سخت مشکل تھی مگر نام خدا سے پہلے رکھ دیے ایک طرف میں نے سہارے سارے آج میرا دل چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نہایت ہی دلچسپ معلومات شیئر کروں تجربہ بتاتا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر آپ کو کئی برے ڈاکٹروں سے بچا دیتا ہے مگر اس ڈاکٹر کو آپ اپنا دوست رکھتے ہوں ۔تو جب علی الصبح میں سیر کو نکلا تو معروف عالم دین اور دانشور ڈاکٹر خضر یاسین مل گئے وہ برہان احمد فاروقی کے شاگرد خاص تھے۔ مجھ سے والد گرامی کی علالت کے بارے میں پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ چھوٹا بھائی احسان اللہ شاہ انہیں لاہور لے آیا تھا کہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کروانا ہے۔ احتیاطاً میں نے اپنے پیارے دوست ڈاکٹر محمد امجد کو فون کیا اور اس حوالے سے آگاہ کیا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔ میرا اتنا بتانا تھا کہ ڈاکٹر خضر یاسین کو جیسے جھٹکا سا لگا۔ میرا ہاتھ دباتے ہوئے وہ گویا ہوئے۔ یار !آپ نے اچھا کیا کہ مشورہ کر لیا۔ میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں اور پھر’’ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگا ہو‘‘ بہرحال میں تو عبرت نگاہ ہوتا ہوتا بچ گیا۔ تھوڑے سے توقف کے بعد وہ کہنے لگے مجھے گیس وغیرہ کی شکایت تھی کسی کے کہنے پر ای سی جی کروائی تو گڑ بڑ نکل آئی۔ تشویش لاحق ہوئی تو ایک پرائیویٹ ہسپتال جا پہنچے کہ دل کا معاملہ ہے ذرا دکھالیں۔ انہوں نے خوشی خوشی مجھے فوراً داخل کرلیا۔ ای سی جی چیک کی اور تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب بھی آ گئے۔ چیک اپ کے بعد کہنے لگے کہ آپ کی انجیو گرافی ہو گی۔ میں گھبرا گیا دل میں وسوسے آنے لگے دماغ نے کام کیا تو خیال آیا کہ ای سی جی کے بعد یکم دم انجیو گرافی سمجھ میں آنے والی چیز نہیں۔ درمیان میں اور مرحلے بھی ہوتے ہیں۔ یہ تو یوں ہے کہ’’ کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے‘‘ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں گھر سے مشورہ کر لوں وہ کہنے لگے آپ کی طبیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ آپ دو دن تک یہاں سے ہل نہیں سکتے مختصر یہ کہ میں نے رات بڑی مشکل سے کاٹی اور زبردستی اپنا حساب کرایا دس بارہ ہزار روپے کا بل ادا کیا اور سیدھا کارڈیالوجی چلا گیا۔ وہاں میرا ایک شاگرد تھا اس نے میرے ٹیسٹ کئے اور کہنے لگا سر جی آپ کا دل تو بہت معصوم ہے اسے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ذرا سا گیس کا مسئلہ ہے اگر خضر یاسین صاحب یہ انقلابی قدم نہ اٹھاتے اور وہیں پرائیویٹ ہسپتال میں پڑے رہتے تو شاید آپریشن تک نوبت جا پہنچتی کہ ایسے ناہنجار ڈاکٹر جو مریضوں کے گردے نکال کر بیچ دیتے ہوں انہیں ایک معصوم دل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں کیا ہچکچاہٹ محسوس ہونا تھی۔ بس یوں سمجھیے کہ خضر یاسین کے بخت اچھے تھے۔ دوسری کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ ایک خاتون کو ڈاکٹر نے بتایا کہ بچہ اپریشن کے بغیر نہیں ہو گا خاتون گھبرا کر گھر آ گئی اور شام کو اسے نارمل پراسیس پر ہی بچہ پیدا ہو گیا تو وہ ڈاکٹر کو برا بھلا کہنے لگی۔ میں نے دوست کو بتایا کہ ڈاکٹر غلط نہیں تھا کہ اس بے چارے نے نارمل بچہ پیدا ہوتے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا۔ اب تو اکثر عورتیں کلینک میں آتی ہیں اور اپریشن کر دیا جاتا ہے۔ شاید یہ فیشن سا بن گیا ہے اور کہتے ہیں خاتون کی فگر بھی خراب نہیں ہونی چاہیے۔ اب بات ہو جائے والد گرامی کے دل کی کہ جو آٹھ دس سال پہلے بڑھ گیا تھا۔ اپنے والد گرامی سید نصراللہ شاہ کا علاج ایک بہت ہی لائق فائق ڈاکٹر حسن البنا سے کروانے کا قصد کیا وہ دیندار اور ادبی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ انہوں نے مرض تشخیص کر لی اور دوائیاں تجویز کر دیں اور کہا کہ صبح شام خوراک لینی ہے اور چلنا پھرنا کم ہے۔ ہوا یوں کہ والد گرامی نے چھ سات سال تک دوائی چکھی تک بھی نہیں۔ انہیں دوائی کھانے کو کہتے تووہ منطق سے بات کرتے ہوئے کہتے کہ جو دوائیاں کھا رہے ہیں وہ کوچ کرتے جا رہے ہیں۔ ہم بھی خاموش رہے وقت گزرتا گیا۔ پھر طبیعت خراب ہوئی تو حسن البنا کے پاس لائے وہ حیرت زدہ رہ گئے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ پھر ہم کیا کریں ہسپتال بند کر دیں۔ انہوں نے پھر فرض نبھایا اور ایک نسخہ لکھ دیا مگر وہ نسخہ ہی رہا۔ اب والد صاحب بہاولپور کارڈیک سنٹر میں داخل رہے۔ دوائیاں کھانے لگے اور لاہور آ کر کہنے لگے ڈاکٹر حسن البنا سے ملائیں۔ میں نے کہا کہ دوائی تو آپ نے ان کی کبھی کھائی نہیں اب تو وہ آپ سے تنگ آ کر ریٹائر بھی ہو گئے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر محمد امجد نے اپنے شاگرد ڈاکٹر اعجاز کھرل کی ڈیوٹی لگائی کہ چیک اپ کرے انہوں نے والد صاحب کو پانی کم مقدار میں پینے کی تلقین کی ہے کہ دل کمزور ہے پمپ کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ اب والد صاحب کہتے ہیںپانی تو کم لوں گا مگر کولڈ ڈرنکس پانی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ آدھ لیٹر سیون اپ پی جاتے ہیں جو کا دلیا ان کے لئے بہت مفید ہے تو وہ ہنس کر ایک محاورہ سناتے ہیں۔ آکڑ کے مرجانا۔ دلیا نہیں کھانا۔ چپ پٹے کھانوں کا اپنا مزہ ہے۔ مصیبت یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر تو دوائی لکھ دیتا ہے مگر کھانی تو مریض کو ہوتی ہے اور سمجھدار مریض اکثر یہی چاہتے ہیں کہ دوائی کے بغیر ہی آفاقہ ہو جائے۔ اس لئے وہ کوشش کرتے ہیں کہ ڈاکٹر بدل کر دیکھیں۔ ڈاکٹر بدلنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کانٹا بدل کر ایک نئے سفر پر نکل رہے ہوں۔ اکثر و بیشتر ڈاکٹر صاحبان پچھلے ڈاکٹر کی دوائیوں کو حقارت سے رد کر دیتے ہیں۔ پرانے نسخے پر خط تنسیخ پھیر کر نئی دوائیاں تجویز کرتے ہیں کہ مریض اب دوبارہ انہی ڈاکٹر صاحب کے پاس آئے گا۔ ایک نئی ہسٹری شیٹ شروع۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ بقول شہزاد احمد اب نبھانا ہی پڑے گی دوستی جیسی بھی ہے آپ جیسے بھی ہیں نیت آپ کی جیسی بھی ہے صرف سرکاری لیول پر ڈاکٹر بے نیاز نظر آتا ہے اور آنے والے مریضوں پر نظر التفات نہیں ڈالتا۔ پرائیویٹ لیول پر تو فوراً آشنائی بلکہ دلربائی ہو جاتی ہے کہ مریض جتنے بھی وزٹ کرے گا ڈاکٹر صاحب کی معیشت مضبوط ہو گی۔ ایک مریض نے اپنی کھانسی کا حال بیان کر کے ڈاکٹر صاحب سے کہا میری کھانسی ٹھیک کر دیں۔ میرے پاس فیس دینے کی سکت نہیں ڈاکٹر نے نسخہ لکھ دیا۔ مریض نے گھر جا کر نسخہ کھولا کہ بازار سے دوائی خرید لائے۔نسخے پر لکھا تھا جب کھانسی آئے تو کھانس لیا کرو۔ایک بزرگ بات کر رہے تھے کہ آپ دوائی کے مہنگا ہونے کی بات کرتے ہیں وہ کس طرح خریدنی ہے۔ لوگوں کے پاس تو اب آٹے کے پیسے بھی نہیں ہونگے کہ 70روپے کلو ہو گیا۔ لطف کی بات یہ کہ وزیر اعظم اس پر بڑے غصے میں ہیں اور وزیر اعلیٰ بزدار کہہ رہے ہیں کہ وہ آٹے کی گرانی برداشت نہیں کریں گے۔ وہ سچ ہی تو کہتے ہیں یہ گرانی تو عوام کی کمر توڑے گی۔ جالب صاحب یاد آئے کہ دس آنے کلو آٹا اس پر بھی ہے سناٹا۔ پیپلز پارٹی درست کہہ رہی ہے کہ حکومت غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین رہی ہے۔ حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے حکومت ان کو تقریبا 92ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے مگر تاجر منہ زور ہیں۔ ساغر درویش نے غلط نہیں کہا تھا: جس عہدمیں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے