مکرمی !یونیسکو نے1966ء میں باقاعدہ عالمی یوم خواندگی کو 8ستمبر کے دن ہر سال بچوں اور بالغوں دونوں کیلئے منانے کا اعلان کیا جوکہ آج تک دُنیا کے تقریباً ہر ملک میں منایا جاتا ہے۔کسی مہذب انسانی معاشرہ کی بنیاد ہی تعلیم ہے اورہر دور میں انسان کی سماجی، اخلاقی اور معاشی ترقی کا زینہ رہی ہے۔ تعلیم کی اہمیت اور خصوصیت سے کرہ ارض کے تمام باشعور انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر آگاہ ہیں کیونکہ ان میں اس شعور کا ادراک تعلیم ہی کی بدولت ہے۔خواندگی جس کی تشریح بنیادی طور پر پڑھنے لکھنے کے عمل سے کی جاتی ہے لیکن اس کی کسی متفقہ تعریف پر آج تک اتفاق نہیں ہوسکا اور اکثرممالک اپنے حالات کے مطابق خواندگی کی مختلف تعریفوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً بنگلہ دیش میں کسی بھی زبان میں پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد خواندہ کہلاتے ہیں۔اسی طرح کینیڈا میں نویں جماعت پاس فرد خواندہ کہلاتا ہے۔ انڈیا میں جو فرد تقریباً 40 الفاظ فی منٹ درست طریقے سے پڑھ اور دس الفاظ فی منٹ لکھ سکے اور 7 الفاظ فی منٹ کے حساب سے کسی بھی زبان میں املا لکھ سکے خواندہ کہلائے گا۔ انڈونیشیا میں خواندہ فرد کی جو تعریف کی جاتی ہے اس کے مطابق کوئی فرد جو حروف تہجی کو پہچان سکے۔ سادہ الفاظ پڑھ سکے اپنا نام اور دستخط کر سکے خط پڑھ اور سمجھ سکے یا کسی اخبار یا میگزین کا کوئی خاص حصہ پڑھ سکے خواندہ کہلائے گا۔نیپال میں چھ سال اور اس سے زائد عمر کا کوئی فرد جو کسی بھی زبان میں روزمرہ زندگی کے بارے میں ایک مختصر سا بیان پڑھ اور لکھ سکے خواندہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح ویتنام میں خواندگی کی تعریف تین پہلو ؤں پر بنیاد کرتی ہے۔ اول بغیر حروف تہجی کئے کوئی بھی شائع شدہ مواد پڑھ اور لکھ سکے، دوئم 45 منٹ میں بغیر زیادہ غلطیاں کئے 80 الفاظ تحریر کرسکے، سوئم گنتی کے چار اعداد کو پڑھ اور شروع کے دس اعداد کو لکھ سکے۔خواندگی کی تعریف کا جب ہم وطن عزیز میں جائزہ لیتے ہیں تو اس کی شرح کو ماپنے کے لئے جو تعریف استعمال کی جاتی ہے 1998 کی پانچویں مردم شماری میں خواندگی کی شرح کی پیمائش کیلئے کسی فرد کا اخبار پڑھ سکنے اور کسی بھی زبان میں ایک سادہ سا خط تحریر کر سکنے کی اہلیت مقرر کی گئی۔ یہ سب تعریفیں الفاظ کے استعمال سے بے شک جدا مفہوم کی حامل ہوں لیکن ان سب کا بنیادی مقصد صرف اور صرف تعلیم کے عمل کا فروغ اور اس کے لئے کسی خاص اہلیت کا تعین ہے۔ تا کہ فرد کو خواندہ کا خطاب مل سکے۔ (عابد ہاشمی ٗ آزاد کشمیر)