اسکرین پر جو آواز میں لگاتا ہوںیا پھر قلم کی گھسائی میںماضی کی تاریخ میں ذرا تفصیل سے جاتا ہوں تو ’’اسلام آباد‘‘ سے شائستہ انداز میں گاہے بہ گاہے تنبیہہ ملتی ہے کہ کیا اس سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔اپنے محدود علم کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی انکساری سے گوش گزار ہوتا ہوں کہ جو قومیں اپنے ماضی کے تلخ و ترش واقعات و سانحات سے آنکھیں چراتی ہیں یا اُس پر ’’سچ‘‘ سننے تلملاتی ہیں اُس کے سبب تاریخ بار بار نہ صرف اپنے آپ کو دہراتی ہے بلکہ انہیں روندتی ہے۔بدقسمتی سے اس میں ہمارے ماضی کی سویلین اور فوجی حکومتیں کم و بیش برابر کی شریک اور ذمہ دار ہیں۔ بھٹو صاحب نے اپنے دور ِ اقتدار میں جو ریت اپنے مخالفین کے خلاف ڈالی اُسے پی پی ہی نہیں ،ساری سیاسی جماعتیں بھگت رہی ہیں۔اسی طرح فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا پہلا مارشل لاء ،غاصب جنرل یحییٰ خان کا سقوط ڈھاکہ میںکردار اور جنرل ضیاء الحق کے شریعتی مارشل لاء کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔سیاسی قائدین ہوں یا تجزیہ نگار یا پھر دفاعی تجزیہ نگار ہوں یا سابقہ جنرل۔۔۔جب بھی ماضی کے بارے میں بولتے اور لکھتے ہیں تو یہ معذرت کے ساتھ ’’آدھا سچ‘‘ہوتاہے۔اس ساری تمہید میں جانے کا سبب بصد احترام یہ ہے کہ ’’کشمیر‘‘ پر ہمارے حکمرانوں نے ’’شور و غوغا‘‘ تو بہت مچایا۔ مگر عملاً ہم نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس سے بھارت کے سفاکانہ شکنجے میں جکڑے ایک کروڑ 20لاکھ کشمیریوں کی آزادی کی بات تو چھوڑیں،کم از کم اُن کے مصائب و آلام میں ہی کمی آتی۔ نوے کی دہائی اور پھر مشرف کے دورِ حکومت میں جب پاکستان اور بھارت کی سرکاری سطح پر قربیتں اور دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا تو ٹریک 2پالیسی کے سبب مجھ سمیت ایک صحافیوں کو اس بات کا پہلی بار امرتسر کے راستے ،جموں اور پھر مقبوضہ کشمیر دیکھنے کا معجزاتی موقع ملا۔کشمیر کی وادیٔ جنت نظیر کے بارے میں برسوں سے سنا تھا مگر دیکھ کر اگر ایک طرف دل مسرور ہوتا تو دوسری طرف کشمیریوں کی حالت ِ زار دیکھ کر آنکھیں نم رہتیں۔وادیٔ کشمیر کا ایک ایک فرد جس والہانہ انداز میں ہم سے مل رہا تھا اُسے بیان کرنے کے لئے قلم کو خون کے آنسوؤں سے ڈبونا پڑے گا اور جس کے بعد ہی یقین ہوا کہ۔۔۔بھلے سا ل نہیں صدیاں گز ر جائیں،کشمیری کبھی بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول نہیں کریں گے۔گزشتہ کالم میں ،میں نے پنڈی سازش کیس فیم جنرل اکبر خان کی 1948کی مہم جوئی کا ذکر کیا تھا۔جو انہوں نے اپنے مٹھی بھر تربیت یافتہ اور چند سو پُر جوش قبائلی چھاپہ ماروں کے ساتھ لڑی تھی۔یہ بھی درست ہے کہ اگر پنڈی سے عسکری اور افرادی کمک پہنچ جاتی تو سرینگر پر سبز ہلالی پرچم بھی لہرایا جاتا۔مگر ایک تو اُس وقت ہماری نوزائدہ فوج کی کمان انگریز جنرلوں کے ہاتھ میں تھی۔دوسرے تذبذب کا شکار سیاسی قیادت ،پھر جنگجو قبائل چھاپہ مار وں نے سرینگر نہ پہنچنے کا جو بدلہ اطراف کے علاقوں کے کشمیریوں پر اتارا ،اُس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ بہر حال اس سے بعد کے برسوں میں دونوں طرف کے کشمیریوں اور پاکستانی قیادت کے درمیان اعتماد کے فاصلے بڑھے۔یقینا اس بات کا کریڈٹ چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کو جائے گا کہ انہوں نے 1965میں ایک بار پھر ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو ساری دنیا میں زندہ کیا۔’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کی ’’آپریشن کارگل‘‘ سے حیرت ناک طور پر بڑی مماثلت تھی۔’’آپریشن کارگل ‘‘ کے مقابلے میںبہر حال ’’آپریشن جبرالٹر ‘‘میں ہماری اُس وقت کی سویلین اور فوجی قیادت ایک پیج پر تھی۔ تحریک ِ آزادی ِ کشمیر کی تاریخ میں جاتے ہوئے بہر حال1965ء کی جنگ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہوسکتی تھی۔بھارت کی طویل اسیری کے بعد اُس وقت کے مقبول ترین کشمیری رہنما شیخ عبداللہ پاکستا ن آئے تو انتہائی رازداری سے ’’آپریشن جبرالٹر ‘‘ کا منصوبہ تیار کیا گیا۔شیخ عبداللہ اپنی تین دہائی کی قربانیوں کے سبب اُس وقت ’’شیرِ کشمیر‘‘ کہلائے جاتے تھے۔آپریشن جبرالٹر کے تحت یہ حکمت ِ عملی تیار کی گئی کہ ایک طرف شیخ عبداللہ کی مسلم کانفرنس سرینگر سمیت وادی ِ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جلسے ،جلوس اور ریلیاں نکالے گی تو دوسری طرف آپریشن جبرالٹر کے تحت تربیت یافتہ پاکستانی گوریلے ٹکڑیوں کی صورت میں کشمیر میں داخل ہوجائیں گے۔آپریشن کا آغاز جولائی 1965ء میں ہوا۔مگر جب گوریلوں میںشامل چند پاکستانی فوجی افسران گرفتار ہوئے تو بھارت کو اس بات کا موقع مل گیا کہ جہاں وہ اقوام متحدہ سمیت ساری دنیا کے فورموں پر واویلا مچاتے وہیں’’رن کچھ‘‘کی جنگ میں پسپائی کے بعد بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے فوج کو حکم دیا کہ وہ جب سمجھے پاکستان پر حملہ کردے۔آپریشن جبرالٹر کی کمان جنرل اختر ملک کے ہاتھ میں تھی۔’’چھمب اور اکھور‘‘دو ایسے محاذ تھے جن کو فتح کرنے کے بعد جنر ل اختر ملک کا منصوبہ تھا کہ وہ سرینگر میںبیٹھی حکومت کی کمر توڑ دیں گے۔مگر اُس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ نے جنرل اختر ملک کو طے شدہ بین الاقوامی حدود پار نہ کرنے کا حکم دیا۔ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘کی ناکامی نے بھارتی حکمرانوں کو اس بات کا موقع فراہم کردیا کہ وہ 6ستمبر کو لاہور پر حملہ کر کے پاکستان کو ایک ایسا سبق پڑھائیں کہ جس کے بعد ’’کشمیر‘‘کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کو کس حد تک شکست یا فتح ہوئی ،دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ابھی تک سربستہ راز ہے۔ایوبی آمریت کے خاتمے کے ساتھ ہی جنرل یحییٰ خان کا غاصبانہ دور اور پھر 1970کے الیکشن کے نتائج کی صورت میں ’’سقوط ِ ڈھاکہ ‘‘پہ در پہ ایسے واقعات و سانحات تھے کہ کشمیر کاز کیلئے انتہائی پُر جوش قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے پورے دور ِ اقتدار میں اس بات کا موقع ہی نہیںملا کہ وہ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘جیسی کسی ’’مہم جوئی‘‘کی سرپرستی کرتے۔ بھٹو صاحب کے ذاتی اور نظری مخالف بھی یہ تسلیم کرتے ہیںکہ کوئی بھٹو جیسا پاپولر ،سحر انگیز ،بین ا لاقومی شہرت یافتہ مدبر کشمیر کی آزادی میںکلیدی کردار ادا کرسکتا تھا۔بھٹو صاحب جب پھانسی کی کوٹھڑی میں تھے تو اُن کے بدترین مخالف ممتا ز دانشور الطاف گوہر نے جو انگریزی اخبار ڈان کے ایڈیٹر ہوگئے تھے ۔ ۔ ۔ بھٹو صاحب کے ایک جذباتی بیان کے جواب میں اداریہ لکھا تھا : ’’پہاڑ نہیں روتے۔‘‘مگر ساری دنیا نے دیکھا کہ بھٹو صاحب کو جب پھانسی پر 4اپریل 1979میںلٹکایا گیا تو ’’لاڑکانہ ‘‘ میں تو کسی کی نکسیر نہیں پھوٹی مگر کشمیریوں کی آنکھوں سے بھی خون ٹپکا اور ہمالیہ پہاڑ پر پگھلتی برف سے بھی ایک سیلاب نے سارے کشمیر کو اپنی لپیٹ میںلے لیا۔ (جاری ہے)