاس میں فخرالدین جی ابراہیم اور کوئٹہ دھماکے کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔