یہ امر باعث اطمینان ہے کہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16جنرل نشستوں کے لئے انتخابی مرحلہ کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر مکمل ہو گیا۔ فوجی دستے ‘ لیویز اور خاصہ دار فورس نے 1897پولنگ سٹیشنوں کی حفاظت کے فرائض انجام دیئے۔ پولنگ سٹیشنوں کا علاقہ حساس قرار دیا گیا تھا اور وہاں الیکشن کمشن کا عملہ موجود تھا۔ قبائلی اضلاع سے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے پاکستان تحریک انصاف‘ جمعیت علمائے اسلام‘ جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے امیدوار نامزد کئے۔ کئی آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود تھے۔ پرامن ماحول اور سیاسی جماعتوں کی بھرپور شرکت نے قبائلی اضلاع کے شہریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی ترغیب دی۔قبائلی عوام نے اپنے جمہوری حق کو استعمال کر کے نئی شروعات کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ان انتخابات میں صبح سویرے دیکھا گیا کہ ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں کے باہر قطار بنائے کھڑی ہے۔ اگرچہ یہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں پہلی بار عوام اپنا ووٹ استعمال کر رہے تھے مگر کہیں سے یہ نظر نہ آیا کہ لوگ پرجوش نہیں۔ قبائلی علاقوں کی مخصوص اقدار اور روایات کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خواتین ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوں گی اور اگر کچھ علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے گھر سے باہر نکلیں بھی تو ان کی تعداد بہت کم ہو گی۔ حقیقت نے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ قبائلی خواتین کی اچھی خاصی تعداد نے انتخابی عمل میں شریک ہو کر واضح کر دیا ہے کہ ان علاقوں کی پسماندگی کی وجہ کم از کم خواتین سے متعلق معاملات نہیں ہو سکتے۔ ایک طویل عرصہ تک قبائل اضلاع امتیازی نظام میں پستے رہے ہیں۔ انگریز دور میں ان علاقوں کے لئے بدنام زمانہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز نافذ کئے گئے آزادی کے بعد یہ قوانین جاری رہے۔ ان قوانین کے تحت فرد کے جرم کی سزا صرف جرم کرنے والے کو نہیں ملتی تھی بلکہ اس کا سارا خاندان اور بسا اوقات تمام قبیلہ سزا بھگتتا۔ سزا سنانے کا اختیار مخصوص افراد کو حاصل تھا جو جرگہ میں سماعت کر کے سزا سنادیتے۔ اس سزا کے خلاف کسی عدالت میں اپیل نہیں ہو سکتی تھی۔ ریاست کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات بادشاہانہ تھے۔ وہ جو چاہتا کرتا۔ ایسی رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں جن میں بتایا گیا کہ پولیٹیکل ایجنٹ کا منصب حاصل کرنے کے لئے لوگ کروڑوں روپے رشوت دیا کرتے۔ عام قبائلی کے روزگار‘ تعلیم‘ صحت‘ تفریح اور حفاظت کے معاملات سے ریاست کو سروکار تھا نہ ان علاقوں سے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین بننے والوں نے اس سلسلے میں کبھی سوچا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ قبائلی علاقے جرائم پیشہ‘ مفرور اور شدت پسند عناصر کا گڑھ بن گئے۔ ان علاقوں کی ان ہی محرومیوں نے یہاں کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کیا۔ یہ عسکریت پسندی ان کا ذریعہ روزگار تھی۔ افغان جہاد کے بعد بہت سے مقامی افراد طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں سے منسلک ہو گئے۔ جب تک امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع نہیں کی تھی ان عسکریت پسندوں سے پاکستان محفوظ تھا ۔ امریکہ نے دبائو کے ذریعے پاکستان کو اپنا اتحادی بنایا اور پاکستان کے لئے ایک مشکل مرحلہ شروع ہو گیا۔ وہ علاقے جہاں کسی حکومت نے صاف پانی فراہم کیا نہ ہسپتال اور سکول بنائے وہاں ریاست کے لئے اپنی رٹ بحال کرنا مشکل تھا مگر مسلح افواج کی قربانیوں اور اکثریتی قبائلی آبادی کی پاکستان کے ساتھ محبت تھی جس کی وجہ سے یہ مرحلہ طے ہو گیا۔ قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے درمیان ہم آہنگی موجود تھی۔ مولانا فضل الرحمن اس انضمام کے سخت مخالف تھے۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان نے اس سلسلے میں برق رفتاری سے معاملات نمٹائے۔ قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے بعد پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے شہری اب جرگے کی بجائے ابتدائی داد رسی کے لئے پولیس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کر کے ان کے ذریعے پارلیمنٹ کو اپنے مسائل سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ اپنی ترقی اور اپنے علاقوں کی تعمیر نو کے لئے قبائلی شہریوں کے پاس اب نئے حقوق آ گئے ہیں۔ جو لوگ قبائلی اضلاع کے انتخابات میں کامیاب ہوئے ان کے لئے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے یہ مشورہ ہے کہ وہ نمائندگی کے اس اعزاز کو روائتی انداز میں نہ لیں۔ ان علاقوں کے شہریوں نے اپنی پسماندگی اور محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے ان پر اعتماد کیاہے۔ نومنتخب نمائندے اگر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرتے رہے تو قبائلی اضلاع میں نظام کی تبدیلی محسوس کی جا سکے گی۔ عوام کو اچھی اور مستعد پولیس‘ فعال اور ذمہ دار انتظامیہ اور میرٹ پر جلد انصاف فراہم کرنے والی عدلیہ چاہیے۔ مقامی آبادی کو اگر یہ سہولیات میسر آ گئیں تو بہتر برس کے بعد بیدار ہونے والی ان کی امید زندہ رہے گی۔ پاکستان کو خارجہ اور داخلہ محاذوں پر جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نجات اسی صورت میں ممکن ہے جب ریاست ہر شہری کے مسائل کا حل اپنی مشینری کو فعال بنا کر پیش کرے۔ قبائلی عوام کو گمراہ کرنے والے ریاست پاکستان کے دشمن ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جن سے قبائلی عوام ریاست پر بھروسہ کریں۔ سیاسی عمل ہمیشہ ریاست اور فرد کے مابین تعلق کی ٹوٹی ہوئی کڑیاں جوڑنے کا باعث بنتا ہے۔ قبائلی اضلاع میں فرد اور ریاست نے ایک دوسرے کے معاملات کو حل کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس کے نتائج استحکام پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔