میری گاڑی چل تو ٹھیک رہی تھی لیکن چھوٹے موٹے مسائل کی بھی نشاندہی کر رہی تھی۔سوچا کہ اس کا ابھی سے کوئی علاج کرا لیا جائے، پیشتر اس کے کہ یہ کھڑی ہو جائے اور میرے لیے باعث پریشانی بن جائے۔ ایسے حالات میں عموماً لاہور کے علاقے ’ ٹاوٗن شپ ‘ کا رخ کرتا ہوں جہاں ایک بہت بڑی جاپانی کار کمپنی کی ورکشاپ ہے۔ اس ورکشاپ کے جنرل مینجرکے ساتھ ہمارے بہت پرانے اور پیار بھرے تعلقات ہیں ۔ وہ اپنے دفتر میں چائے وغیرہ کے ساتھ ہماری خاطر تواضع کرتے ہیں اور ہماری گاڑی کا جو بھی کام ہو اپنی نگرانی میںکراتے ہیں۔ان کا دفتر بلڈنگ کی پہلی منزل پر واقع ہے۔ گراونڈ فلور پر ان کی ورکشاپ ، دیگر دفاتر اور گاڑیوں کو دھونے چمکانے کا ایک واشنگ شیڈ ہے۔ میں جب بھی اس ورکشاپ میں جاتا تھا تو واشنگ شیڈ میں موجود ’ زاہد ‘ کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی اور وہ مجھے نہایت ہی گرمجوشی سے خوش آمدید کہتا تھا ؛ اگر گاڑی کا کوئی اور کام نہیں ہوتا تھا تو وہ اسے دھونے چمکانے میں لگ جاتا تھا۔ آپ کسی کے گھر جائیں یا کسی دفترمیں اور اگر وہاں موجود کسی شخص کے چہرے پر خوشی آ جائے اور وہ آپ کو پر جوش انداز میں ملے تو وہ شخص آپ کو بہت اپنا سا لگنے لگ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ سے میں جب بھی اس ورکشاپ میں جاتا تو اکثر زاہد موجود ہی نہیں ہوتا تھا اور اگر موجود ہوتا تھا تو وہ ایک مسکراہٹ سے خوش آمدید کہنے کی کوشش تو کرتا تھا لیکن اس کی مسکراہٹ میں تھوڑے دکھ کی آمیزش جھلکتی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی افسردگی نے ڈیرے جما لیے تھے۔ اب وہ عموماً ورکشاپ میں ہوتا ہی نہیں تھا۔پوچھنے پر بتایا جا تا تھا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے گھر گیا ہے ، ابھی آ جائے گا۔کل جب میںجنرل مینجر کے دفتر میں بیٹھا چائے پی رہا تھا تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ گاڑی کا کام ہونے کے بعد اسے ’ زاہد ‘ سے دھلوا لونگا۔ زاہد کا پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ ورکشاپ سے باہر گیا ہے ، کچھ دیر بعد آ جائیگا اور آپ کی گاڑی دھو دے گا۔ اسی دفتر میں اس ورکشاپ کے ایک اور سینئر ملازم بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے بتایا کہ ’ زاہد ‘ کا بیٹا جو ابھی چھوٹا سا بچہ ہے دل کی ایک موذی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے اور ’ زاہد ‘ رات دن اسی پریشانی میں بھاگا پھرتا ہوتا ہے۔ میں ابھی دفتر ہی میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے دفتر کی کھڑکی کے شیشے سے ’ زاہد ‘ کا مسکراتا چہرہ نظر آیا جو میری طرف ہاتھ ہلا رہا تھا۔ اسے اندر بلایا گیا تو اس نے بتایا کہ آپ کی گاڑی دھل گئی ہے اور نیچے پورچ میں کھڑی ہے۔ میں بھی دفتر میں کافی دیر سے بیٹھا ہوا تھا سو واپس گھر جانے کے ارادے سے گراونڈ فلور کی طرف چل نکلا۔ گرانڈ فلور پر میری تازہ دھلی گاڑی کے ساتھ ’ زاہد ‘ کھڑا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے مسکرانے کی کوشش کی ۔ میں نے کہا کہ ’ زاہد ‘ سنا ہے آپ کا بیٹا بہت بیمار ہے۔ کہنے لگا جی سر میں بہت پریشان ہوں ، یہاں ورکشاپ میں بھی ہوتا ہوں تو کھٹکا لگا رہتا کہ اللہ خیر کرے اسے کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ میں نے کہا کہ اس کا علاج تو کرا رہے ہوںگے۔ کہنے لگا ، سر ! اب علاج کرانا غریبوں کے بس میں نہیں رہا ۔ سرکاری ہسپتالوںمیں غریبوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں ، ہاں البتہ دوائیوں اور ٹیسٹوں کی پرچیاں ہر روز اور ہر وقت ہاتھوں میں پکڑاتے رہتے ہیں۔ دوائیاں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ انہیں خریدنا غریب آدمی کے بس کی بات نہیں رہی ۔ یہی حالات ٹیسٹ کرنے والی پرائیویٹ لیبارٹریوں کے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹے کو ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کو دکھایا ہے اور اسے بڑی فیس دی ہے۔ اس نے میرے بیٹے کے لیے ٹیکے لکھ دئیے ہیں ۔ ایک صبح لگانا ہے اور ایک شام کو ۔ یہ ایک ٹیکہ چار سو روپے کا آتا ہے یعنی صرف ایک دن میں آٹھ سو روپے کے ٹیکے۔ ’ زاہد ‘ جوان ہے ، ادھیڑ عمر بھی نہیں ہے لیکن تھوڑے ہی عرصہ کی پریشانی نے اس کے چہرے سے ساری تازگی نچوڑ لی ہے۔ اس کی ہنسی میں بھی دکھ اور اداسی جھلکتی ہے۔ اسی موضوع پر ایک دوست سے بات کرتے ہوئے میں کہہ رہا تھا کہ چلو یہاں جن کے پاس پیسے ہوتے ہیں ، وہ تو یہاں کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں موجود اچھے ڈاکٹروں سے علاج کرا لیتے ہیں۔ کہنے لگے مت پوچھیں پرائیویٹ ہسپتالوں کے حالات ؛ ان کا اولین مقصد اُن کے پاس آنے والوں سے زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کرنا ہوتا ہے۔ پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ انھیں فوری طور پر ہسپتال کا کوئی کمرہ الاٹ کر دیا جائے۔ آپ حیران ہونگے کہ ان کے کمروں کے کرائے فائیو سٹار ہوٹلوں سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ انسان ایسے موقع پر پیسوں کا نہیں سوچتا اور اگر اس کا کوئی اپنا زندگی و موت کی کشمکش میں ہو تو اس کی اولین خواہش اپنے پیارے کی زندگی اور صحت ہوتی ہے چاہے وہ اسے اپنی ساری دولت دے کر بھی مل جائے۔بدقسمتی اپنے ملک کی یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہوتا ہے اور لٹا رہا ہوتا ہے تو تب بھی وہ صحت سے متعلق اداروں کی خود غرضی اور بے حسی کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔ دراصل اس ملک میں دو دنیائیں ہیں، ایک یہاں کے عام لوگوں کی اور دوسری اس ملک کے حکمرانوں کی۔ کسے معلوم نہیں کہ اس ملک کا حکمران طبقہ ( حکمران طبقے میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن کے پاس اس ملک میں اقتدار ہوتا ہے) اس ملک میں علاج نہیں کراتا۔ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ ممالک ہیں وہاں انسانی جان کو بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے اور اگر وہاں اُن کا کوئی شہری کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ علاج کرانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کا مکمل علاج وہاں کی ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ امریکہ کے ایک ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ایک پاکستانی ڈاکٹر سے میری بات ہو رہی تھی اور وہ بتا رہے تھے کہ کہیں بھی ، کوئی بھی شخص اگر کسی بھی ایمرجنسی کی وجہ سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جائے اور اسے کسی بھی امریکی ریاست کے کسی ہسپتال میں کوئی شخص پہنچا دے تو ایسے مریض کا علاج اسی وقت شروع ہو جاتا ہے بغیر یہ سوچے کہ اس کے علاج کا خرچہ کون دے گا ! اس شخص کے روبصحت ہونے کے بعد دیکھا جائیگا کہ کیا اس کے پاس صحت یا علاج سے متعلق کوئی انشورنس پالیسی ہے یا کیا اس پر خرچ شدہ رقم وہ خود ادا کر سکتا ہے ۔ اگر اس کے پاس اس قسم کی کوئی بھی چیز نہ ہو تو اس کے علاج پر خرچ شدہ تمام رقم ریاست اپنے پاس سے ادا کرتی ہے ۔ یہ ہوتی ہے ماں کے جیسی ریاست۔