ملکی سیاسی نظام میں بعض سیاست دان اپنے حلقہ کو اہمیت نہیں دیتے ،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں یہ اپنے حلقہ سے غیر متعلق ہوکررہ جاتے ہیں،وہاں حلقہ میں سیاسی کلچر مضبوط نہیں ہو پاتا، انتخابات کے دِنوں میںرائے دینے والے (ووٹرز) کم تعداد میں گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن کا رُخ کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں ایسے حلقوں میں سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک مضبوط ہونے کے باوجود ، آزاد اُمیدوار کامیاب ہوجاتے ہیں۔ آزاد اُمیدواروں کی کامیابی کا ایک فیکٹر سیاسی جماعتوں سے وابستہ اُمیدواروں کا باربار پارٹی سے وفاداری بدلنا بھی ہوتا ہے۔پارٹیاں بدلنے والے سیاسی جماعتوں کے وو ٹ بینک کو مضبوط کرنے کے بجائے خود کو مضبوط کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ مگر یہ ایک مُدت بعد سیاست سے رفتہ رفتہ آئوٹ ہوجاتے ہیں۔کسی بھی سیاسی رہنما کے لیے ،اُس کی شناخت اور عزت کا حوالہ حلقہ ہی ہوتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات میں اقتدار میں آتی ہے تو وزارتِ اطلاعات کی ذمہ داری فواد چودھری کو سونپ دی جاتی ہے ،ابھی حکومت کی مُدت اقتدار کو ایک سال پورا نہیں ہوتا کہ اِن کو ہٹا کر فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی بنا دیا جاتا ہے۔قبل ازیں جب یہ مئی دوہزار سترہ میں پی ٹی آئی کو جوائن کرتی ہے تو اُس وقت مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ عمران خان بھی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی طرزِ سیاست کو اپنا رہے ہیں۔پاکستان تحریکِ انصاف کے بعض رہنما ،فردوس عاشق اعوان کو پارٹی میں لینے پر خوش دکھائی نہ دئیے۔ بعدازاں انہیں بعض الزامات کی بنیا دپر عہدے سے ہٹادیا جاتا ہے،آج یہ سیاسی منظر پر موجود نہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی سیاسی منظرنامہ میں عدم موجودگی اور سیاست میں تنزلی دَرحقیقت حلقہ سے نہ جڑنے کی وجہ ہے۔ یہ جس حلقہ سے دوہزارآٹھ میں فتح سمیٹتی ہیں ،و ہ پڑھے لکھے اور مالی طورپر آسودہ حال لوگوں کا حلقہ ہے۔ اس حلقہ میں غربت بالکل نہیں ،مڈل ایسٹ اور یورپ میں یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں،اس کے علاقہ کوٹلی لوہاراں میں ہر گھر کے تین سے چار افر اد ملک سے باہر ہیں۔یہ حلقہ ساٹھ فیصد کشمیری مہاجرین پر مشتمل ہے ،یہاںکی زرخیر ی کا عالم یہ ہے کہ اس کوتین دریا اور دو نہریں لگتی ہیں۔یہاں کی اہم فصلوں میں گندم اور چاول ہیں۔اس حلقہ میں تین بڑی برداریاں گجر، ارائیں اور اعوان ہیں ،یہاں ہمیشہ پی ایم ایل این کا ووٹ بینک موجود رہا ہے ۔تاہم اس حلقہ میں اُنیس سوپچاسی کے غیر جماعتی انتخابات سے دوہزار اَٹھارہ تک فتح مند ہونے والے تینوں خاندان پارٹیاں بدلتے رہے ہیں۔اس حلقہ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان دوہزار آٹھ میں تو جیت جاتی ہے ،مگر دوہزار تیرہ میں چودھری ارمغان سبحانی سے واضح شکست کھا جاتی ہے۔بعدازاں دوہزار اَٹھارہ میں یہ دوسری بار چودھری ارمغان سبحانی سے شکست سے دوچار ہوتی ہے۔ تاہم یہ دوہزار آٹھ میں، چودھری امیر حسین کو جو پانچ بار اس حلقہ سے منتخب ہوچکے تھے ،شکست سے دوچار کردیتی ہے، اگرچہ اس جیت کے کئی فیکٹرز تھے۔اوّل یہ کہ مسلم لیگ ن کا اُمیدوار (ادریس باجوہ )مڈل کلاس کا وکیل تھا،زیادہ وسائل نہ رکھتا تھاجبکہ چودھری امیر حسین کی پوزیشن مضبوط تھی ،اس کا اندازہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو تھا۔خواجہ آصف کی خواہش تھی کہ یہ سیٹ امیر حسین کو نہ ملے۔یوں پی ایم ایل این پی پی پی کی اُمیدوار (فردوس عاشق اعوان) کی دَرپردہ مدد کرتی ہے اور اپنے اُمیدوار کی انتخابی مہم بے دلی سے چلاتی ہے۔ دوم یہ کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوچکی تھی اور ووٹرز کی پی پی پی کی اُمیدوار سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ چودھری امیر حسین شکست کھاجاتے ہیں۔یہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی سیاست کا عروج تھا۔ (چودھری اَمیر حسین نے، میاں نعیم جاوید کے ساتھ مل کر دوہزار دو کے عرصہ میں ضلع کونسل کی پالیٹکس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو متعارف کروایاتھا) اس حلقہ سے چودھری امیر حسین دوہزار دو کا الیکشن جیت چکے ہوتے ہیں،اسی طرح اُنیس سوستانوے میں جب یہ حلقہ این اے چھیاسی تھا، چودھری امیر حسین کے ہاتھوں فتح ہوا تھا۔یہ حلقہ نوے فیصد دیہاتی علاقہ کا حامل ہے ،مگر یہ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقہ جیسا نہیں ،چونکہ یہ دیہات مالی طور پر آسودہ خاندانوں اور افراد پر مشتمل ہیں، اُن کے سوچنے اور ووٹ ڈالنے کا انداز جنوبی پنجاب کے دیہی علاقہ کے ووٹرز جیسا نہیں۔ چودھری اختر علی ،چودھری ارمغان سبحانی کے چچا ہیں ) عوامی سیاست کے قائل تھے،یہی انداز اِن کے بھتیجے میں بھی آیا ہے۔جبکہ فردوس عاشق اعوان نے دوہزار آٹھ کی فتح کے بعد حلقہ کی سیاست نہیں کی ، یہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے پارٹی بدلنے اور جوڑ توڑ کی سیاست کی طرف آجاتی ہیں۔اگر فردوس عاشق اعوان حلقہ کو اپنی شناخت بناتی تو آج سیاسی ساکھ کے ایوان میں بلند مقام پر ہوتیں۔