ہم نے 15 سے 22 مارچ کے دوران عالمی منظر نامے پر کچھ تاریخ ساز مناظر دیکھے۔ ایسے مناظر جو آنے والے ماہ و سال پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا بھرپور امکان رکھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمانوں کے خون ناحق نے امید کا ایک ایسا دیا روشن کیا ہے جو نائن الیون کے بعد والے اس تاریک 18 سالہ عرصے میں پہلی بار روشن ہوا ہے جس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے اور کروڑوں اس سے کسی نہ کسی صورت متاثر ہوئے۔ امریکہ میں نائن الیون ہوا تو اس کی تحقیقات کے لئے ایک عدد "نائن الیون کمیشن" بنایا گیا مگر یہ کمیشن بنانے والوں نے اس کے پہلے اجلاس سے بھی قبل اسامہ بن لادن کو مجرم ڈیکلیئر کرکے افغانستان پر چڑھائی کی تیاری شروع کردی تھی۔ مہذب دنیا میں ایک بھی ایسی آواز نہ اٹھی جو یہ پوچھتی کہ کسی تحقیقات کے بغیر ہی کس طرح کسی کو مجرم قرار دے کر ایک ملک پر چڑھائی کی جارہی ہے ؟ الٹا یہ ہوا کہ 44 ممالک امریکہ کے اتحادی بن کر دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک، افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ افغانستان میں طالبان پہاڑوں کی جانب پسپا ہوکر شہروں اور میدانوں سے غائب ہوگئے تو امریکہ نے اسے "عظیم فتح" سمجھتے ہوئے عراق کو بھی نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس مقصد کے لئے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عراق اور صدام حسین سے متعلق ایسی رپورٹس پیش کیں جو بہت جلد جھوٹ ثابت ہوئیں۔ سنا ہے مغرب میں "انصاف" کا بول بالا ہے مگر جھوٹی رپورٹس کی بنیاد پر عراق کو تباہ کرنے والے عالمی مجرم کسی کٹہرے میں نظر نہ آئے۔ اسی عرصے میں بگرام، ابو غریب اور گوانتاناموبے کے عقوبت خانے آباد کئے گئے جہاں کسی کو پکڑ کر تو کسی کو پانچ پانچ سو ڈالر میں خرید کر قید کیا گیا۔ جبر صرف جنگ کے میدانوں تک محدود نہ رہا بلکہ امریکہ کے ہوائی اڈوں پر آمدورفت رکھنے والے عام مسلمان شہریوں کو بھی امتیازی رویوں اور تذلیل سے گزارا گیا۔ بات صرف اسلام کے ماننے والوں تک نہ رہی بلکہ خود اسلام کو بھی بطور "مجرم" نشانے پر رکھ لیا گیا اور طے کیا گیا کہ اس کی "تعبیرات" امریکی منشا کے مطابق از سر نو ترتیب دی جائیں گی۔ اس مقصد کے لئے کمزور ممالک کے نصاب تعلیم کو خاص طور پر نشانے پر لیا گیا اور دھونس کے ذریعے قرآنی آیات کو نصاب سے نکلوایا گیا۔ مذہبی رواداری کے نام پر ایک تماشا کھڑا کیا گیا جس میں مسلمانوں کو اسلامی شعائر سے دستبردار ہونے کا کہا جانے لگا۔ حجاب، مسجد کے مینار اور لاؤڈسپیکر میں اذان اس "مذہبی رواداری" کا خصوصی نشانہ بنے۔ ان اہداف کے حصول کے لئے ڈالرز اور پاؤنڈ سٹرلنگ پانی کی طرح بہنے لگے تو پاکستان جیسے ملک میں انہیں صرف دیسی لبرلز ہی نہیں کئی اہم شخصیات دستیاب ہوگئے۔ نجی زندگی میں نامحرم سے مصافحہ اور معانقہ روا کرنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں تو قومی امور میں آئین کی اسلامی دفعات ختم کرنے یا انہیں ترمیم کے ذریعے غیر مؤثر کرنے کے تقاضے شروع کردئے گئے۔ غرضیکہ نام مذہبی رواداری رکھا گیا مگر اس ٹائٹل کے تحت کرنا جو بھی تھا مسلمانوں نے تھا۔ مطالبہ یہ رہا کہ مسلمان خود کو بھی اور اپنے مذہب کو بھی تبدیل کریں۔ "تبدیلی مذہب" کا یہ منصوبہ آج بھی روبعمل ہے۔ آج بھی سیمیناروں اور مذاکروں کے ذریعے یہ آگے بڑھ رہا ہے۔ معاملہ فقط یہیں تک بھی نہ رہا بلکہ مسلمانوں کو اپنے سیاسی نظام سے دستبردار کرانے کے لئے وہ "بیانیہ" متعارف کرایا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کوئی نظام حیات نہیں، لھذا مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ سیکولرزم کو بطور نظام اختیار کر لیں۔ نائن الیون سے لے آج تک کے یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر وہ بیانیہ ہے جو امریکہ اور یورپ سے چل رہا ہے۔ اور جس کیلئے مختلف این جی اوز کے تحت کرائے کے بہت سے ٹٹو کام کر رہے ہیں۔ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ میں پچاس مسلمان شہید ہوئے تو وہاں کی دھان پان سی وزیراعظم چند گھنٹوں میں ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئیں۔ پوری دنیا یہ توقع کر رہی تھی کہ وہ کچھ بھی کہہ لیں گی مگر کرائسٹ چرچ کے قتل عام کو دہشت گردی نہیں کہیں گی۔ کیونکہ نائن الیون کے بعد سے چلنے والے بیانیے کے مطابق دہشت گرد صرف وہ ہوتا ہے جو مسلمان۔ غیر مسلم قاتل فقط "ذہنی مریض" ہوتا ہے۔ مگر وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے دوٹوک الفاظ میں مسلمانوں کے قتل عام کو منظم دہشت گردی ہی نہ کہا بلکہ اس نظریے کی مذمت بھی کردی جس کی پیداوار خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہے۔ یہ اس بیانیے کی نفی تھی جو امریکہ اور اس کے بھاڑے کے دیسی لبرلز پچھلے اٹھارہ سال سے پیش کر رہے تھے۔ جیسنڈا آرڈرن کی اس تقریر نے پوری دنیا کو خوشگوار حیرت میں ڈالا مگر قدرت نے شاید انہیں "متبادل بیانیے" کے لئے چن لیا تھا۔ اٹھارہ سال سے امریکی بیانیے کے ذریعے جس حجاب کو مسلمان عورت کے سر سے گرایا جا رہا تھا اسی کا دوپٹہ جیسنڈا آرڈرن نے اٹھایا، اوڑھا اور دکھی مسلمانوں کے بیچ جا کھڑی ہوئیں۔ امریکی بیانیے کا ایک اور معتوب اسلامی شعار "السلام علیکم" کو بار بار جیسنڈا آرڈرن کی زبان سے سنا جانے لگا۔ امریکی بیانیے میں جس قرآن مجید کی آیات نشانہ تھیں وہ جیسنڈا آرڈرن کے متبادل بیانیے میں نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ سے گونجنے لگا۔ امریکی بیانیے کے نتیجے میں یورپ میں جس اذان کا گلہ گھونٹنے کی کوششیں ہورہی تھیں وہ جیسنڈا آرڈرن کے متبادل بیانیے میں پورے نیوزی لینڈ میں ٹی وی اور ریڈیو پر لائیو سنا گیا۔ مسلمانوں کے جس سکارف کو امریکی بیانیے نے "مسئلہ" قرار دے رکھا تھا وہ جیسنڈا آرڈرن کے متبادل بیانیے میں اتنی قدر و منزلت اختیار کر گیا کہ 22 مارچ کو نیوزی لینڈ کی ہر عورت نے اسے اوڑھ لیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی جو تعلیمات امریکی بیانیے کے ذریعے مٹائی جا رہی تھیں وہ تعلیمات کرائسٹ چرچ کی مسجد النور سے جیسنڈا آرڈرن کا متبادل بیانیہ بن کر پھیلتی دیکھی گئیں۔ طرفہ تماشا نہیں تو کیا ہے کہ ہمارے دیسی لبرلز اب یکایک جیسنڈا آرڈرن کے اس متبادل بیانیے کو ہی اپنا بیانیہ باور کرانے کی کوششوں میں لگ گئے ہیں۔ حالانکہ جیسنڈا آرڈرن کا بیانیہ اس بیانیے کی ہی مکمل نفی ہے جس بیانیے کا یہ دیسی لبرلز بھاڑہ لے کر پرچار کرتے رہے ہیں !