فورسز نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 2دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ کیپٹن سمیت 3اہلکار شہید ہو گئے۔ادھر ژوب میں افغان سرحد سے کئے گئے دہشت گردوں کے حملہ میں ایف سی کے4اہلکار شہید اور 6زخمی ہو گئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان افغانستان میں مستقل قیام امن کا خواہشمند ہے اور اس کے لئے مسلسل ہر طرح کی سیاسی و سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ ملکی سطح پر وہ سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کو مکمل کر رہا ہے۔ ژوب میں بھی جس وقت افغان سرحد سے کارروائی کی گئی ،شہید ہونے اور زخمی ہونے والے ایف سی اہلکار باڑ لگانے میں ہی مصروف تھے۔ باڑ کی تنصیب ہی سے علاقے میں دہشت گردوں کی آمد کو روکا جا سکتا ہے لیکن افغان حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں کسی تعاون کی بجائے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو علاقے کا امن خراب کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن ان تمام حالات کے باوجودپاکستان سرحد پر باڑ لگانے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اب جبکہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں ،تو دہشت گرد‘ ان کے بہی خوا ہ ، سہولت کار اور افغان مسئلے کو حل نہ ہونے دینے کے خواہشمند چاہتے ہیں کہ حالات یونہی بدامنی کا شکار رہیں۔ یہی وہ موقع ہے جس میں ہماری فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر رہی ہے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔