اسلام آباد(خبرنگار،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں(پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ) مخصو ص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے کی بجائے دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو الاٹ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن /پشاو رہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل اور سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے دائرکی گئی اپیلوں کی 25جون 2024کی سماعت کے حوالے سے 13رکنی فل کورٹ بنچ کے رکن جج ،مسٹر جسٹس اطہرمن اللہ نے چار صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ قلمبند کرتے ہوئے قراردیاہے کہ بادی النظرمیں سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کے انتخابی نشان’’بلے ‘‘سے متعلق کیس کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کو نااہل قراردینے کیلئے نہیں تھا،تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے اس فیصلے کی غلط تشریح کے ذریعے ایک بڑی سیاسی جماعت کوانتخابی عمل سے باہر نکالا گیاہے ،الیکشن کمیشن کا یہ عمل اس جماعت کے ووٹروں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے ، اس لئے 8 فروری کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو جو جو شکایات موصول ہوئی ہیں ،ان کا مکمل ریکارڈ عدالت کو پیش کیا جائے ،فاضل جج نے قلمبند کیا ہے کہ مخصوص نشستوں کا کیس صرف نشستوں کا ہی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا بھی کیس ہے ،الیکشن کمیشن مطمئن کرے کہ انتخابات میں تمام جماعتوں کو مقابلہ کے برابر کے مواقع دیئے گئے ہیں،الیکشن کمیشن تحریری طو رپر بیان دے کہ کیا انتخابی عمل سے پی ٹی آئی کو باہررکھنا ایک قانونی عمل تھا؟انتخابی عمل کی قانونی حیثیت سے متعلق متعددسوالات جڑے ہوئے ہیں،فاضل جج نے قلمبند کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے لاء افسر نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی بنیاد پرہی نااہل ہوئی ہے ، انکے دلائل کے بعد ووٹرز کی اہمیت اورحقوق پراثرات سے متعلق متعدد سوالات اٹھ گئے ہیں،فاضل جج نے قراردیاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی اس طرح کی غلط تشریح نہیں کی جا سکتی ۔انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے لاء افسر کے مطابق اس فیصلے کی تشریح کے تناظر میں ہی پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزادامیدوار قرار دیا گیا تھا ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا سارا ملبہ ریٹرننگ افسران پر ڈالنے کی کوشش کی ہے ،تاہم ریکارڈ کے مطابق امیدوار اپنی پارٹی وابستگی برقرار رکھنے کیلئے کوشش کرتے رہے ہیں، انہوں نے قراردیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سے انتخابی عمل کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں،فیصلے کی غلط تشریح کا نتیجہ ،ایک سیاسی پارٹی کو مخصوص نشستوں اور ووٹرز کو ڈس فرنچائز کرنے کی صورت میں نکلا ہے ،اس لئے الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر کرنے پر عدالت کو مطمئن کرے ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت’’مخصوص نشستوں کے مقدمہ ‘‘کا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر کرنے اور عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے براہ راست تعلق ہے ، انہوں نے قراردیاہے کہ ووٹروں کو من پسند پارٹی کو ووٹ دینے سے دور کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے ،جبکہ یہ عدالت اہم ترین معاملات میں محض’’تکنیکی نکات‘‘کی غلام نہیں بن سکتی۔سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کا آئینی اختیار موجود ہے ،اور یہ انتخابی عمل کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی ہے ،فاضل جج نے قراردیاہے کہ سپریم کورٹ کمرے میں موجود ہاتھی کو نظرانداز نہیں کر سکتی ہے ، اورعوام میں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ یہ عدالت الیکشن کمیشن کے شفاف انتخابات نہ کرانے میں ناکامی پراس کے ساتھ ملی ہوئی ہے ،خصوصی نشستوں کے معاملے کو فریقین کے دلائل تک محدود نہیں کیا جا سکتا ہے ،اور اس کیس کاباقی حالات سے ہٹ کر جائزہ ہی نہیں لیا جا سکتا ۔اصل سٹیک ہولڈرز(فریق )عوام ہیں جن کی اس وقت عدالت کے سامنے نمائندگی موجودنہیں ، عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا عدلیہ کی ذمہ دادی ہے ،فاضل جج نے رائے پیش کی ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر تمام آئینی درخواستوں کو بھی مخصوص نشستوں کے کیس کیساتھ یکجا کرکے سماعت کی جائے ۔