مکرمی ! قومی زبان اردو کے ساتھ ہمیشہ سوتیلے پن کا سلوک کیا گیا ۔پاکستان کے تینوں دساتیر میں یہ بات واضح طورپر درج ہے کہ قومی زبان اردو ہوگی اور اس کو تعلیمی و قانونی اور دفتری سانچے میں ڈھالنے کے لیے پندرہ سال تک کام کیا جائے گا اور تب تک انگریزی دوسرے زبان کے طورپر اضطراری حالت کی وجہ سے قائم رہے گی تاہم اردو کو بتدریج نافذ کرنے کا کام برابر جاری رہے گا۔ اس سلسلہ میں بہت سے ادارے بھی قائم کیے گئے مقتدرہ قومی زبان ،ادارہ فروغ قومی زبان،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دیگر اداروں نے شب وروز ایک کرکے دفتری و قانونی اور تعلیمی زبان کے طورپر نافذ کرنے کے لیے نصاب مرتب کیا لیکن ملک پر قابض و حکمرانی کرنے والی حکومت اور بیوروکریسی جو انگریز کی کاسہ لیس اور ملک کے سرمایہ دار، و جاگیردار اور وڈیرہ شاہی طبقوں کے لوگ ہیں نے اردو کو ملک میں نافذ العمل ہونے میں رکاوٹ بنے رہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ایس جواد خواجہ نے2015ء میں فیصلہ سنایاکہ حکومت فی الفور اردو کو عملی طورپر اختیار کرتے ہوئے قانونی و دفتری اور تعلیمی زبان کے طورپر رائج کردے۔ تمام قومی اداروں کی ویب سائیٹ و درخواستیں قومی زبان میں وصول کرنے اور منتقل کرنے کا حکم بھی عدالت نے دیا۔آج پانچواں سال ختم ہونے کوہے کہ اب تک عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ کو نافذ نہیں کیا گیا باوجود تبدیلی سرکار کی جانب سے قومی و ملی جذبوں کے چکنے چپڑے نعروں کے اب تک قومی زبان عزت و عظمت اور جائز مقام سے محروم ہے۔ ( عتیق الرحمن)