لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اطلاعا ت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے ڈنڈا برداراحتجاج کیا تو اجازت نہیں دینگے ،ہمارے تاجروں سے مذاکرات کیلئے دروازے ہمیشہ سے کھلے ہیں ۔92نیوز کے پروگرام ہارڈ ٹاک پاکستان میں میزبان معید پیرزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعا ت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے تاجروں کے جو تحفظات تھے ان کو ہم نے ایڈریس کیا تھا، تاجررجسٹرہو نے کیلئے تیار نہیں۔با ت شناختی کارڈ پر رکی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایکسپورٹ 15 سے 20 فیصد جبکہ ریونیو میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے ، ہم نے تمام ری فنڈ ادا کردیئے ہیں،ماضی کی چیزیں ہم بھگت رہے ہیں۔ ملک میں پیاز کی قیمت 50روپے کلو،مرغی کا گوشت230روپے جبکہ 20کلو آٹے کا تھیلا 808 روپے کا ہے میں نے آج ہی تمام تر چیزوں کی قیمتوں کو دیکھا گیا ہے ۔ ہمارے تاجروں سے مذاکرات کیلئے دروازے ہمیشہ سے کھلے ہیں اوربات چیت کیلئے تیارہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے لانگ مارچ کیا تو ہمارے خلاف سخت کریک ڈائون کیا گیا ہم چاہتے ہیں کہ پرامن احتجاج کیا جائے لیکن اگر فضل الرحمان نے ڈنڈا برداراحتجاج کیا تو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ن لیگ کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تاجربرادری کے ساتھ بیٹھے انہیں اپنا ٹارگٹ دیں ان کے مسائل کو سمجھے ۔ مجھے لگتا ہے کہ ملک کو کوئی اور ہی چلا رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان نے تو ہمیں یہی کہا ہے کہ وہ پرامن احتجاج الیکشن میں دھاندلی کے خلاف کرینگے ، ہم ان کے پروگرام سے متفق ہیں تاہم دھرنے پر ہمارے تحفظات ہیں۔ہم نے پی ٹی آئی کو دھرنے کی اجازت دی اورانہیں آگے تک آنے دیا۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا کہ میں ایف بی آر سے گزشتہ 25 سال سے ملاقاتیں کررہے ہیں لیکن انہوں نے آج کہا کہ جائو جو کرنا ہے کرلو۔ میں کہتا ہوں کہ ایف بی آر کے لوگوں کا آڈٹ کرالیں ملک کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے ۔میں نے بھی عمران خان کو ووٹ دیا ہے ، حکومت کے وزرا اور ایف بی آر کے افسران دھمکیاں دیتے ہیں ۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایف بی آر کرپشن کا گڑھ ہے یہ خود ہی چورراستہ بتاتے ہیں۔ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج اندر معیشت اور باہر کشمیر ہے جس میں یہ فیل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے ٹاپ ٹین ٹی وی چینلز پر مولانا فضل الرحمن کی بات ہورہی ہے ۔حکومت یہی چاہتی ہے کہ ملکی مسائل مہنگائی چھپ جائے اور کوئی اس پر بات نہ کرے اوریہی ہورہاہے ۔