عام انتخابات 2024ء کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار 100 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 73 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام اب تک 2، 2 نشستیں اور مجلس وحدت المسلمین ایک نشست حاصل کرچکی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر خان نے تحریک انصاف کے پاس170 سیٹوں کا دعوی ٰکیا ہے ۔ان کے بقول 22سیٹوں میں سے 3 اسلام آباد4سندھ اور پنجاب کی 15 سیٹوں کے ان کے پاس فارم 45 موجود ہیں ۔جس کے مطابق ان کے حمایت یافتہ امیدوار جیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف حکومت بنائے گی، 135 سیٹوں کے قریب ہم پنجاب میں نشستیں حاصل کر رہے ہیں، پاکستان کے اداروں سے گزارش ہے کہ یہ عوام کی آواز ہے، سب سے درخواست ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے۔ 8فروری2024 ء کو ملک بھر میں عام انتخابات ہو چکے ہیں مگر ابھی تک کئی حلقوں کے رزلٹ نہیں آئے ،جس سے الیکشن کا پورا نظام مشکوک ہوتا جا رہا ہے ۔ پریزائنڈنگ آفیسر آر او آفس میں رزلٹ جمع کر وا چکے ہیں ۔جس طرح وقت گزرتا جا رہا ہے ،اسی تناسب سے الیکشن پر سیاسی جماعتیں سوال اٹھا رہی ہیں ۔اگر اس وقت تک موصول شدہ رزلٹ کو دیکھا جائے تو قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ تعدادپی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی ہے جبکہ پنجاب میں بھی ان کی اکثریت ہے ۔خیبر پی کے پی اسمبلی میں انھیں دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے،۔اس وقت تک جن سیٹوں کے رزلٹ روک رکھے ہیں، ان کے پاس فارم 45 آچکے ہیں، فارم 45 کے مطابق نتائج کا جلد از جلد اعلان کیا جائے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر امیدوار کو احتجاج کا حق تو ہوناچاہیے ۔ میاں نواز شریف نے بڑی جلدی میں حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے حالانکہ ان کے پاس اقلیت سیٹیں ہیں۔نئی مخلوط حکومت بنانے کیلئے میاں نوازا شریف کو 169 ارکان کی حمایت درکارہو گی۔ صدر ،چیئرمین سینٹ ، سپیکر سمیت بڑے عہدوں کیلئے پارٹیوں میں اتفاق رائے سے فیصلے ہونے چاہیئں ، نئے سیاسی منظر نامے میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان نئی رابطہ کاری کے کیا نتائج نکلیں گے ؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا ۔ماضی میں سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا تھا، جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔اب بھی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے منڈیٹ کو تسلیم نہیں کر رہے ۔اس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی ،جس کے اثرات ملکی معیشت پر پڑیں گے ۔ امریکا ‘ برطانیہ اوریورپی یونین نے پاکستان میں انتخابات کی شفافیت پر تشویش کا اظہارکردیا۔ یورپی یونین نے انتخابی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مستقبل کی حکومت آئین کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کرے۔برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈکیمرون نے پاکستان میں انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملرنے انتخابات میں دھاندلی اور مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ انتخابات میں اظہار رائے کی آزادی اور پرامن اجتماعات پر غیر ضروری پابندیاں لگائی گئیں‘امریکا بروقت اور مکمل نتائج کا منتظر ہے جو پاکستانی عوام کی مرضی کی عکاسی کریں۔ کامن ویلتھ مبصر گروپ نے پاکستان میں انتخابات پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ الیکشن عملے نے بہت پروفیشنل طریقے سے کام کیا۔ڈاکٹر گڈلک جوناتھن کا کہنا تھا ہم الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، پاکستان میں الیکشن اچھے ماحول میں ہوئے، بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے نکلے، نوجوانوں کی بڑی تعداد الیکشن مہم کے لیے نکلی۔مبصر گروپ کا کہنا تھا کہ ایک بڑی پارٹی کو نشان سے محروم کیا گیا جو غیر تعلیم یافتہ ووٹر کیلئے مشکل تھی، الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) بہترین کاوش تھی تاہم انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن نے مشکلات پیدا کیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ابتدائی مشاہدہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔چئیرپرسن فافن مسرت قدیم کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک میں دو برس سے جاری افراتفری کے بعد الیکشن ہوئے، یکساں مواقع نہ ملنے اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔فافن چیئرپرسن نے کہا کہ انتخابات سے ملک میں بے یقینی کا دور بند ہو گیا ہے، اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام کو یقینی بنائیں، امیدواروں کے نتائج پر تحفظات الیکشن کمیشن کو جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔فافن کا کہنا ہے کہ ملک میں ووٹر ٹرن آئوٹ 48 فیصد رہا ، 63 فیصد پولنگ اسٹیشن پر زیادہ ووٹر تھے،فافن کی رپورٹ کے مطابق ہی 29 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے باہر فارم 45 کی کاپیاں آویزاں ہی نہیں کی گئیں تھیں ۔حالانکہ الیکشن کمیشن نے پابند کر رکھا تھا کہ ہر پریزائنڈنگ آفیسر پولنگ کے باہر فارم 45کی کاپی آویزں کرے گا۔الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ رزلٹ دیر سے بھیجنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرے جبکہ سیاستدانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کااحترام کریں تاکہ جمہوری سسٹم مضبوط ہو سکے ۔