اسلام آباد (لیڈی رپورٹر) مولانا فضل الرحمن کے حکومت مخالف آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔ عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر من اللہ درخواست کی سماعت کریں گے ۔ مذکورہ درخواست شہری حافظ احتشام نے دائر کی ہے ۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری تعلیم ، سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اعلان کردہ دھرنا سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے ، پبلک مقامات اور سڑکوں پر احتجاج آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے اس لئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو آزادی مارچ اور دھرنا دینے سے روکا جائے ۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر فواد چودھری کی نااہلی کے لئے دائر درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو گی۔ ایک اینکر پرسن کی جانب سے دائر درخواست میں فواد چودھری پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں 62 ون ایف کے تحت نااہل قراردینے کی استدعا کی گئی ہے ۔ سی ایس ایس کے امتحانات میں کوٹہ سسٹم کے خلاف درخواست پرعدالت نے ریمارکس دئیے کہ میرٹ کا قتل کرکے کس طرح ترقی لائی جا سکتی ہے ، 1973 سے آج تک ترقی آ تو نہیں سکی۔بعد ازاں عدالت نے لارجر بنچ کی تشکیل کے لئے معاملہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کو بھجوانے کا حکم جاری کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے لئے دائر درخواست پروفاق سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔