لاہور (محمد نواز سنگرا) نان پراسیکیوشن کی صورت میں ٹیکس کیس ہارنے پر چیف کمشنر ریجنل ٹیکس آفس اور متعلقہ کمشنرذمہ دار ہو گا،اس حوالے سے ملک بھر کے چیف کمشنر ز اور کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو وارننگ جاری کی گئی ہے ، ایف بی آر افسروں کی عدم پیروی کے باعث محکمہ اعلیٰ عدالتوں میں کیسز ہار جاتا ہے ۔ اربوں روپے کے کیسز ہارنے کے باوجود ایف بی آر کے ریجنل افسروں کی طرف سے مخصوص اور من پسند وکلا کو کیسز دیئے جاتے ہیں جبکہ کیسز کی تیاری نہیں کی جاتی ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام لارج ٹیکس پیئرز یونٹس،کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز، ریجنل ٹیکس آفسز،ڈائریکٹر جنرل آئی اینڈ آئی ان لینڈ ریونیو اور ڈائریکٹر جنرل ودہولڈنگ کو کیسز کی باقاعدہ پیروی،قابل اور تجربہ کار ٹیکس ایڈوائزرکو کیسز دینے ،بروقت فیسوں کی ادائیگی کیلئے مراسلہ جاری کر دیا۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے فیلڈ افسروں کی عدم دلچسپی اور عدم پیروی کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں کیسز ہار جاتا ہے ۔فیلڈ افسروں کو جاری مراسلہ نمبر C۔No۔1(3)SS(TO-II)/2018کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو کہ 14نومبر کو جاری کیا گیا جس کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں بڑی تعداد میں کیسز ہارنے کے باوجود زیادہ تر کیسز چند مخصوص قانون دانوں کو ہی دیئے جاتے ہیں۔ ٹیکس سے متعلقہ کیسز دیگر لائیرز کو بھی دیئے جائیں جو کہ ایف بی آر کے پینل پر ہیں۔ فیلڈ افسروں کی طرف سے وقت پر فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے اچھے اور قابل وکلا ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ لہٰذا قابل ،محنتی اور تجربہ کار لیگل ایڈوائزر کو وقت پر فیس ادا کی جائے جس پر وہ کیس کو اچھے انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ فیلڈ افسربااختیار ہیں کہ وہ ایف بی آر پینل پر موجود لیگل ایڈوائزرز کے علاوہ بھی ماہر قانون دانوں کی پروفیشنل فیس کے عوض خدمات حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کیلئے چیف کمشنرز کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز سے منظوری لینا لازم ہے ۔متعلقہ کمشنرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کسی بھی کیس میں پیش ہونے سے پہلے لیگل ایڈوائزر کو کیس کے متعلق مکمل بریفنگ دی جائے اور پوری تیاری کیساتھ عدالت میں پیش ہوا جائے تاکہ کیس جیت کر قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا جا سکے ۔لیٹر کے مطابق اس مسئلہ کی نشاندہی سپریم کورٹ کی طرف سے کی گئی ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے عدالتوں میں کیسز کی پیروی نہیں کی جاتی اور کیسز کی ناقص پراسیکیوشن کی وجہ سے ایف بی آرکیسز ہار جاتا ہے ۔