روزنامہ 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کی غفلت اور ماہانہ وظائف کی بندش کے باعث خشت بھٹوں پر کام کرنے والے 93 ہزار سے زائد بچوں میں 50 ہزار سے زائد سکول چھوڑ کر دوبارہ والدین کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کیونکہ پنجاب حکومت نے 2018ء سے فی بچہ ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ بند کر دیا ہے۔ شومئی قسمت سے پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں مطلوبہ ہدف کے مطابق شرح خواندگی کے مطابق اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ 2016ء میں حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے مشقت کرانے کو قانوناً جرم قرار دیا تھا جس کے بعد ہزاروں بچوں کو ماہانہ وظائف، سکول یونیفارم اور تدریسی کتابیں فراہم کرتے ہوئے سکولوں میں داخل کرانے کا عمل شروع کیا گیا وطن عزیز میں 5 سے 16 سال کے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچے اب بھی سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ تعلیمی ناانصافی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف بچوں کی تعلیم کیلئے جاری منصوبوں کو برقرار رکھا جائے بلکہ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور اس کے تحت ایسا ایکشن پلان وضع کیا جائے کہ آج سے چھ سال کی عمر کا ہر بچہ 10 سال بعد کم از کم میٹرک تک تعلیم حاصل کر لے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ غریب بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع دیے جائیں۔لہٰذا سکولوں سے خشت بھٹوں پر واپس آنے والے بچوں کے وظائف بحال کئے جائیںاور انہیں یونیفارم اور کتابیں کاپیاں بھی فراہم کی جائیں تاکہ وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔