گذشتہ سے پیوستہ بی ایم پی کوفعال اور اِس کو جدید تقاضوں کے مطابق آراستہ کیاجائے اور اِس میں میرٹ کے مطابق بھرتیاں کی جائیں اِس فورس کو جدید اسلحہ دیا جائے اس کی بقا کے لیے کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈاکٹر ناصر محمود بشیر بھی اپنا خصوصی کردار ادا کریں ڈاکٹر ناصر محمود بشیر ایک معاملہ فہم اور انتہائی زیر ک بیوروکریٹ شمار ہوتے ہیں جو اپنے ٹھنڈے اور ادبی مزاج کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان کے کئی گھمبیر مسائل سلجھا چکے ہیں اور اب بھی اپنے ساتھ ایک خوبصورت اور مثبت سوچ کے مالک ڈپٹی کمشنر شاہد زمان لک کے ساتھ مل کر بی ایم پی کے الجھائے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے سر گرم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہاں پر میں یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ کمشنر اور پولیٹیکل اسسٹنٹ اسد خان چانڈیہ کو اِس وقت بی ایم پی کو اخلاقی طور پر اپ گریڈ کرنا ہوگا فورٹ منرو میں دوران قیام جب میں نے اِس ادارے کے بارے میں سروے کیا تو بہت سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ اِس وقت فورٹ منرو میں بی ایم پی کی سرپرستی میں چار تفریحی پوائنٹ جن میں ڈمس جھیل ، فاطمہ جناح پارک ، تریموں اور اناری کے مقام پر کھلے عام جوا کرایا جاتا ہے سیاحوں کو لالچ دے کر تاش پتوںپر پہلے جتوایا جاتا ہے اور پھر دوسری اور تیسری بار اُن سے سب مال ’’کین گیری ‘‘ اور نو سر بازی کے ذریعے ٹھگ لیا جاتا ہے اور یوں دور دراز علاقوں سے سیرو تفریح کی غرض سے آنے والے سیاح یہاں سے لُٹ کر واپس جاتے ہیں اب صورتحال میں کون دوبارہ فورٹ منرو کا رُخ کرے گا ؟ اسی طرح انہی تفریحی پوائنٹس پر اسلحہ کی بھی سر عام نمائش اور فائرنگ کرائی جاتی ہے جس سے اکثر اوقات سیاح دہشت زدہ ہوجاتے ہیں تو اِن حالات میں پولیٹیکل اسسٹنٹ کو فوری اِن ایکشن ہو کر ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف فوری کاروائی کرنی چاہیے اور فورٹ منرو سمیت پورے ٹرائبل ایریا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہیے انگریزوں کے زمانے میں چونکہ قوانین پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جاتا تھا ۔ جب تک انگریز ٹرائبل ایریا کے سیاہ سفید کے مالک تھے تو یہاں کا امن مثالی ہوا کرتا تھا اور دوسری بات اُس وقت کے بلوچ سردار بھی دیانت دار، محنتی اور ہر قسم کی لالچ سے پاک ہوا کرتے تھے فورٹ منرو میں ہی ہر سال دو سے تین مرتبہ جرگہ منعقد ہوا کرتا تھا اور اِس جرگے میں قتل سے لے کر چوری ،ڈکیتی اور دیگر جرائم کے مکمل میرٹ پر فیصلے ہوا کرتے تھے اِس جرگہ میں تمام سردار وں اور تمن داروں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر اور پولیٹیکل اسسٹنٹ ٹرائیبل ایریا بھی شریک ہوا کرتے تھے۔ فورٹ منرو میں اُس زمانے کے جرگوں کی ایک نشانی جرگہ ہال آج بھی موجود ہے جو کہ تحصیلدار ہاؤس کے ساتھ اپنے شاندار ماضی کی گواہی دے رہا ہے اِن جرگوں میں مزاری اور لغاری تمن دار سرداروں کو نمایاں حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی ۔مزاریوں میں سردار نواب امام بخش خان مزاری مرحوم ، سردا ر بہرام خان مزاری مرحوم ، جبکہ لغاری سرداروںمیں سے سر نواب جمال خان لغاری (اول) اور اُن کے بعد سابق صدر سردار فاروق خان لغاری مرحوم کے والد گرامی سردار محمد خان مرحوم چیف جرگہ ممبر کی حیثیت سے شرکت کیاکرتے تھے۔ یہ قبائلی سرداراپنے اپنے قبیلے کی بھرپور نمائندگی کرتے اور اُن کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا کرتے تھے جرگہ سسٹم کو جزوی طور پر صدر ایوب کے دور میں ختم کر دیا گیا تھا لیکن جرگہ سسٹم کو مکمل طور پر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ختم کر دیا گیا یوں ایک خوبصورت اور بلوچی روایات پر مبنی انصاف کے تقاضوں کے مد نظر رکھا جانے والا سسٹم ختم ہوگیا اُس زمانہ میں ٹرائبل ایریا اور فورٹ منرو مکمل طور پر پُر امن علاقے تصور کیے جاتے تھے اگر کسی چوری اور قتل کی واردتیں جو زیادہ آپس کی قبائلی لڑائیوں کی وجہ سے ہوجایا کرتی تھیں تو جرگہ منعقد ہونے پر پورے انصاف کے ساتھ مقدمے کا جائز لے کر فیصلہ سنایا جاتا جس میں مدعی اور مدعا علیہ دونوں مطمئن ہو جایا کرتے تھے لیکن اب ایسا ہرگز نہیں رہا کیونکہ ہمارا عدالتی نظام اِس وقت بہت ہی کمزور اور بے بس ہو چکا ہے اور پھر جس معاشرے میں عدل کمزور ہو جائے اور جرم طاقت ور ہو جائے تو پھر زوال اُن معاشروں کا مقد ر بن جاتا ہے۔ فورٹ منرو کی وادی کتنی پر سکون اور خوبصورت ہے کہ یہاں پر آج بھی ایک سو پچاس سالہ پی اے ہاؤس موجود ہے،پی اے ہاؤس میں اتنے ہی قدیم چیل کے دلکش درخت آج بھی موجود ہیں کہ جہاں بیٹھ کر معروف شاعر اور بیوروکریٹ مصطفیٰ زیدی مرحوم نے اپنی محبوبہ شہناز شیخ کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ انہی پتھروں پر چل کر آسکو تو آئو میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں لیکن پھر اُسی شہناز شیخ کا عشق انہیںکو لے ڈوبا ۔ اِسی تاریخی پی اے ہاؤس میں سنڈے مین سے لے کر درجنوں انگریز پولیٹیکل اسسٹنٹ مقیم رہے۔ ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو میں یاد گار تاریخی مشاعرے اور ادبی محفلیں منعقد کرائی تھیں آخری یاد گار مشاعرہ سید شوکت علی شاہ نے 1998ئ؁ میں ڈیرہ سٹی پارک میں منعقد کرایا تھا جس میں احمد ندیم قاسمی ، احمد فراز ،مظفر وارٹی ، نوشی گیلانی اور مرتضی بر لاس جیسے عظیم شعراء نے شرکت کی تھی ۔ آج بھی موجودہ کمشنر ڈاکٹر نا صر محمود بشیر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ فورٹ منرو کے خوبصورت ماحول میں کوئی مشاعرہ یا ادبی تقریب منعقد کرا ئیں اور اسے عشق اور ادب کے ماحول سے روشناس کرا دیں تو یہ ان کا ہم جیسے لوگوں پر احسن عظیم ہو گا ۔ (ختم شد)