شہر اوکاڑہ کی پہچان و جان یا تو حضرات اولیائے کرمانوالہ شریف رحمۃ اللہ علیہم ہیں یا حضرت سیدی شیخ القرآن علامہ غلام علی اشرفی قادری اوکاڑوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں ۔آپ کا شمار اہل سنت کے اکابر علما اور اعاظم مشائخ میں ہوتا ہے ، آپ کا اسم گرامی’’ غلام علی اشرفی قادری‘‘ کنیت ’’ابوالفضل‘‘تھی ،آپ 11جون 1920ء بمطابق ماہ رمضان 1338ہجری بروزجمعتہ المبارک موضع ببانیاں ،نزد دلالہ موسیٰ ضلع گجرات میں علم دوست ،دینی شعوررکھنے والے گوجر گھرانے میں پیدا ہوئے آپ نے اپنے گاؤں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور دینی تعلیم کا آغاز مناظر اسلام مفتی شیخ محمد عبداللہ صاحب علیہ الرحمہ سے کیا ‘بعد میں حزب الاحناف لاہور کی شاخ جالندھر سے مولانا حافظ عبدالمجید گورداسپوری مرحوم سے ابتدائی فارسی کی کتب پڑھیں اورابتدائی صرف ونحو کی کتب علامہ عبدالقادر کاشمیری صاحب سے پڑھیں ‘ پھر استاذ العلماء حضرت علامہ عبدالجلیل ہزاروی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر تمام کتب درسیہ متد اولہ پڑھیں ۔ہزاروی صاحب کی نظر نے جلد ہی آپ کو کندن بنادیا یہاں تک آپ نے 1938ء میں موقوف علیہ تک تکمیل کی اورہوشیار پور کے مولانا غلام یاسین دہلوی مرحوم کے کہنے پر کچھ عرصہ کے لیے اپنے استاد حضرت صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر تقریر اور مناظرے میں مہارت تامہ حاصل کی ۔حضرت مولانا غلام علی اوکاڑوی صاحب نہایت سادہ طبیعت،خوش اخلاق اور جید عالم دین تھے ‘ آپ کو اپنے زمانہ طالب علمی میں ہی کتب اسلامیہ کے مطالعے اور تحقیق کا جنونی شوق تھا اور آپ اُس زمانے میں بھی فضولیات سے بچ کر اپنا زیادہ تر وقت مطالعے میں گزارتے اُس وقت آپ کے زیر مطالعہ اکثر کتب تفاسیرو حدیث رہتیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوعلامہ مفتی ابوالبرکات سید احمد صاحب الوری علیہ الرحمہ سے شرف بیعت حاصل تھا،ان کے علاوہ پیر طاہر علاؤالدین الدین گیلانی بغدادی علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ و اعمال ،قطب مدینہ شیخ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ سے سلاسل اربعہ،قاہرہ کے شیخ سید حسین قادری شازلی سے سلسلہ شاذلیہ کی اجازت و خلافت،شام کے مشہور شیخ محمد رمضان بوطی کردی خالدی نقشبندی نے بالخصوص سلسلہ خالدیہ کی اجازت حاصل تھی۔آپ نے اولاً دورانِ تعلیم ہی جامع مسجد شیخاں ضلع ہوشیار پور میں خطابت اختیار کی،ہوشیار پور کی مسجد شہر کی سب سے بڑی مسجد تھی اس مسجد میں آپ دوسال تک خطیب رہے پھر لالہ موسیٰ اور پھر وہاں سے گوھڑی منتقل ہوگئے اسی دوران جلال الملت محدث حافظ سید جلال الدین صاحب علیہ الرحمہ کے ارشاد پر چیلیاں والا کے قریب نواں پنڈ میں مشہور مناظر عنایت اللہ شاہ گجراتی سے نہایت کامیاب مناظرہ ہوا اور آپ فتح سے ہمکنار ہوئے ‘1949ء تک یہیں قیام رہا پھر قیام پاکستان کے بعد 49ء میں ہی ستلج کاٹن مل کے افسروں اور مزدوروں کی دعوت پر دینی مصلحت کے تحت اوکاڑہ تشریف لے آئے اور یہاں آکر بھی صبح و شام درس قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع کردیا آپ کے پہلے شاگردوں میں آپ کے داماد مولانا اشرف جلالی مرحوم اور خطیب پاکستان مولانا شفیع اوکاڑوی صاحب علیہ الرحمہ ہیں۔ خطیب پاکستان کی تحریک پر ہی فروری 1954ء کو جی ٹی روڈ اوکاڑہ پر جامعہ حنفیہ دارالعلوم اشرف المدارس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس سے ہزاروں علماء فیض یاب ہوکر پوری دنیا میں دین متین کی خدمت کررہے ہیں۔ آپ کی علمی و دینی خدمات میں سرفہرست دارالعلوم کا قیام ہے جہاں سے کئی جید علماء بن کر نکلے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن فہمی پر مہارتِ تامہ عطا فرمائی آپ کا درس قرآن سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے آپ ہر سال درس قرآن میں نئے نئے نکات اور علم و جوہر کے موتی بیان فرماتے اسی وجہ آپ کو ’’شیخ القرآن ‘‘کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اِس کے علاوہ آپ کے پاس پوری دنیا سے افتاء آتے تھے اور آپ اِن کا مدلل اور تسلی بخش جواب عطا فرماتے تھے جب کوئی سائل آپ کو کچھ نذرانہ دینا چاہتا تو آپ منع فرما دیتے اور فرماتے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میری سوانح میں یہ لکھا جائے کہ’’ نہ میں فتوی فروش ہوں، نہ تعویذ فروش ہوں نہ ضمیر فروش ہوں اور نہ دین فروش ہوں یہ اس لیے کہتا ہوں کہ بعد والی نسل اسے پڑھ کر اچھا تأثر لے اور اہل علم اپنی زندگیوں کو محض اللہ کے دین کے لیے وقف کردیں ‘‘ آپ کا اندازِ خطاب عام واعظوں کی طرح نہیں تھا بلکہ آپ کا بیان زیادہ تر کتاب و سنت سے ہی اخذ شدہ ہوتا تھا اہل سنت کو دلائل شرعیہ اور مخالفین کے مسلمہ اصولوں سے مُبرہن کرتے اوراِصلاحی وا عتقادی مسائل پر نہایت حکمت سے مواعظِ حسنہ فرماتے ۔آپ کو عربی زبان پر مکمل دسترس حاصل تھی آپ عرب شریف میں جاکر فصیح عربی میں خطاب بھی فرماتے تھے آپ کا تحریک تحفظ عقیدہ ختم نبوت میں بھی نمایاں حصہ و خدمات ہیں جیسا کہ(۱۔)آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم کے ساتھ مل کر قادیانیوں کے خلاف بل پاس کروایا اور پھر اسلامی دفعات کی تدوین میں مدد کی(۲۔)دستورِ پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروانے کا سہرا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کے سر ہے آپ فرماتے ہیں کہ تمام اپوزیشن پارٹیز کی طرف سے اس کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں اہل سنت کی طرف سے علامہ عبدالمصطفی ازہری، علامہ عبدالستار خان نیازی، حضرت مولانا غلام علی اوکاڑوی صاحب رحمہم اللہ تعالیٰ رکن تھے قبلہ اوکاڑوی صاحب نے اپنے بے پناہ علم، دینی فراست، حاضر دماغی کا لوہا منوایا اور مسلمان کی متفقہ تعریف اسمبلی میں داخل ہوئی اور منظور ہوگئی۔1974ء میں جب قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تو حضرت شیخ القرآ ن نے مجاہدانہ کرادار ادا کیا ۔آپ کو جمیعت علماء پاکستان پنجاب کا صدر بنایا گیااور کئی سالوں تک آپ اسی عہدے پر قائم رہے ۔ملک میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفاذ کا نعرہ لگاتے ہوئے پہلی بار لاہور اور اوکاڑہ سے جمیعت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر قومی وصوبائی اسمبلی کیلئے الیکشن لڑا، 1977ء مارشل لا کے دور میں داتا دربار لاہور گرفتاری پیش کی ۔تمام تر علمی ،تحریکی ، تنظیمی مصروفیا ت کے باوجود تصانیف کا اتنا ذخیرہ نہیں چھوڑا مگر جتنا ہے وہ بھی کمال ہے ۔ ملک پاکستان میں سب سے پہلے آپ نے عربی میں اصول تفسیر پر کتاب ’’اشرف التحریر ما یتعلق با صول التفسیر ‘‘لکھی جو عرب و عجم میں بہت مقبول ہوئی۔آپ کے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔آپ نے 11صفر المظفر 1421ھ بروز منگل بمطابق 16مئی 2000ء کو جناح ہسپتال لاہور میں صبح تقریباً ساڑھے سات بجے وصال فرمایا۔آپ کا عرس مبارک کا ہر سال اشرف المدارس جی ٹی روڈ اوکاڑہ میں ماہ صفر کی 11،12کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔