رحیم یار خان؍ صادق آباد؍ اسلام آباد؍ لاہور (خصوصی رپورٹر؍ نامہ نگار؍ خصوصی نیوز رپورٹر؍سپیشل رپورٹر؍لیڈی رپورٹر؍ وقائع نگار خصوصی؍ نیوز رپورٹر؍ سٹاف رپورٹر) مسافر ٹرین کھڑی مال گاڑی سے جاٹکرائی، 21 افراد جاں بحق، 104 زخمی ہوگئے ،جاں بحق ہونے والوں میں پاک فوج کے دو جوان ،دو ریلوے ملازم اور ایک انجینئر بھی شامل ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز علی الصبح 4 بجے لاہور سے کوئٹہ جانیوالی اکبر ایکسپریس ولہار کے قریب لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے جاٹکرائی جس کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کا انجن ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا جبکہ 3 بوگیاں مکمل تباہ ہوگئیں جبکہ ایک کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ابتدائی طور پر مسافروں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو باہر نکالا۔ حادثہ کے ایک گھنٹہ بعد ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا جو کہ 10 گھنٹے جاری رہا، پاک فوج اور پنجاب رینجرز کے دستوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا،بیشتر مسافر بوگیوں میں پھنسے ہوئے تھے جنہیں بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا، اس دوران 14 افراد کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ 70 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال شفٹ کیا گیا ۔ اکبر ایکسپریس کی بچی ہوئی 5 بوگیوں کو انجن لگا کر کوئٹہ کیلئے روانہ کردیا گیا ۔ مال گاڑی کی بھی تینوں تباہ ہونیوالی بوگیوں کا ملبہ ٹریک سے ہٹا دیا گیا۔ اکبر ایکسپریس کا ملبہ اٹھانے پر 8لاشیں مزید ملیں جس پر مرنے والوں کی تعداد 21 جبکہ زخمیوں کی تعداد 104ہوگئی۔ تحصیل ہسپتال صادق آباد اور شیخ زاید ہسپتال رحیم یارخان میں ایمرجنسی نافذ رہی۔ شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد زخمیوں کو خون دیتی رہی۔ مسافروں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پانی اور کھانا فراہم کیا گیا۔ ہسپتالوں میں ہر زخمی کے ساتھ ایک پولیس اہلکار بطور تیمار دار فرائض سر انجام دے رہا ہے اور ورثاء کے آنے تک اہلکار ڈیوٹی دے گا۔جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کیلئے سکھر ڈویژن میں انفارمیشن سیل قائم کردیا۔ایڈیشنل جنرل مینجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ریلوے ذرائع نے بتایا حادثہ اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کی غلطی کے سبب پیش آیا۔شاہ کوٹ سے نمائندہ92نیوز کے مطابق ٹرین حادثہ میں جاں بحق افراد میں سے 4کا تعلق شاہ کوٹ کے ایک ہی خاندان سے ہے ۔ڈاکٹر بشیر اپنی اہلیہ سکول ٹیچر ریحانہ بشیر، بیٹوں محسن بشیر،شیراز بشیر،شعیب ،ذیشان اور بیٹی سنبل کے ہمراہ کراچی شادی میں شرکت کے لئے جا رہے تھے کہ حادثہ پیش آگیا،حادثہ میں ڈاکٹر بشیر، ان کی اہلیہ ریحانہ بشیر اور انکے دو جوان بیٹے محسن بشیر اور شیراز بشیر جاں بحق ہوگئے جبکہ شعیب، ذیشان اور سنبل معجزانہ طور پر محفوظ رہے ۔وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ جبکہ شدید زخمیوں کو 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 2 لاکھ روپے دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہااکبر ایکسپریس انسانی غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہوئی، اس میں کانٹے والا ملوث ہے جبکہ ٹریک کی صورتحال تسلی بخش نہیں تاہم حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، انسپکٹر ریلوے تحقیقات کرینگے ۔انہوں نے مزید کہا ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتاہے ۔ریلوے ترجمان کے مطابق ریلوے کی اپ اینڈ ڈاؤن کی ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے ۔صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی، وزیراعظم عمران خان نے حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریلوے حکام کو حکم دیا کہ کئی دہائیوں سے پرانے ریلوے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی حادثے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے جاں بحق افراد کے غمزدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اﷲ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور غم زدہ خاندانوں کو صدمہ حوصلے اور صبر سے برداشت کرنے کی توفیق دے ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا اور دعا کی کہ اﷲ تعالی مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور ریلوے ٹریک حادثات کا باعث بن رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں، نااہلی اور ترجیحات نہ ہونا صرف تباہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کیلئے موت بھی لارہا ہے ، کسی کو کوئی پرواہ ہے نہ فکر، یہ سنگدلی نہایت حیران کن ہے ۔مسلم لیگ(ن) کے سینئر نائب صدر،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ حادثہ کی تحقیقات کرائیں جائیں، اسباب ومحرکات سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیاجائے ۔ انہوں نے کہا ادائیگیوں سے بات نہیں بنے گی، اصل حقائق تک پہنچنا ہوگا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت ریلوے حادثات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے ۔قائم مقام گورنر پنجاب پرویزالٰہی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مملکت زرتاج گل و دیگر نے بھی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ۔