مولانا یہ حلوہ نوش فرمائیں‘ دیکھئے ذرا سا بھی گھی الگ سے جمع نہیں۔ سوجی کا ہر دانہ اچھی طرح بھنائی کے بعد پھول کر اپنے حجم میں آیا۔ رنگت سنہری ہوئی اور پھر اسے اتنا دیسی گھی ملا کہ دانہ دوسرے دانے سے الگ تو ہوا لیکن حلوہ یکجان رہا۔ کمال یہ کہ آپ ہاتھ سے تناول فرمائیں ، مجال ہے کہ انگلیوں پر حلوے کا کوئی نشان رہ جائے۔ سارا نوالہ سہولت کے ساتھ دہن تک بھاگتا چلا جاتا ہے اور زود رفتار اس قدر کہ آپ نے دو تین بار چبایا اور یہ فوری معدے میں جا اترا۔ ذرا بھاری پن پیدا نہیں کرتا۔ آپ یہ ضرور لیں۔ مولانا ادھر بھی دیکھئے‘ کھوئے میں تلی گاجروںکے لال رنگ سے رکابی بھری ہوئی ہے۔ اوپر چاندی کے ورق نے سبحان اللہ کیا روپ نکالا ہے۔ یہ گاجر کا حلوہ ہے۔ لوگوں کے لیے گاجر حلوے کا موسم نہیں‘ آپ تو جانتے ہیں‘ ہم موسموں کا انتظار نہیں کرسکتے۔ اپنے ہی کھیت پر کنٹرول کنڈیشنز میں اگائی گئی گاجریں ہیں‘ یہ آج کل بازار سے ملنے والی بے مزہ اور بے رنگ گاجر نہیں ۔ پہلے ان گاجروں کے بارے میں عرض کردیتا ہوں جو کھانے کے بعد پیٹ میں درد نہیں کرتیں۔ گاجریں ہمارے خطے میں سینکڑوں برس سے کھائی جا رہی ہیں۔ کوئی آٹھ سو سال پہلے ابن سیار نے مسلم معاشروں میں دستر خوانوں پر پیش کئے جانے والے 600 مختلف کھانوں پر ایک کتاب تصنیف کی۔ گاجر کو اس نے جذار احمر لکھا ہے۔ عربی تحریروں اور ثقافتی تاریخ سے تو آپ واقف ہوں گے۔ گیارہویں صدی میں اندلس میں مقیم ایک عرب ابن العوام نے سرخ اور پیلی گاجروں کا ذکر کیا ہے۔ ابن العوام زراعت پیشہ عرب تھا۔ انیسویں صدی میں اس کا کام سپینش اور فرانسیسی زبان میں شائع کیا گیا۔ سرخ گاجر میں باقی اقسام کی نسبت لائسوپین کا جزو زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جو چند عشرے پہلے ہم کھیتوں سے نکال کر تازہ سرخ گاجریں کھایا کرتے تھے وہ بیٹا سویٹ کہلاتی ہیں۔ مغربی اور مشرقی اقسام کا ملاپ۔ آپ کے روبرو جو حلوہ دعوت تناول دے رہا ہے وہ اسی بیٹا سویٹ نسل کی گاجروں کو مقدس پانیوں سے دھو کر انگلینڈ سے درآمد کٹلری سے کاٹ کر محبت بھرے ہاتھ والے باورچیوں نے کش کی۔ خالص دیسی گھی میں بگھارا فکر نہ کریں۔ ہم نے شوگر فری چینی استعمال کی ہے۔ پستہ اور کشمش آپ کو نیا ذائقہ دیں گے۔ لیجئے‘ جی پوری رکابی آپ کے لیے ہے۔ حضرت میں جانتا ہوں‘ آپ کھانا جانتے ہیں‘ آپ پینے کے سو مشروبات سے واقف ہیں۔ آپ کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ مولانا کو بات کرنا اور کھانا آتا ہے۔ اس قدر طویل سیاسی خدمات کے دوران بھلا آپ نے کیا کچھ نہیں کھایا ہوگا۔ عرب و عجم کے کیا کیا ذائقے آپ کے حلق سے اترے۔ اللہ اکبر۔ میں آپ کی بات سنوں گا۔ ہم پی ڈی ایم کے مستقبل کی بات کریں گے۔ اب مسلم لیگ ن کی جانب سے جو کردار ادا کرنا ہے وہ میرے ذمہ ہے۔ مریم بیٹی غیر معینہ مدت کے لیے گوشہ نشین سمجھیں۔ لندن سے آپ کے جو لین دین کے امور ہیں وہ اب میری تسلی کے بعد آگے بڑھیں گے۔ آپ نے کتنے لوگ کس جلسے میں بلائے اور ان پر کیا خرچ آیا‘ یہ رسیدیں مجھے بھیجیں گے۔ میں حسابات چیک کروں گا۔ خیر ابھی دال کا حلوہ باقی ہے۔ یہ ایک ہاتھ پرے ہمارے آرگینک پیٹھے سے تیار فرحت بخش حلوہ آپ کی توجہ کا طلبگار ہے۔ کھجور اور کھوئے کا حلوہ بھی قوت بخش ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ حلوہ کھانے والے آتے رہتے ہیں اس لیے ہم نے ایسے ماہر باورچی اور حلوائی رکھے ہیں جو مہمانوں کے پیٹ تک صرف حلوہ نہیں پہنچاتے، حلوے کی گرماہٹ‘ نرماہٹ اور لذت کے ساتھ لپیٹ کر ہماری بات بھی پہنچا دیتے ہیں۔ آپ سمجھ تو گئے ہیں نا میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں؟ حضرت آپ پی ڈی ایم کی فکر چھوڑیں۔ پی ڈی ایم اب پرانی بات ہوگئی۔ آپ نے دیکھا نہیں برخوردار حمزہ نے جنوبی پنجاب کا دورہ حال ہی میں کیا ہے۔ حمزہ نے پی ڈی ایم کی بجائے مسلم لیگ کی بات کی۔ مسلم لیگی کارکنوں سے ملا اور جلسوں میں مسلم لیگ کی سیاست پر بات کی۔ اب اگر پی ڈی ایم کی بات کی جاتی تو جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی کے لوگوں سے ملنا پڑتا‘ آپ کے حامی بہت کم سہی لیکن دوچار لوگ تو وہ بھی آ جاتے۔ پیپلزپارٹی والے کچھ شرائط رکھتے‘ آپ والے بھی کچھ لیے بنا کیسے شریک ہوتے۔ آگے انتخابات ہیں۔ پنجاب میں ماحول ون ٹو ون کا ہے۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن۔ پیپلزپارٹی کے پاس جنوبی پنجاب میں نشستیں تو نہیں لیکن ووٹر ہیں۔ ہم ان ووٹروں کو اپنی صف میں شامل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ اگلے انتخابات میں متحدہ اپوزیشن نام کی کوئی مخلوق پنجاب اسمبلی میں نہ رہے۔ مسلم لیگ ن اکیلی حکومت میں ہو گی یا اکیلی اپوزیشن۔ یہ چیک کون سے ہیں؟ بڑے میاں صاحب کے تو کوئی بینک اکائونٹ ہی نہیں۔ ہو سکتا ہے ہمارے کسی منیجر یا کسی فرنٹ مین ایم پی اے، منشی یا اس قبیل کے کسی بندے نے آپ کو گمراہ کیا ہو۔ خرچے بہت ہو گئے ہیں‘ عدالتوں میں پیشیاں۔ آپ تو جانتے ہیں تھانے کچہریوں کی تو دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں۔ اوپر سے ہسپتالوں کے اخراجات۔ کاروبار کورونا نے کھا لیا۔ پولیس اور نیب والے پریشان کرتے ہیں۔ ان حالات میں کچھ میڈیا والوں کی فرمائشیں الگ۔ آپ حلوہ کھائیں۔ سوجی کا حلوہ‘ گاجر والا حلوہ‘ دال کا حلوہ‘ کھجور۔پیٹھے اور کھوئے کا حلوہ۔ ارے آپ کدھر جا رہے ہیں۔ آپ کے ساتھی بھی باورچی خانے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ ارے رے۔ یہ حلوے کی دیگوں کو کیوں الٹا رہے ہیں۔ ایسا مت کریں۔ آپ اپنی پلیٹ نکال لیں۔ باقی دیگ رہنے دیں۔ کسی اور کے کام آ جائے گی۔ مولانا غصہ نہ کریں۔ آپ حلوہ کھائیے۔ مقوی‘ فرحت بخش‘ لذیذ‘ خوش ذائقہ حلوہ۔