ایک بات اور بھی کسی درویش نے کہی تھی پروردگار کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوئی۔ وہ ایک آدمی کا انتظار کرتا ہے۔ ایک پوری طرح سچے اور نکھرے آدمی کا۔ لشکر اللہ اسے خود فراہم کر دیتا ہے۔ قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں ہے گرچہ ہیں تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات آئندہ برسوں میں بابائے قوم کے بارے میں پڑھا‘ ان لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس جلیل القدر کو جنہوں نے دیکھا تھا‘ ان سے ملے‘ باتیں کی تھیں۔ آزادی کی وہ جنگ لڑی تھی جس کا ثمر پاکستان ہے۔ آزاد وطن جس کی قدر و قیمت کا بالآخر ہمیں احساس ہونے لگا ہے۔ دس پندرہ دن سے جب مسلمانوں سے بدسلوکی عروج پہ پہنچی۔ چالیس برس میں کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ہمیں جگا نہ سکا۔ مشرقی پاکستان کا خون ریز سانحہ بھی۔ ہماری آنکھ اب کھلی ہے۔ اب بالآخر ہم نے سوچنا شروع کیا اگر پاکستان نہ بنتا تو لاہور بھی الہ آباد ہوتا‘ سری نگر ہوتا۔ جس خاندان اور جس گائوں سے تعلق تھا‘ اس میں ‘ قائد اعظم سے روشناس کرانے والا کوئی نہ تھا۔ اچھے لوگ تھے‘ صاف ستھرے اور شکر گزار مگر تاریخ کے ثناور خال ہی ہوتے ہیں۔ تیرہ سو سالہ ہندو مسلم کش مکش کا ایک انجام 1947ء میں ہوا اور ایک ابھی ہونا ہے۔ جب ہند کے اہل ایمان مشرکوں پر غالب آئے۔ اور جیسا کہ سرکارؐ کا فرمان ہے پھر دمشق کا تہیہ کریں گے۔ زمین ایک بار نور سے بھر جائے گی: آپ ان کے لئے بھی رحمت ہیں جو زمانے ابھی نہیں آئے سرکارؐ اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اچانک آپؐ کی آنکھیں بھر آئیں۔ اصحاب ہراساں ہوئے کہ یا رسول اللہ ؐ کیا ہوا کیا کوئی گستاخی سرزد ہوئی ہے فرمایا‘ نہیں‘ بلکہ میں نے انہیں یاد کیا جو تمہارے بعد آئیں گے لیکن مجھ سے اتنی ہی محبت کریں گے جتنی تم کرتے ہو۔ لکھتے لکھتے سوچتے سوچتے آخر رک گیا کہ ہم کیسے خوش قسمت لوگ ہیں۔ خطا کار ہیں ‘ چنانچہ بدحال ہیں۔ بے توفیق ہیں۔ چنانچہ بے عمل ہیں۔ مگر یہ بھی کیا کم ہے کہ آپؐ کی امت سے ہیں مگر ہمیشہ بے توفیق نہیں رکھتے اس قدر یہ خیال حوصلہ افزا اور دل افروز ہے۔ سارے غم دہل جاتے ہیں‘ سب اندیشے تحلیل ہوتے ہیں۔ کراں تابہ کراں چراغاں سے ہو جاتا ہے۔ قائد اعظم نے کہا تھا؛ پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا برصغیر میں پہلا آدمی جب مسلمان ہوا تھا۔ ایک دن میں نہیں ‘1940ء سے 1947ء تک کی جاں گسل مسافت ہی سے نہیں‘ یہ مملکت خداداد تیرہ صدیوں کا ثمر ہے۔ جب پندرہ سالہ محمد بن قاسم کا لشکر سندھ کے ساحلوں پر اترا تھا‘ جہاں سے سرکار کو ٹھنڈی ہوا آتی۔ محمد بن قاسم لوٹ گئے اور جرم بے گناہی میں شہید کئے گئے یہ سلمان بن عبدالملک کا عہد تھا۔ وہ ایک نیم پاگل آدمی تھا۔ کھانا کھاتا توکھاتا ہی چلا جاتا۔ ہانکتا تو سننے والے ششدر رہ جاتے۔ سبز رنگ اسے پسند تھا ایک دن سبز رنگ کا لباس پہنا، سبز رنگ کا خیمہ لگایا۔ سبز رنگ کے ایرانی قالین بچھائے اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہا؛ ابوبکرؓ بے شک صدیق تھے‘ عمرؓ بے شک فاروق تھے‘ عثمانؓ بے شک غنی تھے‘ مگر میں بھی تو ایک جوان بادشاہ ہوں۔ خدا کی قسم میں قسطنطنیہ کو فتح کروں گا یا شہید ہو جائوں گا۔ شہید یا غازی تو کیا ہوتا۔ بستر مرگ پر پڑا ایک دن رو رہا تھا؛ ہائے میرے بچے ہائے میرے بچے‘ میرے بعد ان کا کیا ہو گا۔ عمر بن عبدالعزیزؓ صاحب جمال تھے‘ نرم خُو‘ مہربان اور شفیق مگر کبھی جلال کا شعلہ بھی بھڑکتا بولے ؛جس خدا نے تجھے بادشاہ کیا ،کیا تیرے بچوں کو بھوکا مار دے گا۔ عصر رواں کے دانائے رازنے کہا تھا؛ شیطان ایک کاشت کار ہے جو نفس کی زمین میں کاشت کرتا ہے ‘ دو چیزوں سے ابلیس آدم زاد کو گمراہ کرتا ہے‘ خواہش اور بھوک کا خوف۔ درود سلام پڑھتے ہوئے رحمتہ اللعالمینؐ کی بارگاہ سے اب ہم اٹھتے ہیں اور امتی کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ تیرا سو سال کی مسافت پر بہترین بے داغ لباس پہنے مناقل لگائے وہ سگارپی رہے ہیں ان کی زندگی کے وہ تین پت پیچھے رہ گئے لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب وہ ممبئی پہنچے تھے ہر روز‘ ہر روز وہ اپنے دفتر کا رخ کرتے۔ پیدل‘ پورا دن بتا کر خالی ہاتھ واپس آ جاتے‘ ہر روز ایک سائل بھی نہیں، ایک مقدمہ بھی نہیں۔ قائد اعظم کے ان برسوں کی کہانی کبھی نہ لکھی گئی۔ اسی لئے کہ کبھی انہوں نے بیان ہی نہ کی۔ مگر اتنی سی بات ہم سب جانتے ہیں کہ بھوک کا خوف کبھی ان کی کھال میں داخل نہ ہو سکا۔ بھوک ہی نہیں ان امراض میں سے کوئی ایک بھی نہیں‘ ہمیشہ سے برصغیر جن کی آماجگاہ ہے۔ عدم تحفظ‘ احساس کمتری‘ خود ترسی ؛چنانچہ پرلے درجے کی خودغرضی۔ سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم سیاسی بصیرت کا ایک مہکتا ہوا ستارہ ہیں مگر وہ اس کے سوا بھی بہت کچھ ‘ امیر تیمور کو صاحب قران کہا جاتا ہے‘ یعنی بہترین ستاروں والا‘ تاریخ کا سب سے بڑا فاتح ۔ قائد اعظم آئینی سیاست کے امیر تیمور تھے مگر اس سے بہت بڑھ کر، اس نے سرزمینیں فتح کی تھیں، آپ نے دل جیتے۔ اعلیٰ اخلاقی صفات سے محروم وہ محض ایک فاتح تھا۔ قائد اعظم اعلیٰ ترین اوصاف کے حامل‘ عمر بھر ان پر الزام تک نہ لگا کہ کبھی ایک چھوٹی سی غلط بیانی کی ہو‘ خیانت کا شائبہ تک ان کی پاکیزہ ‘ حیات میں نہ تھا۔ وقت کبھی ضائع نہ کرتے۔ غیبت سے ہمیشہ گریز تھا۔ بیشتر تنقید نظر انداز کرتے۔ اس آدمی کو بھی جواب نہ دیا جس نے انہیں کافر اعظم کہا تھا۔ درویش نے کہا تھا کہ وہ راہ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔ قائد اعظم ایک فاتح اور غازی تھے مگر وہ ایک عہد کی زندگی جیئے: خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں ذرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا بعد میں تو یہ حال ہوا کہ کھانے کی میز پر بھی دس منٹ تاخیر سے پہنچا کرتے۔ ایک زمانے میں بلیئرڈکھلا کرتے تھے۔ اس کھیل میں ہارنے والے کو جیتنے والے کی ایک شرط پوری کرنا ہوتی، ایک بے ضرر سی شرط۔ ایک خاتون سے ہارے تو اس نے کہا میرے ماتھے پر بوسہ دیجیے مسٹر جناح۔ جیسا کہ ان کا مزاج تھا‘ تامل کے بغیر کہا، بوسہ محبت کا مظہر ہوتا ہے کوئی اور فرمائش خاتون محترم۔ خیال ہرروز کرتا ہے اور وہ نکھری آواز سنائی دیتی ہے۔ "Any Think ILyas Mademہزاروں تصاویر ان کی موجود ہیں ‘ پوری سیاسی زندگی ریکارڈ پر ہے کسی ایک مجلس کسی ایک تصویر میں بھی وہ غیر متوجہ نہیں۔ یکسوd Focuseبلکہ Sharpبلکہ وہ حیرت انگیز جذباتی توازن جس کی کوئی دوسری مثال کم از کم برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ شائستگی مگر گاندھی اور نہرو جیسی لجاجت کبھی نہیں۔ لجاجت کیا غیر ضروری عاجزی بھی نہیں، دکھاوے اور ریاسے پاک‘ اسی طرح جیسے ان کا ملبوس۔ دکھاوے اور ریا سے پاک جیسا ان کا ملبوس‘ کوئی داغ نہ دھبہ‘ داغ اور دھبہ ان کی روح پہ نہ تھا‘ پیراہن پہ کیا ہوتا ۔ قائد اعظم کو ہم بھول چکے ہیں۔ بخدا بالکل بھول چکے۔ ان کی یاد میں جو دن ہم مناتے ہیں جو تقریبات منعقد کرتے ہیں تو یہ خودفریبی ہے ایک طرح کا راہ فرار۔ احساس جرم سے بچنے کی کوشش۔ واقعی وہ ہمیں یاد ہوتے تو ہماری زندگیوں میں اس کی چھوٹ پڑتی۔ ان کے دل کے شرنگوں میں سے کوئی ایک رنگ ہی‘ ہمارے شب و روز میں جگمگاتا امانت کا جلوہ نہیں تو علمی دیانت ہی۔ ملک کی محبت میں ایثار کی روش نہیں تو آرزو مگر کچھ بھی تو نہیں ہے۔ خون دینے والے نہیں ہم دودھ پینے والے مجنوں ہیں۔ ایک بات اور بھی کسی درویش نے کہی تھی پروردگار کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوئی۔ وہ ایک آدمی کا انتظار کرتا ہے۔ ایک پوری طرح سچے اور نکھرے آدمی کا۔ لشکر اللہ اسے خود فراہم کر دیتا ہے۔ قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں ہے گرچہ ہیں تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات