لاہور،اسلام آباد،کراچی(کامرس رپورٹر،نامہ نگار خصوصی، خبر نگار ،نیٹ نیوز،نیوز ایجنسیاں) الیکشن ٹریبونل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں رؤف صدیقی اور خضر زیدی کو سینٹ انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف رؤف صدیقی کی اپیل مسترد کر دی،ٹیکنوکریٹ نشست پر خضر زیدی کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی اور کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا۔الیکشن ٹریبونل نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے سینٹ الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف دائر اپیل پر الیکشن کمیشن اور فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کرکے آج تک جواب طلب کرلیا،الیکشن ٹربیونل نے فیصل واوڈا کو پیش ہوکر وضاحت دینے کا حکم بھی دیا۔الیکشن ٹریبونل نے پرویز رشید کی ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائراپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے پنجاب ہاؤس کے ذمہ دار افسر کو آج ریکارڈ سمیت طلب کر تے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کردیا۔جسٹس شاہد وحید پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے پرویز رشید کی اپیل پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکلا نے کہا پرویز رشید 28 گھنٹے پیسے لے کر پھرتے رہے لیکن کسی نے واجبات وصول نہیں کئے ،فاضل جج نے کہا پرویز رشید نے جب پنجاب ہاؤس سے چیک آؤٹ کیا تب ہی یہ رقم جمع کرانی چاہئے تھی، پرویز رشید کے وکیل نے کہاوہ سینٹ کے ممبر تھے مفرور نہیں ،چیئرمین سینٹ کو نوٹس جاری کر کے بھی یہ وصولی کی جا سکتی تھی۔الیکشن ٹریبونل نے ٹیکنوکریٹ نشست کیلئے سندھ سے تحریک انصاف کے امیدوار سیف اﷲ ابڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے اور ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔دوران سماعت غلام مصطفیٰ میمن کے وکیل نے کہا ان لوگوں نے ٹھیکیدار کو ٹیکنوکریٹ بنا دیا، سیف اﷲ ابڑو کیخلاف کریمنل کیس بھی درج ہیں، کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے ،ان کے اثاثوں میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا، ہم نے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھایا لیکن ریٹرننگ افسر نے سنے بغیر ہی کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ۔ سیف اﷲ ابڑو کے وکیل نے اپیل کرنے والے مصطفی میمن خود امیدوار بھی نہیں ،میرے موکل پاکستان انجینئرنگ کونسل سے لائسنس یافتہ انجینئر ہیں، تعلیم یافتہ شخص ہی ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹ انتخابات کا امیدوار ہوسکتا ہے ۔دوسری جانب الیکشن کمیشن سینٹ الیکشن کیلئے ضابطہ اخلاق جلد جاری کرے گا،مجوزہ ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ بوتھ میں موبائل لے جانے اوربیلٹ پیپر کی تصویر بنانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔صدر مملکت اور گورنرز سینٹ انتخابات کی مہم میں حصہ لے سکیں گے نہ اپنے دفاتر انتخابی مہم کیلئے استعمال کرسکیں گے ۔دھمکی ،لالچ اور تحائف کے عوض ووٹ ڈالنے یا دلوانے پر پابندی ہو گی،کامیاب امیدوار انتخابی اخراجات کی تفصیلات پانچ روز کے اندر ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کرائے گا۔انتخابی اخراجات سے متعلق لین دین جی ایس ٹی رجسٹرڈ اداروں/اشخاص سے کیا جائے گا جبکہ سیاسی جماعت یا کسی اور کی جانب سے کیے گئے اخراجات بھی امیدوار کے اخراجات تصور ہوں گے ،اخراجات صرف مخصوص بینک اکاؤنٹ سے کئے جائیں گے ،سرکاری دفاتر یا ملازمین سے مدد لینے پر پابندی ہو گی۔بیلٹ پیپر پر موجود سرکاری نشان کو مسخ کرنا بدعنوانی تصور ہو گی جبکہ عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کی تضحیک سے اجتناب کرنا ہو گا،الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق پر موثر عمل کے لیے عوامی مدد بھی مانگ لی اور کہا عوام کسی خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن کو اطلاع دیں،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کاروائی ہو گی۔ سینٹ انتخابات کے لئے مجوزہ ضابطہ اخلاق پر مشاورتی اجلاس لاہور میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہواجس میں پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کومفصل بریفنگ دی گئی۔سیاسی جماعتوں نے مجوزہ ضابطہ اخلا ق پر الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی تجاویز پیش کیں جن پربحث ہوئی ۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو حتمی ضابطہ اخلاق میں ممکنہ حد تک شامل کیا جائے گا۔