گل گلستان رسالت کے گل تر سیدنا امام حسن عسکری علیہ السلام جن کا اسم گرامی ’’حسن‘‘اور کنیت ’’ابو محمد‘‘ ہے ۔آپ کے القاب بے شمارتھے جن میں’’عسکری، ہادی، زکی، سراج اورابن الرضا‘‘بہت مشہورہیں۔ ایک مشہور قول کے مطابق آپ کی ولادت باسعادت 10ربیع الثانی 232ہجری کو مدینہ طیبہ میں سیدنا امام علی تقی علیہ السلام کے بیت الشرف میں ہوئی ۔آپ کی والدہ ماجدہ پرہیزگار ،عفیفہ صفت خاتون جناب حدیثہ رضی اللہ عنہا تھیں جن کی صالحیت اُس زمانے میں اپنی مثال آپ تھی،آپ اپنی چھوٹی عمر میں اپنے والد گرامی کے ساتھ سفر کی صعوبتوں کا اٹھاتے ہوئے بغداد کے علاقے سامر ہ تشریف لائے ۔سامرہ میں جہاں آپ کے خاندان کے افراد قیام فرماتے اُس محلے کا نام ’’عسکر‘‘ تھاکیوں کہ اُس علاقے میں بادشاہِ وقت کی فوج کی چھاؤنی تھی یا اُس علاقے اس وقت کی افواج اپنی مشقیں کیا کرتی تھیں ۔ اس مناسب سے آپ کا اسم گرامی ’’امام عسکری علیہ السلام‘‘ معروف ہوگیا ۔آپ علیہ السلام نے بھی اپنے والدگرامی کی طرح بنی عباس کے متعدد خلفاء کا سامنا کیا۔آپ علیہ السلام اپنے کمالات میں اپنی مثال آپ تھے ۔سامرا میں آپ جیسا بااخلاق،پروقار،بلند مرتبہ، بافضیلت اور باعظمت کسی نے نہیں دیکھا۔ محدث وقت علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ (سامرہ آنے کے بعد) ایک روز سرراہ کھڑے تھے اور بچے کھیل رہے تھے لیکن آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ،قریب سے بہلول دانا کا گزر ہوگیا۔بہلول نے آپ علیہ السلام کی تنہائی کو دیکھ کر عر ض کیا:’’میں آپ کو وہ چیز خرید کر دوں جس سے یہ بچے کھیلتے ہیں‘‘آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:’’اے کم عقل والے ہم کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ۔‘‘بہلول نے عرض کیا: توبتائیے ! ہماری پیدا ئش کس لئے ہوئی ہے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’لِلْعِلْمِ وَالْعِبَادَۃِ‘‘علم اور عبادت کے لیے ۔بہلول نے عرض کیا: ’’یہ باتیں آپ کو کہاں سے حاصل ہوئی ہیں۔‘‘ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ’’سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے ؟‘‘پھر بہلول نے عرض کیا مجھے کوئی نصیحت کیجئے تو آپ علیہ السلام نے بطور نصیحت چنداشعار سنائے پھر آپ پرغش کی کیفیت طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو بہلول نے عرض کیا: آپ پر یہ عالم کیسے طاری ہوگیا حالانکہ ابھی تو آپ کا بچپن ہے ۔ تب امام حسن عسکر ی علیہ السلام نے فرمایا:’’اے بہلول! چلے جائیے ،میں نے اپنی والدہ کو بڑی لکڑیوں کو آگ لگاتے دیکھا ہے مگر وہ چھوٹی لکڑیوں کے بغیر نہ جلتی تھیں مجھے خوف ہے کہیں میں جہنم کی آگ کی چھوٹی لکڑیوں میں سے نہ بن جاؤں۔ (الصواعق المحرقہ)سبحان اللہ ، تقوی ، خشیت کا عالم کتنا بلند ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے آپ کو وِلایت و کرامت ، فہم وفراست اورکمال علم وعقل سے موصوف فرمایا تھا ۔ آپ کو صفاتِ حسنہ ،علم وسخاوت کے خزانے اپنے والد ِگرامی سے ورثہ میں ملے تھے ۔آپ کے درِاقدس سے غربا ومساکین اور یتیموں کی داد رسی کی جاتی تھی ۔ آپ کی علمی مجالس سے اُس دور کے بڑے بڑے محدثین فیض حاصل کیا کرتے تھے ۔ حکام وقت کا برتاؤآپ علیہ السلام کے ساتھ اسی طرح رہا جس طرح آپ علیہ السلام کے بزرگوں کے ساتھ تھا،متوکل کے بعد مستنصر بھی اُس کے نقش قدم پر چلتا رہا پھر معتمد عباسی بھی ان سے چار قدم آگے نکلا۔قید وبند کی صعوبتوں کے بعد جب اُسے کچھ حاصل ہوتا نظر نہ آیا تو اُس نے آپ کو زہر دے کر شہید کردیا۔مشہور قول پر 8 ربیع الاول 260 ہجری کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے صر ف اٹھائیس سال کی عمر میں ہزاروں لوگو ں کو علم و حکمت کی دولت سے روشناس کروایا ۔ جن کی ساری زندگی عبادت و ریاضت اور انسانیت کی خدمت میں بسر ہوئی ۔جنہوں نے زندگی بھر مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا اور صبر و شکر کا مظاہرہ کیا ۔آپ کا مزارِ اقدس سامرہ(بغداد) میں مرکز ِانوار وتجلیات اور زیارت ِ گاہ خلائق ہے ،عصر حاضر میں ضرورت ہے کہ آپ کی تعلیمات کی وسیع اشاعت کی جائے اور آپ کے خاندان مقدس کے ذکر کو عام کیا جائے ۔وماتوفیقی الا باللہ العلی العظیم (حوالہ جات :تاریخ ابن خلکان ، صواعق المحرقہ ، شواہد النبوت،زیارات مقدسہ عراق)