پاکستان‘ چین اور افغانستان نے دہشت گردی کے انسداد کی خاطر تعاون پر مبنی مشترکہ نظام تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں ہمسایہ ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ انسداد دہشت گردی ‘ سکیورٹی‘ خفیہ معلومات کے تبادلے‘ دہشت گردوں سے نمٹنے اور اس کی تمام شکلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ سہ ملکی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تعاون کے نئے امکانات کی تلاش کا کام بیلٹ اینڈروڈ منصوبے‘ افغانستان میں ریجنل اکنامک کوآپریشن کانفرنس اور دوسرے علاقائی منصوبوں میں بھی جاری رہے گا۔ تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک افغان تجارت میں مددگار منصوبوں کو اہمیت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں کابل پشاور موٹر وے کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تینوں ممالک نے چائنا افغانستان پاکستان پریکٹیکل کواپریشن ڈائیلاگ کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد کے کام کو تسلی بخش قرار دیا۔ چین نے اس امر پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے کہ وہ ریفریجریشن گودام‘ کلینکس ‘ پینے کے پانی کی فراہمی اور افغانستان کے داخلی راستے پر امیگریشن کائونٹرز کی تعمیر میں مدد کو تیار ہے۔ تینوں ممالک نے بیجنگ میں اگلے ماہ سہ ملکی جونیئر کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کے فیصلے کو بھی سراہا۔ پاکستان ‘ چین اور افغانستان کے درمیان گزشتہ برس دسمبر میں سہ ملکی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے تھے۔ گزشتہ برس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خطے میں امن کے راستے میں داعش‘ ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ‘ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور دوسری امن دشمن تنظیمیں موجود ہیں۔ یہ تنظیمیں صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ مل کر ان تشدد پسند گروپوں سے مقابلہ کریں۔ افغانستان میں قیام امن‘ پاک افغان تعلقات کو بھارتی عزائم سے بچانا اور پاک افغان چائنا تجارت کو ایک موثر منصوبے کی شکل میں ڈھالنا یقینا بڑے چیلنجز ہیں۔ تین برس پہلے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 5ارب ڈالر سالانہ کی تجارت ہو رہی تھی۔ تجارت کا یہ حجم اب 10ارب ڈالر تک ہونا چاہئے تھا مگر بھارت نے پاکستان کا معاشی محاصرہ شروع کر دیا۔ بھارت نے سب سے پہلے پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور اس کے بعد دوست ممالک کے ساتھ ترقیاتی اور کاروباری منصوبوں کا آغاز کیا۔ایران کوچابہار بندرگاہ کی تعمیر میں مدد دی اوربدلے میں سستا تیل خرید لیا۔ بھارت نے ایران سے تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان میں ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرکے بھارت نے وہاں ایسے گروپوں سے تعلقات مضبوط کئے جو پاکستان کے خلاف بھارت کا ساتھ دینے پر آمادہ تھے۔ بھارت نے گندم‘ چاول اور دیگر اشیا افغانستان بھیجیں۔ معیار اور قیمت کے اعتبار سے افغانستان کے لئے یہ مہنگا سودا تھا مگر بھارتی سرمایہ کاری نے افغان حکام کے منہ بند رکھے۔ چین کی قیادت نے 2014ء کے آغاز میں علاقائی ترقی کا ایک منصوبہ پیش کیا۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت چینی علاقے اقصائے چین سے گلگت بلتستان سے ہوتے ہوئے ایک تجارتی راہداری کو گوادر کی بندرگاہ سے جوڑنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ سمندری راستے سے محروم افغانستان کے لئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ مسلسل جنگ اور تنازعات کے باعث تباہ معیشت کو پرامن ماحول میں نئی بنیادوں پر استوارکر سکے۔افغانستان کی بدامنی کی سب سے بڑی وجہ وہاں روزگار اور کاروبار کے مواقع نہ ہونا ہے۔ چین نے سی پیک کے ذریعے پاکستان کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو نئے تجارتی روٹ سے منسلک کر کے معاشی ترقی کے منصوبوںکو آگے بڑھا سکے۔افغانستان بھی چاہے تو اس راہداری سے مستفید ہو سکتا ہے۔ پاکستان‘ افغانستان اور چین کے درمیان تعاون پر اتفاق کی ابتدائی صورت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاوشوں پر مبنی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے ساتھ چین اور روس نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے جن خطرات کا ذکر گزشتہ برس کابل میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا تھا وہ خطے کی ترقی کے دشمن ہیں۔چین ‘ روس‘ پاکستان ‘ایران اور افغانستان امن کے ماحول میں تیز رفتار ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دنیا میں وہ علاقے آج پسماندگی کا گڑھ بن چکے ہیںجہاں دہشت گردی اور بدامنی کے ڈیرے ہیں۔ پاکستان نے 18سال تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔ خارجی خطرات کے ساتھ ساتھ طالبان اوردیگر دہشت گرد گروپوں سے نمٹنا آسان نہیں تھا۔ سکیورٹی اداروں کی انتھک محنت سے آج صورت حال بدل چکی ہے۔ نئے حالات نئے مواقع کی تخلیق کرتے ہیں۔ پاکستان نے خطے کے تمام تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا موقف اختیار کیا۔ دہشت گردی کی ہر شکل سے بیزاری اور لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے سخت اشتعال انگیزی پر بھی صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اورامن کو استحکام دینے والے ہر اس اقدام کی حمایت کرتا ہے جو دوسرے ممالک اٹھاتے ہیں۔ پاکستان‘ چین اور افغانستان ایک سال کے صلاح و مشورہ کے بعد جن امور پر متفق ہوئے ہیں وہ خطے کی خوشحالی اورامن کے لئے کلید کی حیثیت رکھتے ہیں ابتدائی طور پر انسداد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاوشیں آگے بڑھیں تو معاشی اور عوامی رابطوں میں یقینی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔