خصوصی عدالت،پرویزمشرف کوسزا کالعدم قرار؛غیرحاضری میں سزاغیراسلامی ہے :لاہور ہائیکورٹ

منگل 14 جنوری 2020ء





لاہور (نامہ نگارخصوصی، این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر مملکت اور آرمی چیف جنرل(ر)پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دیدی جبکہ قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی اورغیرحاضری میں سزاغیراسلامی ہے ، کسی قانون اور اٹھارہویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 6 میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے آرٹیکل 6 میں ترمیم اور کریمنل لاسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976 کی دفعہ 9 اورکے تحت سنائی گئی سزا کو بھی کالعدم قراردیدیا۔گزشتہ روزجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی سزا، خصوصی عدالت کی تشکیل اور حکومت کی جانب سے غداری کیس درج کئے جانے کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی و قانونی تقاضے پورے کئے گئے نہ عدالت کی تشکیل اور مقدمے کے اندراج کیلئے مجاز اتھارتی سے منظوری لی گئی ۔عدالت نے ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کو بھی کالعد م قرار دیا۔پرویز مشرف نے اپنے وکلا خواجہ احمد طارق رحیم اور اظہرصدیق کے توسط سے خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کیخلاف ٹرائل اسکی عدم موجودگی میں کرنا غیر اسلامی، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ۔ کسی قانون کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا، پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کی تشکیل اور استغاثہ دائر کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ۔ سابق صدر کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کیخلاف استغاثہ دائر کرنے سے خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی قرار دی گئی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ سابق صدر کی درخواست منظور ہونے سے انکی سزا بھی ختم ہوگئی ،لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا، عدالتی معاون علی ظفر اور وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور پرویز مشرف کی درخواست منظور کر لی ۔ گزشتہ روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان عدالت میں پیش ہوئے اورخصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری اور ریکارڈ پیش کیا جبکہ عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کیخلاف کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ ایجنڈے کے طور پر پیش نہیں ہوا۔جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ کس تاریخ کو کابینہ کی میٹنگ ہوئی تھی؟۔ وفاق کے وکیل نے بتایا کہ 24 جون 2013 کو یہ کابینہ کی میٹنگ ہوئی تھی۔خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے ججز کی تقرری کے معاملہ پر دوبارہ کابینہ کی میٹنگ ہوئی۔یہ سچ ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔8 مئی 2018 کو خصوصی عدالت کے ایک جج کی تقرری کا معاملہ کابینہ میں زیر بحث آیا۔21 اکتوبر کو جسٹس یاور علی ریٹائر ہو گئے اور خصوصی عدالت پھر ٹوٹ گئی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ جسٹس شاہد کریم کو خصوصی عدالت کا رکن بنانے کیلئے وزارت قانون و انصاف نے نام تجویز کیا؟اس سے قبل کبھی بھی وزارت قانون و انصاف نے نام تجویز نہیں کیا۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے نے پرویز مشرف کیخلاف انکوائری مکمل کی۔ عدالت نے پوچھا کہ ایف آئی اے کی کتنے رکنی ٹیم نے پرویز مشرف کیخلاف انکوائری کی۔ عدالت کوبتایا گیا کہ 20 سے 25 افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے انکوائری مکمل کی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ان میں سے کتنے لوگ ٹرائل میں پیش ہوئے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صرف ایک فردسیکرٹری داخلہ صرف عدالت میں پیش ہوئے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ پھر انکوائری کی کیا قانونی حیثیت ہے ؟ بات تو الزامات کی ہے اس کو ثابت کرنے کیلئے گواہان شامل ہیں، ہم پوچھ رہے ہیں جو لسٹ آپ نے لگائی ہے ان میں سے کتنے گواہ عدالت میں پیش ہوئے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ نہیں کیا،اس حوالے سے متعلق ریکارڈ بھی موجود نہیں، یہی حقیقت ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ہوگیا کہ عدالت کی تشکیل پانچ برس بعد ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا یاکہ خصوصی عدالت کے ججز ریٹائرڈ یاترقی کرتے رہے ۔خالی ہونیوالی سیٹوں پرتعیناتیاں کرنے کامعاملہ کابینہ کے پاس آیاگیا۔ججزکی تعیناتیوں کے حوالے سے 2018میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ججزکی تعیناتیاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے کی گئیں۔ عدالت نے کہاکہ سمری میں توجسٹس نذر اکبرکی نامزدگی چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے کی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس شاہد کریم کی تعیناتی کے حوالے سے بھی ایسی کوئی سمری نہیں۔ عدالت نے کہا کہ آئین یا قانون کے تحت چیف جسٹس کو ججز کی نامزدگی کاکوئی اختیارہے ۔ایسا کوئی قانون موجود نہیں اور اس سے پہلے یہ روایت بھی نہیں تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ ٹربیونلز یا خصوصی عدالتوں کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت سے ہوگی۔ فاضل عدالت نے کہا کہ خصوصی عدالت کے ججز نے ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے کام نہیں کیا۔یہ ججز تو ٹرائل جج کے طور پر کام کررہے تھے ۔ بتایا جائے پنجاب کے کتنے ٹربیونلز اورخصوصی عدالتوں کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت سے کی گئی؟۔ ایف آئی اے کی انکوائری میں کتنے افسر پیش ہوئے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم،جسٹس ریٹائرڈ میاں اجمل،محسن حفیظ ،سید کمال شاہ،سردار حامدخان سمیت پینتالیس افراد پیش ہوئے ۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے انکوائری میں پیش ہونیوالوں میں سے توایک فرد بھی ٹرائل میں پیش نہیں ہوا۔اس صورتحال میں ایف آئی اے انکوائری کی کیاقانونی حیثیت ہے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس عدالت نے واضع کیا تھا کہ خصوصی عدالت کی کارروائی کا ذکر نہیں ہوگا۔انصاف کے تحفظ کیلئے گواہوں کاجائزہ لینا ضروری ہے ۔ وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ درج کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ وزیراعظم صدر مملکت کے نام پر کوئی بھی سمری تیار کریگا، وزیرا عظم چاہے تو وزارت خود رکھ کر سمری بھجوا دے یا کابینہ سمری وزیراعظم کے ذریعے صدر کو بھجوائے گی۔جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ اگر کابینہ کا کوئی ممبر نہ ہو تو پھر رولز آف بزنس چل ہی نہیں سکتے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو یا نیا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہئے تھا یا پرانے نوٹیفکیشن کی تصدیق کرتی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 6 میں معطلی، اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کئے گئے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ضیاء الحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے ؟ 12 صفحوں کی کتاب ہے ، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا، ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے ، 232 آرٹیکل کے تحت ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے ؟۔ اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تب کیا اس حکومت کیخلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایمرجنسی میں بنیادی حقوق معطل کئے جا سکتے ہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی لگائی جائیگی تو پھر عدالت اسکا تعین کریگی کہ کیا ایمرجنسی آئین کے مطابق لگی یا نہیں۔سلسلہ چل گیا نا جس کو جو چیز مناسب کرے گی وہ وہی کرے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔ فاضل جج نے کہا کہ آپ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی ہیت کو بدل دیا،اس کیساتھ ساتھ اپ نے ایمرجنسی کو شامل رکھا ہوا ہے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس میں اندرونی ایمرجنسی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ایسا کبھی ہو سکتا ہے پارلیمنٹ کے ذریعے عدالت کا دائرہ اختیار ختم ہو جائے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے ۔جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ مثال لے لیں، ضمانت کا تصور نہیں تھا، کیا عدالتوں نے اسکی تشریح نہیں کی، معاملہ آصف علی زرداری کے والد کے کیس میں طے کیا گیا۔ کیا کبھی جمہوری نظام میں عدالتوں کے دائرہ اختیار کو ختم کیا گیا ہے ؟۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ صرف آرٹیکل 6 کی حد تک قانون سازی کی گئی، اس کیلئے خصوصی عدالت قائم کی گئی ، عدالت سو موٹو کا اختیار استعمال کر سکتی ہے ۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ کسی ایک صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہو جائے تو کیا کیا جائے گا؟ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ صوبہ وفاقی کو لکھ کر بھیج سکتا ہے کہ ایمرجنسی غلط لگائی گئی۔ فاضل جج نے کہا کہ یہ تو آپ نے وہی بات کی جب کسی ایس یچ او کیخلاف شکایت آئے تو ایس پی درخواست کو اسی ایس ایچ او کے پاس انکوائری کیلئے بھیج دیتا ہے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی آپ کیلئے لائف سیونگ ڈرگ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ عدالتی تشکیل کا نوٹیفکیشن آپ پڑھ رہے ہیں، بتائیں عدالتی تشکیل کے فیصلے کی کابینہ میٹنگ کہاں ہے ؟ ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی تشکیل اور کمپلینٹ درج کرنے کے متعلق وفاقی کابینہ کی میٹنگ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، 20 نومبر کا ہی نوٹیفکیشن موجود ہے ،۔ جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ آپکے ریکارڈ کے مطابق عدالت کی تشکیل اور کمپلینٹ درج کرنے کا کوئی ایجنڈا ہے نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے ،یعنی سب کچھ 2 دن میں ہوا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو لگتا ہے سب کچھ واٹس ایپ پر ہوا، اس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیف جسٹس لاہور، گورنر پھر چیف جسٹس پاکستان پھر صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے ۔ جسٹس مسعود جہانگیر نے کہا کہ اس خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے مذکورہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے مذکورہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔فاضل عدالت نے قرار دیا کہ کیا ترمیم کے بعد کسی ملزم کو ماضی سے جرم کی سزا دی جا سکتی ہے ؟۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی قانون سازی کے بعد جرم کی سزا ماضی سے نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں مختصر فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا۔ دبئی (این این آئی)سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے خوش ہوں اور اب طبیعت بہتری کی طرف گامزن ہے ۔گزشتہ روزلاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل اور آرٹیکل 6 میں کی جانیوالی ترمیم کالعدم قرار دئے جانے کے حوالے سے سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے بیان میں کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی، ہائیکورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔ میری طبیعت بہتری کی طرف گامزن ہے اور صحت یابی کیلئے دعائیں کرنے پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں