غبار خاطر ایک کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے، میری پسندیدہ کتابوں میں سے سرفہرست۔ جب بھی اسے پڑھوں کچھ نیا ضرور سیکھتی ہوں۔ ابوالکلام آزاد کا طرزِ نگارش اس قدر رچائو، لطافت اور کیف سے بھرپور ہے کہ نثر پڑھنے کا لطف آ جاتا ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جسے میں اکثر پڑھتی ہوں۔ کل ایک ریفرنس دیکھنے کے لیے دوبارہ سے ابوالکلام آزاد کی اس کلاسیک کتاب کو اٹھایا تو حسب معمول اس کی نثر نے مجھے پھر جکڑ لیا لیکن اس بار غبار خاطر کی ایک انوکھی خوبی میرے سامنے آئی اسی لیے میں نے سوچا کہ اس کلاسیک کا یہ نیا زاویہ جو میرے سامنے آشکار ہوا ہے اسے اپنے قارئین کے ساتھ بانٹوں۔ توقع یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ سے ہی موٹی ویشنل تحریروں اور کتابوں میں بہت دلچسپی رہی ہے۔ میں ایسی کتابیں اکثر خریدتی بھی رہتی ہوں۔ انٹرنیٹ پر بھی بے شمار کتابیں اور مواد اس پر میسر ہے وہ بھی پڑھتی رہتی ہوں اور اکثر ایسے موضوعات پر خود بھی لکھتی ہوں اور عملی زندگی میں بھی حسب توفیق کوشش کرتی ہوں کہ اگر کوئی مایوس ہے، زندگی میں کسی ناکامی سے دلبرداشتہ ہے، رشتوں کی بے وفائی سے الجھا ہوا ہے تو اس کو امید کا راستہ دکھائوں۔ شکر گزاری اور مثبت سوچ کا دروازہ اس کی زندگی میں کھولنے کی کوشش کروں۔ ابوالکلام آزاد کی غبارِ خاطر ایک حیرت انگیز موٹی ویشنل کتاب ہے۔ اگر کوئی مایوس ہے، زندگی میں مشکل وقت چل رہا ہے، ناکامی کا سامنا ہے تو اس کتاب کو پڑھیے آپ کو حیرت ہو گی کہ کیسے کوئی شخص قید تنہائی میں اور بیماری کی حالت میں بھی فطرت کی خوبصورتیوں سے امید کشید کر سکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے قلعہ احمد نگر میں اسیری کے دوران اپنے دیرینہ دوست نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن کے نام خطوط لکھے۔ قید تنہائی تھی اور پہرہ اس قدر سخت کہ اندر کی چیز باہر نہیں جا سکتی تھی۔ آس پاس کوئی ایسا نہ تھا جس سے بات چیت کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیا جاتا۔ مولانا نے ابوالکلام آزاد نے اس کڑے وقت میں اپنے دیرینہ دوست کے نام خطوط تحریر کرنا شروع کر دیئے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ خط ایام اسیری کے دوران مخاطب علیہ تک یہ خط پہنچنا ناممکن ہے لیکن انہوں نے یہ خطوط لکھنے کا راستہ اس لیے اپنایا کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالی جا سکے۔ میں تو اسے نفسیات کی زبان میں جرنل رائٹنگ تھیراپی کہوں گی۔ یہ باقاعدہ ایک تکنیک ہے۔ جس میں ذہنی دبائو اور ایگزائٹی کے شکار مریض سے کہا جاتا ہے کہ کاغذ اور قلم اٹھا کر جو کچھ اس کے دل میں ہے اسے لکھنا شروع کر دیں اپنی پریشان خیالی کو کاغذ پر منتقل کرنے سے ذہنی دبائو اور ایگزائٹی میں باقاعدہ کمی آتی ہے اور یہ عمل ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ اپنے مسائل کو کسی تھیراپسٹ کے سامنے بیان کر کے ہلکا پھلکا محسوس کریں۔ مولانا نے غیر ارادی طور پر اس تکنیک کو استعمال کیا۔ ایک طرف اردو پڑھنے والوں کو غبارِ خاطر کی صورت شاہکار نثر پڑھنے کو ملی۔ دوسری طرف قید تنہائی میں بھی وہ حد درجہ پرامید رہے۔ ایام اسیری میں وہ صبح اٹھ کر خط اپنے دوست کے نام تحریر کرتے تھے۔ ان خطوط میں وہ اپنے دلی احساسات بیان کرتے جیل کے حالات، صبح دم چائے پینے کی سرخوشی، تنہائی کی آزمائش، غرض، دل کی ہر بات خطوط میں لکھتے ہوئے غیر ارادی طور پر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے چلے جاتے ہیں۔ غبار خاطر پژمردہ دلوں اور زندگی کے مصائب سے گھبرانے والوں کو امید کا پیغام دیتی ہے۔ تاریکی کے عالم میں دیئے کی جلی ننھی لو سے ہونے والی روشنی کی طرح قاری میں ایک مثبت سوچ کی جوت جگا دیتی ہے۔ ہر حال میں سوچ کو مثبت رکھنے اور کانٹوں میں بھی بہار کی خو تلاش کرنا مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا متاثر کن پہلو ہے۔ ان کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ مفکر، فلسفی، مصنف، مدبر، سیاسی میدان کے شہ سوار، دینی علوم کا ذوق، ادیب اور مقرر۔ غبار خاطر اسیری کے جن ایام میں لکھی گئی ہے وہ مولانا کی زندگی کا کوئی پہلا قید و بند کا تجربہ نہ تھا۔ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ چھٹی بار ہے کہ میں اسیری کے دن گزار رہا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ وہ جب بھی قید و بند سے گزرتے ہیں تو اپنی آزاد زندگی کے شب و روز فراموش کر دیتے ہیں۔ بس پھر قید کے اسی ماحول میں اپنی خوشی تلاش کرتے ہیں۔ اس سے ان کی مائنڈ پاور کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اپنے داغ پر کسی قسم کی منفی سوچ کو غالب نہیں آنے دیتے۔ 9اگست 1962ء کی صبح ان کے گھر سے انہیں گرفتار کر کے قلعہ احمد نگر لایا جاتا ہے۔ وہ اس حادثہ کے چوبیس گھنٹوں کے بعد اپنا کاغذ قلم سنبھال کر خام فرسائی شروع کر دیتے ہیں اور تو اور پہلے خط میں اپنی گرفتاری کا سارہ منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’کار باہر نکلی تو صبح مسکرا رہی تھی نیم صبح کے جھونکے احاطہ کی روشی میں پھرتے ہوئے ملے‘‘ 27اگست 1962ء کو اپنے وقت کا یہ شہ دماغ جو خط مکتوب اپنے دیرینہ دوست کے نام لکھتا ہے، وہ امید و حوصلہ، اور مثبت سوچ کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس طویل خط کے چند اقتباسات نقل کر رہی ہوں دیکھئے کہ کیسی حیرت انگیز مائنڈپاور کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد قید تنہائی میں بھی شادمانی اور سرخوشی تلاش کر رہے ہیں۔ ’’عیش و مسرت کی جن گل شگفتگیوں کو ہم چاروں طرف ڈھونڈتے ہیں اور نہیں پاتے وہ ہمارے نہاں خانہ دل کے چمن زاروں میں ہمیشہ کھلتے مرجھاتے رہتے ہیں۔ جنگل کے مور کو کبھی باغ و چمن کی جستجو نہیں ہوئی اس کا چمن خود اس کی بغل میں موجود رہتا ہے۔ جہاں اس نے پرکھول دیئے ایک چمنستانِ بو قلموں کھل جائے گا۔‘‘ ’’جس قید خانے میں صبح ہر روز مسکراتی ہو، جہاں شام ہر روز پردۂ شب میں چھپ جاتی ہو، جس کی راتیں ستاروں کی قندیلوں سے جگمگانے لگتی ہوں، جہاں دوپہر ہر روز چمکے، شفق سامانوں سے خالی کیوں سمجھ لیا جائے۔ مصیبت ساری یہ ہے کہ خود ہمارا دل و دماغ ہی گم ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے باہر ساری چیزیں ڈھونڈتے رہتے ہیں کھوئے ہوئے دل کو ڈھونڈ نکالیں تو عیش و مسرت کا سارا سامان قید کی اسی کوٹھڑی میں سمٹا ہوا ہے۔ اسی طویل خط میں مزید لکھتے ہیں۔ ’’میں آپ کو بتلائوں اس راہ میں میری کامرانیوں کا راز کیا ہے؟ میں اپنے دل کو مرنے نہیں دیتا۔ کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو اس کی تڑپ دھیمی نہیں پڑے گی۔ باہر کے سارے سازوسامانِ عشرت مجھ سے چھن جائیں لیکن جب تک یہ نہیں چھنتا، میرے عیش و طرب کی سرمستیاں کون چھین سکتا ہے۔‘‘ (Count your blessing)کائونٹ یور بلیسنگ، اور مثبت سوچ کا کیا کمال نمونہ ہیں یہ خط!