لاہور(جنرل رپورٹر) مدینہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین میاں محمد حنیف، 92 نیوز کے سی ای او میاں محمد رشید اور میاں محمد عثمان کے والد محترم معروف صنعت کار اور سچے عاشق مدینہ منورہ حاجی محمد سلیمؒ، ان کے چچا حاجی محمد رفیقؒ اور حاجی نثار احمدؒ مدفونین جنت البقیع شریف کے ایصال ثواب کیلئے محفل کا انعقاد کیا گیا، محفل میں مہمان خصوصی سجادہ نشین غوث اعظم شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نقیب الاشراف پیر سید ہاشم الگیلانی شریک ہوئے ، محفل میں مفتیان کرام اور دیگرافراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، سٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی فاروق القادری نے ادا کیے ۔ محفل میں سجادہ نشین شیخ عبدالقادر گیلانی نقیب الاشراف پیر سید ہاشم الگیلانی نے نماز مغرب کی امامت بھی کی ۔ گزشتہ روز علی فاطمہ ٹیچنگ ہسپتال کے احاطے میں ہونے والی محفل میں چیئرمین مدینہ فاؤنڈیشن میاں حنیف ، گروپ ایڈوائزر 92نیوز اسلم ترین، مفتی اقبال چشتی، سید شمس الرحمان مشہدی، علامہ صداقت علی زیدی، علامہ اشفاق احمد، جسٹس نذیر اختر، سید حامد فاروق، مولانا ذوالفقار، ذوالفقار مصطفی ہاشمی ، مفتی خلیل احمد یوسفی، ڈاکٹر طاہر حمید تنولی ، مفتی طاہر تبسم ، ڈی جی محکمہ اوقاف پنجاب طاہر رضا بخاری، پروفیسر سعید احمد خان ، ڈاکٹر محمد شاہ کھگہ، ڈاکٹر سعید بغدادی، ڈاکٹر یونس رضوی، ڈاکٹر نوید ازہراور ڈاکٹر یوسف عرفان اور کثیر تعداد میں دیگر افراد شریک ہوئے ۔محفل میں تلاوت قرآن پاک امیر حمزہ اورقاری حبیب امجد نعیمی نے کی ۔معروف نعت خواں صغیر احمد نقشبندی اور فیصل نقشبندی،نعت خواں اختر حسین قریشی نے ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ قاری ضمیر احمد نے شجرہ طریقت ادا کیے ۔ سجادہ نشین شیخ عبدالقادر گیلانی ؒ نقیب الاشراف پیر سید ہاشم الگیلانی نے محفل میں اپنی خصوصی خطاب میں شان اقدس میں کلام پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم الحاج سلیم کے ایصال ثواب کی پاک محفل میں شرکت کی ہے ۔ اللہ مرحوم کے درجات بلندفرمائے ۔ انہوں نے کہا کہ غوث اعظم شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے عراق میں بغداد شریف ہجرت کے لیے اپنے پیاروں کو دین کے حصول کے لیے چھوڑا۔ گیلان ایران سے بغداد شریف اللہ تعالی کی قربت کے حصول کیلئے چھوڑا جب وہ بغداد شہر کے داخلی دروازے پر پہنچے تو ایک بوڑھے شخص نے عبدالقادر گیلانیؒ سے پوچھا کہ کیا تم شیخ عبدالقادر گیلانیؒ ہو تو آپ نے ہاں میں جواب دیا ،تو اس بوڑھے شخص نے کہا کہ تم کو کس نے بغداد شہر آنے کی اجازت دی ہے ۔ شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے کہا کہ میں اس شہر میں حصول علم دین کے لیے آیا ہوں۔ شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے بوڑھے شخص سے کہا کہ بغداد شہر آنے کیلئے اجازت کی کیا ضرورت ہے ؟ بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ جب تک اجازت نہیں مل جاتی آپ شہر کے اندر داخل نہیں ہو سکتے ۔شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نے شہر میں داخلے کی خاطر اجازت کے لیے وہیں پر ایک سال تک انتظار کیا، اس قیام کے دوران آپ نے مشکل وقت گزارا۔ایک سال بعد وہی بوڑھا شخص آیا تو شیخ عبدالقادر گیلانیؒ سے پوچھا کہ تم ابھی تک یہیں ہو۔آپ نے کہا کہ میں شہر داخل ہونے کی اجازت کا انتظار کر رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا آؤ میرے ساتھ چلو آج داخلے کی اجازت مل گئی، وہ بزرگ شیخ عبدالقادر گیلانیؒ کو ایک مدرسے میں لے گئے جہاں ابو حماد عباس کے سامنے پیش کیاجن کو حضرت خضر علیہ السلام نے شیخ عبد القادرگیلانیؒ کی بغداد آمد کے بارے میں بتایا تھا۔ انہوں نے مزید کہاکہ غوث اعظم شیخ عبدالقادر گیلانیؒ کی اصل نصیحت یہ ہے کہ اگر کسی کو کوئی مشکل ہو تو میرے دروازے پر آئے خالی ہاتھ نہیں لوٹو گے ، اس کو سیراب کیا جائے گا۔ شیخ عبدالقادر گیلانیؒ سب لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ محفل کے اختتام پر سجادہ نشین شیخ عبدالقادر گیلانیؒ نقیب الاشراف پیر سید ہاشم الگیلانی نے سلام پیش کیا۔بعد ازاں شرکا میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا ۔