لاہور ( رانا محمد عظیم) حکومت کیخلاف تحریک چلانے کے چیمپئن مولانا فضل الرحمان کے اپنے خلاف خطرے کی گھنٹی بج گئی۔مولانا فضل الرحمان کے نئے اتحاد اور ان کی پارٹی کے اندر مولانا فضل الرحمان کیخلاف نہ صرف لابنگ شروع ہو گئی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں اتحاد اور پارٹی دونوں میں مولانا کیخلاف بڑے گروہ بن رہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے مولانا فضل الرحمان کو ان کی اپنی جماعت کے کئی اہم رہنمائوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کو حکومت کیخلاف نئی تحریک چلانے کے حوالے سے پارٹی کے اندر ہی مخالفت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے اندر ایک بڑے گروپ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ مولانا فضل الرحمان کا پہلا دھرنا حکومت کو گرانے کیلئے تھا یا نوازشریف کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھرنا ختم کرنے سے پہلے اپنی جماعت کے اہم رہنمائوں کو کہا تھا دسمبر میں مطالبات پورے ہو جائیں گے اور جلد ایک صوبے اور وفاق میں انہیں بڑا حصہ ملے گا تاہم تاحال ایک بھی مطالبہ پورا نہ ہونے اورسیاسی پوزیشن پھر زیرو پر آ جانے پر بھی جماعت کے اندر سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مولانا کے قریبی ساتھی نے انہیں کہا ہے آپ کے غلط فیصلوں سے حکمران ہیرو سے زیرو ہو گئے اور حکومت مزید مضبوط ہو گئی ہے ۔ ہم کارکنوں کو جن نعروں پر لیکر گئے تھے اب وہ ہم سے نالاں ہیں اور آئندہ کسی بھی تحریک کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں ۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چھ جماعتی اتحاد میں بھی یہ آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ اب کسی بھی تحریک کے آغاز اور خاتمے کا اعلان مولانا اکیلے نہیں بلکہ سب مشاورت سے کریں گے ۔مولانا کو یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کوئی اعلان اور فیصلہ سب کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کریں گے اور اگر ایسا کیا تو وہ اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گے ۔ ذرائع کا کہنا ہے مولانا فضل الرحمان اس نئی صورتحال سے شدید پریشان ہیں ۔