اسلام آباد(خبر نگار)قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ ہائوسنگ سکینڈل ریفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کے مقدمے میں تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے ۔تحریری جواب میں شہباز شریف اور فواد حسن پر آشیانہ ہائوسنگ سکیم میں اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ شہباز شریف کا پنجاب لینڈ ڈیویلپمنٹ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا،بطور وزیر اعلیٰ وہ کمپنی کے بورڈ ممبران نامزد کرسکتے تھے لیکن انہوں نے کمپنی کی میٹنگ کی صدارت کی اور کسی شکایت کے بغیر پہلی کمپنی کا آشیانہ کا ٹھیکہ منسوخ کیا ۔مزید کہا گیا ہے کہ ٹھیکہ منسوخی کیلئے فواد حسن فواد نے لینڈ ڈیلپمنٹ کمپنی پر دبائو ڈالا جبکہ شہباز شریف نے ماڈل ٹائون گھر میں احد چیمہ کو منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔تحریری جواب کے مطابق شہباز شریف نے احد چیمہ کو پیراگون سے 100 کنال زمین خریدنے کا حکم دیا اور فواد حسن فواد نے کامران کیانی سے بذریعہ بینک 55 ملین روپے لیے ۔مزید کہا گیا ہے کہ ایسی کڑیاں موجود ہیں کہ شہباز شریف فواد حسن فواد اور احد چیمہ نے کرپشن کی،کرپشن کے دستاویزی اور زبانی شواہد موجود ہیں۔تحریری جواب کے ساتھ تمام اضافی دستاویزات اور شواہد بھی منسلک کئے گئے ہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی سپیشل بینچ نے بحریہ ٹائون کی طرف سے رکھ تخت پڑی اور مری میں کی جانے والی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت کی اور بحریہ ٹائون کو اگلی سماعت سے پہلے تحریری طور پر قابل قبول حل پیش کرنے جبکہ پنجاب حکومت کو بحریہ ٹائون کے مجوزہ حل کا جواب دینے کی ہدایت کی جبکہ آبزرویشن دی ہے کہ جب تک لیگل پیرا میٹرز نہیں دیئے جاتے ان تعمیرات کو قانونی جواز دینے کا معاملہ حل نہیں ہوسکتا۔دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریما رکس دیئے کہ دونوں معاملات میں ایشو اور قانون الگ الگ ہیں،رکھ تخت پڑی میں جنگلات کی زمین پر اور گالف سٹی مری میں شاملات کی زمین پر تعمیرات کا معاملہ ہے اس لئے دونوں کا الگ الگ حل بتایا جائے ۔بحریہ ٹائون کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پہلے شاملات کی نشاندہی کرنی ہوگی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں جنگلات اور شاملات کی زمین کی نشاندہی ہوچکی ،معاملہ صرف اس پر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کو قانونی جواز دینے کا ہے ۔وکیل خواجہ طار ق رحیم نے کہا کہ گالف سٹی کے معاملے میں ہم لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت جائینگے کیونکہ شاملات کی نشاندہی کسی کی ملکیت سے کی گئی ہے ۔عدالت نے سماعت 23مئی تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے ٹریفک وارڈنز کو ایڈیشنل بنیادی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مقدمے کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی اور پنجاب حکومت سے معاملے پر شق وار جواب طلب کیا جبکہ قرار دیا کہ ٹریفک وارڈنز کے الائونسز منجمد نہیں ہونگے ۔عدالت نے آئی جی پولیس کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تنخواہوں کی ادائیگی پر جواب دیں کیونکہ وارڈنز کو تنخواہوں کی ادائیگی پر موقف یکساں نہیں اپنایا گیا۔