آج عیدالاضحی کے موقع پر پاکستانی سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے قریہ قریہ گلی گلی اللہ کی راہ میں قربانی کر رہے ہیں۔ اکنامکس سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستانی ہر سال ڈیڑھ کروڑ جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں اس مقدس فریضے کے تقدس کا اس حد تک خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے بعدپہلے جانور کے خون اور الائشوں کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے۔شہروں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے نہ صرف جانوروں کو گلی محلوں میں ذبح کر کے جانوروں کا خون گٹر میں بہا دیا جاتا ہے بلکہ جانوروں کی الائشیں بھی گلی کوچوں میں پھینک دی جاتی ہیں جن کے تعفن سے لوگوں کا راہگزر پر چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گلیوں میں پڑی ان تعفن زدہ آلائشوں سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے مفر نہیں کہ بڑے شہروں میں ہرسال سالڈویسٹ مینجمنٹ اور بلدیہ کی طرف سے شہریوں کو الائشیں تلف کرنے کیلئے پلاسٹک کے بیگز مفت فراہم کیے جاتے ہیں بلکہ صفائی کے عملے کو الائشیں اٹھانے کیلئے اضافی گاڑیاں بھی فراہم کی جاتی ہیں اس کے باوجود بھی شہریوں کی اکثریت پلاسٹک بیگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے الائشیں گلی میں پھینکنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ حکومت تمام شہریوں کو الائشوں کی محفوظ منتقلی کیلئے پلاسٹک بیگز کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس طرح شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ الائشوں کو مخصوص مقامات پر پھینکیں تا کہ شہر کو صاف ، شہریوں کو تعفن اور بیماریوں سے محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے۔