جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کی بحث سے قطع نظر پاکستان میں طرز حکمرانی کی نوعیت ہمیشہ ہی ارتکاز اختیارات کی حامل رہی ہے ۔ غیر جمہوری حکومتوں کے لئے تو یہ رویہ ایک جبر کے طور پر قابل قبول بنالیا جاتا ہے مگر منتخب سیاسی حکومتوں میں بھی جب اختیارات کا ارتکاز کسی خاص منصب تک محدود ہو، پارلیمنٹ،کابینہ اور دیگر نمائندہ ادارے محض تماشائی کا کردار ادا کرنے لگیں تو جمہوری سیاسی نظام اپنی قدر اور افادیت کھو دیتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری سیاسی نظام بالعموم شخصی مقبولیت (CHARISMATIC ) پر استوار رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اورعمران خان کی سیاسی (جمہوری ) حکومتیں شخصی مقبولیت کے زیر اثر رہی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تو سیاسی جماعت اور نہ پارلیمنٹ ایک ادارے کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم کرسکیں ۔مشاورت اور مشارکت کا ہر عمل محض رسمی کارروائی کے طور پر تو اختیار کیا جاتا ہے مگر درحقیقت سارے فیصلے شخصی ہی ہوتے ہیں۔ پھر ان فیصلوں کے نتائج اور اثرات سے قطع نظر حکومت اور جماعت کی سطح پر ان کا دفاع کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔پاکستان کے سیاسی نظام کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ اگر کچھ فیصلوں کے اثرات اور نتائج درست نہ بھی رہے ہوں تو ان سے مراجعت یا ان پر معذرت کے روئیے کی کوئی مثال مشکل سے ہی موجود ہو۔ جماعت یا پارلیمنٹ کی سطح پر غلط فیصلوں پر گرفت کے امکانات بھی اسی قدر معدوم ہیں۔سیاسی حکومتوں کے دور میں اس طرح کی بے شمار مثالیںموجود رہی ہیں ۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکسوں کے غیر منصفانہ نفاذ اور بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اطلاق پر پارلیمنٹ اور حکومت کی شریک سیاسی جماعتوں نے جس طرح ساتھ دیا ہے، اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کا پارلیمانی نظام عوامی مفاد کے بجائے مراعات یافتہ طبقات کے لئے فعال ہے ۔تنخواہ دار طبقہ کی آمدنی پر جس طرح درجہ بندی کرتے ہوئے ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے،اس سے ان کی مشکلات اور عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے ۔اسی طرح بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور ان کے ظالمانہ اطلاق سے بھی عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔تین سو یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کے وعدے تو کیا وفا ہوتے ( جو الیکشن کے دنوں میں عوام سے کئے گئے تھے) بجلی کی قیمت فی یونٹ اتنی مہنگی کردی گئی ہے کہ بجلی کا ہر ماہ کابل دہشت کا استعارہ بن گیا ہے۔بجلی کے بلوں کا یہ عذاب آئی پی پیز (I.P,Ps. ) کا پلایا ہوا ہے مگرکوئی پرسان حال نہیں ہے جو ان آئی پی پیز (I.P,Ps. ) سے کئے گئے عوام دشمن معاہدے کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرسکے۔ان معاہدات کو ختم کرسکے یا انہیں بدل سکے۔ ایک اخباری بیان کے مطابق ایک تاجر نے وفاقی حکومت سے بجا طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ ’’ وہ آئی پی پیز کے ساتھ تمام معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کرے ۔ بجلی کے بے تحاشہ نرخوں کی وجہ سے مختلف صنعتی شعبوں میں بندش کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے بیس کھرب روپئے کے کیپیسٹی چارجز (CAPICITY CHARGES )کی ادائیگیوں نے ملک کی معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کردیا ہے ۔حکومت فیصلہ کن اقدام اٹھائے اس سے پہلے کہ موجودہ مایوسی مکمل معاشی تباہی کی طرف لے جائے۔‘‘ حکمرانوں کے ظالمانہ فیصلوں کی قیمت ریاست اور اس کی عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔حکمرانوں کے مفادات تو شائد ریاست اور اس کی عوام کے بجائے ان آئی پی پیز سے جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ان معاہدات کی شرائط پر مہر بلب ہیں۔ مگر کیا عدالت عظمی اس عوام دشمن معاہدات پر ان کی گرفت نہیں کرسکتی ۔ بجلی فراہم کرنے والے یہ ادارے جب بجلی پیدا ہی نہیں کر رہے ہیں تو ا س کی قیمت کیوں ادا کی جارہی ہے یا پھر ان سے ادائیگی کے مطابق بجلی حاصل کی جائے تاکہ بجلی کی طلب پوری ہوسکے اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل سکے ۔ اس میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اگر کوئی امر مانع ہے تو اسے اب تک دور کیوں نہیں کیا جاسکا۔ کو ئی تو راستہ بہتری کی جانب جاتاہو گا ! بجلی کا بحران گزشتہ تیس سالو ں سے موجود ہے اس کا استقرار ناقص اور نااہل حکمرانی کا شاخصانہ ہے ۔اس دوران حکومتیں اگر ریاست سے اور عوام سے مخلص ہوتیں تو اسے اب تک مستقل طور پر حل کرلیا جاتا۔ صرف اس ایک مسئلہ کے پائیدار اور مستقل حل سے دیگر کئی مسائل بھی حل ہو چکے ہوتے ۔عام آدمی کی زندگی اجیرن ہونے سے بچ رہتی اور بجلی کی کمیابی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث جو صنعتیں بند ہورہی ہیں اور اس سے ملک کی پیداواری صلاحیت جس بری طرح متاثر ہوئی ہے وہ نہ ہوتی ۔برآمدات میں کمی اور بیروزگاری میں اضافہ سے جو سماجی اور معاشی نقصانات مسلسل ہورہے ہیں، ان سے بھی بچا جاسکتا تھا ۔حیف ہے حکمرانوں( سیاسی اور غیر سیاسی ) کی اہلیت،نیت اوراقتدار حاصل کرنے کی عجلت پر کہ وہ ان سالوں میں صرف یہ ایک مسئلہ بھی حل نہیں کرسکے۔ شائد وہ اس مسئلہ کو حل کرنا ہی نہیں چاہتے ۔ مگر اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے ۔بجلی کی بڑھتی ہوئی ہوش ربا قیمت اب برداشت سے باہر ہو چکی ہے ۔ اضطراب ،غصہ اور بے بسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی وقت بھی عوام کی طاقت بن کر حکمرانوں کے لئے سیلاب بلا نہ بن جائے۔ حکمران یہ بات جان لیں کہ اب محض وعدوں اور نعروں سے نہ تو عوام کو زیادہ دیر تک بہلایا جاسکے گا اور نہ ریاست مسائل کے گرداب سے نکل پائیگی ۔بڑھتے ہوئے مسائل کی پیچیدگی سے عو ام میں اضطراب اور انتشار جنم لے رہا ہے ۔ ریاست سے وابستہ امید کی لو مسلسل مدہم ہورہی ہے ۔اسے مزید کم نہ ہونے دیں ۔ ورنہ: پل بھر میں ہو رہے گا حساب نبود و بود پیچ و خم وجود و عدم اور کتنی دیر شام آرہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر