غزہ، برسلز،تل ابیب، نیویارک(نیوز ایجنسیاں) غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 4 بچوں سمیت 46 فلسطینی شہید ہوگئے ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شجاعیہ، المواسی اور مغازی کیمپ پر بم برسائے جس کے نتیجے میں 6 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں۔ بمباری سے متعدد فلسطینی زخمی بھی ہوئے ۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 40فلسطینی شہید جبکہ 224زخمی ہوئے ۔ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 37,834 افراد شہید اور 86,858 زخمی ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین نے حماس اور اسلامی جہاد کی تحریکوں کی مالی معاونت کے الزام میں 6 افراد اور 3 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یورپی کونسل نے بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں 3 کمپنیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان جعلی کمپنیوں کا مقصد حماس کو رقوم کی بہا میں سہولت فراہم کرنا ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی افواج کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے ۔یہ تصویر تامر نامی ایکس صارف نے پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے اسے مذکورہ تصویر Shmuel Assouline نامی اسرائیلی فوجی اہلکار کے انسٹاگرام اکانٹ سے ملی ہے جس میں سعودی عرب کے پرچم کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔مذکورہ وائرل تصویر میں سعودی پرچم کی بے حرمتی دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمان صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں مغربی کنارے میں آبادکاری میں توسیع کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں 5 یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی کے رہنمائوں اور عہدیداران پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ترجمان اقوام متحدہ اسٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے شجاعیہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد کم ازکم 60 ہزار فلسطینی بے گھر ہوگئے غزہ میں قحط کی صورتحال ہے ۔یو این کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے مطابق غزہ کے فلسطینی تباہ شدہ عمارتوں اور کیمپوں میں رہ رہے ہیں، غزہ میں کیمپوں کے قریب گندگی کے ڈھیر والے حالات ناقابل برداشت ہیں اور غزہ میں قحط شدت اختیارکررہا ہے جب کہ بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔