یوم دفاع کے موقع پر ملک بھر میں شہدا کے لواحقین کو سلام پیش کیا گیا اور وطن کے لئے شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔ حکومتی‘ اپوزیشن رہنمائوں اور منتخب نمائندوں نے اس موقع پر شہدا کے گھر جا کران کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ صدر مملکت عارف علوی اسلام آباد میں شہید کیپٹن محمدالحسنین کے گھر والوں سے ملے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے راولپنڈی میں کیپٹن جنید عباسی کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار لاہور میں شہید تیمور اسلم کے لواحقین سے ملے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی لاہور میں شہید کے گھر جا کر ملاقات کی۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان مری میں لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے اہل خانہ سے ملیں۔ آرمی چیف کی طرف سے اس بار اعلان کیا گیا کہ عوام شہدا کے گھر جا کر ان کے لواحقین کی ثابت قدمی پر خراج تحسین پیش کریں، اس فیصلے کی تائید سیاسی قیادت نے بھی کی۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ یہ حالت جنگ عشروں سے برقرار ہے۔ دہشت گردی اور خطے میں بڑی طاقتوں کی مداخلت نے اس لڑائی کو طویل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان آزاد ہوتے ہی بھارتی جارحیت کا نشانہ بنا۔ پھربھارت نے سوویت یونین کے ساتھ مل کر قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کیا۔ دونوں کی ملی بھگت کے باعث مشرقی پاکستان کا زخم لگا۔ بعدازاں سوویت یونین ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں داخل ہوا اور وہاں سے پاکستان میں تخریبی سرگرمیاں شروع کیں۔ ان دنوں بلوچستان اور کے پی کے میں سوویت ساختہ بم دھماکے معمول بن گئے۔ اس صورت حال میں افغان مجاہدین نے مزاحمت کا آغاز کیا۔ اس مزاحمت کو امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے مدد فراہم کی۔ عرب ممالک کو وسائل کی فراہمی پر قائل کیا گیا۔ پاکستان نے آپریشنل امور میں عالمی برادری کا ساتھ دیا۔ اس جہاد کے اثرات کئی طرح سے پاکستانی معاشرے پر آج تک موجود ہیں۔ سوویت یونین کا انہدام اس سارے عمل کا منطقی نتیجہ تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان کودھمکی دی گئی کہ وہ امریکہ کا ساتھ دے ورنہ اسے پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ دھمکی کا پاکستان نے کیا مطلب اخذ کیا یہ الگ بات اقوام متحدہ اور عالمی برادری عالمی امن کے نام پر یہ کارروائی کر رہے تھے اس لئے پاکستان نے عالمی برادری کا احترام کرتے ہوئے ایک بار پھر امریکہ کا ساتھ دیا۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو امریکی پالیسیوں کو انسان دوست تصورنہیں کرتے۔ افغان جہاد میں بہت سے پاکستانی شریک رہے تھے۔ امریکہ نے ان جہادیوں کو امن دشمن قرار دیا تو پاکستان کے لئے داخلی مسائل بڑھنے لگے۔ نظریاتی اختلاف مسلح لڑائی میں بدل گیا۔ بہت جلد وہ مقام آ پہنچا جہاں دہشت گردوں نے ریاست پاکستان کے مفادات اور اثاثوں پر حملے شروع کر دیے۔ ان حملوں کا نشانہ سکیورٹی ادارے‘ تربیتی مراکز‘ ہوائی اڈے‘ فوجی افسران‘ پولیس اہلکار‘ سیاسی رہنما‘ ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور خواتین بنیں۔آرمی پبلک سکول ‘ لاہور میں ایف آئی اے بلڈنگ‘ مال روڈ اور سی سی پی او آفس کے باہر دھماکے بدترین نشانیاں چھوڑ گئے۔ ہائی کورٹ کے سامنے 25سے زائد عام افراد اور وکلاء مارے گئے ۔ کراچی میں کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جن میں دہشت گردوں نے کاری وار کیا۔ پشاور‘ کوئٹہ ‘ اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں بھی حالات ایسے ہی دگرگوں تھے‘ پھرافواج پاکستان نے دہشت گردی کے سدباب کی خاطر آپریشن شروع کئے۔ شمالی اورجنوبی وزیرستان سے پہلے سوات میں آپریشن کر کے تحریک نفاذ شریعت کے نام پرتشدد کا سلسلہ بند کرایا۔ خیبر ایجنسی اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں آپریشن ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ہزارپاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ دس ہزارسے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کر کے ملک کو محفوظ بنایا۔ مسلح افواج کے اعلیٰ افسران سے لے کر عام سپاہی تک اس جنگ میں شہید ہوئے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اورسپاہی دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ اتنی جانوں کا نقصان معمولی بات نہیں مگر مثبت امر یہ ہے کہ ان شہادتوں نے ملک کو امن لوٹا دیا ہے۔ اس بار یوم دفاع ایسے حالات میں منایا گیا جب بھارت کی جانب سے ہمیں خطرات کا اندیشہ ہے۔ ان حالات میں نشان حیدر پانے والوں سے لے کر عام شہریوں کی شہادت کو یاد کرنا اور شہدا کے لواحقین کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ تنہا نہیں اور ان کے باپ‘ بیٹے اور بھائیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ زندہ قومیں اپنی بہادری کا جو نقش دنیامیں ابھارتی ہیں وہ شہیدوں کے لہو سے بنا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کے موقع پر لائن آف کنٹرول کا اکٹھے دورہ کیا۔ دونوں نے شہدا کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں۔ یقینا اس امرکو قومی سطح پر اتفاق رائے حاصل تھاجس کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستانی قوم نے بتایا دیا ہے کہ وہ اپنے لئے جان دینے والوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔پاکستانی قوم کے قابل فخر سپوتوں نے آزادی‘ وقار اور قومی ناموس کا تحفظ کرتے ہوئے شہادت جیسی اعلیٰ سعادت پائی۔ شہدا کے پیش نظر ایک ارفع مقصد تھا۔ پاکستانی قوم یہ عزم کرتی ہے کہ کسی دشمن نے مہم جوئی کی تو کروڑوں پاکستانی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سینہ سپر ہو جائیں گے۔