اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی) قومی اسمبلی میں حکومت نے 9آرڈیننسز سمیت ریکارڈ 11 بل ایک گھنٹے میں کثرت رائے سے منظور کرلئے جبکہ اس دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کی درخواست پر بیمار اسیر رہنماؤں آصف زرداری، خورشید شاہ اور شاہد خاقان عباسی کی صحت یابی کے لئے دُعا کرائی گئی ۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے چچا، شاہ محمود کی ہمشیرہ اور رحیم یار خان ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی جس کے بعد وزیر پارلیمانی امور اور نوشین حامد کی جانب سے پیش کردہ طبی ٹربیونل بل ، طبی کمیشن بل، قومی احتساب بیورو ترمیمی بل سمیت 9 بل منظور کرلئے گئے جبکہ 3 آرڈیننسز میں 120 روز توسیع کی بھی منظوری دی گئی۔مجموعی طور پر 15 بل پیش کئے گئے تھے ، ان میں حال ہی میں صدر کی جانب سے جاری کردہ 7 آرڈیننس بھی شامل ہیں۔ اس دوران اپوزیشن نے شدید ہنگامہ اور شور شرابہ کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، ’’جعلی سپیکر نامنظور‘‘، ’’گونیازی گو‘‘،’’گو ریجکٹڈ گو‘‘، ’’کشمیر فروش، ووٹ چور نامنظور‘‘، ’’آرڈیننس فیکٹری نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے جس کے جواب میں حکومتی بینچوں سے ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگائے گئے ۔منظور ہونے والے صدارتی فرامین میں قانونی معاونت انصاف اتھارٹی، اعلیٰ عدلیہ خطاب اور لباس، بے نامی کاروباری معاملات،قومی احتساب ترمیمی بل،تحفظ مخبر نگران کمیشن کا قیام ،انصرام تولید اور وراثت ، نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین ، پاکستان طبی کمیشن کا قیام ، نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کا قیام اور مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل شامل ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز اتھارٹی ،انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم سے متعلق آرڈیننسز کو توسیع دی گئی۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کے کسی رکن کو بولنے کا موقع نہ دیا ۔ بعدازاں اجلاس آج تک ملتوی کردیا گیا۔قومی اسمبلی کے رواں سیشن کے لئے پینل آف چیئرپرسن کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ سید فخر امام، مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی،محمود بشیر ورک ، غلام مصطفیٰ شاہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کی کارروائی چلائیں گے ۔ اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ آصف نے اپوزیشن رہنمائوں کے ہمراہ گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیاہے کہ ڈپٹی سپیکرکیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لائی جائے ، 65 ہزار ووٹ جعلی نکلے ، پھر بھی کرسی پر بیٹھ کر پارلیمنٹ چلا رہاہے ،اسمبلی میں قانون سازی کامذاق اڑایاگیا،بلوں پربحث نہیں کرنے دی گئی، تحریک انصاف جس چیز کی کل مذمت کرتی تھی ،اسی چیز کو آج جائز اور حلال قرار دیا گیا ، یہ اس ادارے کو تباہ کیا جارہاہے ،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سارا کام نمٹایا گیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس ملتو ی کردیا گیا، قومی اسمبلی میں آدھے گھنٹے میں تمام بل پاس کرالئے گئے ،جعلی ووٹوں پرمنتخب ڈپٹی سپیکرسے ہی اس قسم کی قانون سازی کی توقع کی جاسکتی ہے ۔خواجہ آصف نے کہااسلام آبادسیف سٹی ہے لیکن آزادی مارچ کے شرکا کے موٹر سائیکل چوری ہورہے ہیں، مارچ کے شرکا کوانٹرنیٹ کی سہولیات سے بھی محروم رکھاگیا،پولیس اورسی ڈی اے کے سرکاری اہلکارآزادی مارچ والوں سے کھاناکھارہے ہیں۔ خرم دستگیر نے کہا الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر پارلیمنٹ کے اختیار کو استعمال کیا گیا، صدر نے آئین و قانون سے انحراف کیا،مواخذے کیلئے مشاورت کرینگے ۔خرم دستگیر نے کہا قومی اسمبلی کو 5 ہفتے ، سینٹ کو 9 ہفتے تک تالہ لگا رہا، 2018ء تک قرضوں پر رپورٹ آ گئی جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی خورد برد نہیں ہوئی، وزیراعظم غلط بیانی پر قوم سے معافی مانگیں، موجودہ حکومت 10 ہزار ارب روپے سے زائد کا قرضہ لے چکی ہے ، اس حکومت کے قرضوں کی تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا حکومت پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہی ہے ۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا آج جس طرح حکومت نے پارلیمان کی بے توقیری کی ،اس طرح تو فوجی حکمرانوں کے دور میں بھی نہیں ہوا،سپیکر شق نمبر بولتے اور ساتھ ہی پاس کی آواز لگا دیتے ، کوئی بحث نہیں کرائی گئی ،ہمارے احتجاج کے باوجود بھی سپیکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی پوزیشن کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا آج جو ہوا، اس پر دکھ ہے ،کھڑے ، کھڑے آرڈیننس کو بل میں تبدیل کر کے پاس کر دیا گیا، جنہوں نے بل پاس کیا، انہیں بھی نہیں پتا کہ بل ہے کیا،جو لوگ پارلیمنٹ پر قبضہ چاہتے ہیں، یہ ان کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ اسلام آباد(سپیشل رپورٹر؍ مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھبرانا نہیں ،دھرنے کا معاملہ افہام وتفہیم سے حل کیاجائے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں پارلیمانی پارٹی ارکان کو اسمبلی اجلاس کے دوران پیش کئے جانے والے بلوں اور آرڈیننسز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ذرائع کے مطابق معاون صحت ظفر مرزا نے میڈیکل بل 2019 پر بریفنگ دی۔حکومتی رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے میڈیکل بل کی بعض شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے قانون سازی سے متعلق ارکان پارلیمنٹ کی رائے کو اہمیت دینے اور ان کا مشورہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، جس پر وزیر اعظم نے ڈاکٹر رمیش کمار کو جھاڑ دیا۔ وزیراعظم نے رمیش کمار کو ہدایت کی کہ اپنی نشست پر بیٹھیں اور بریفنگ سنیں۔وزیر اعظم نے کہا میڈیکل کے شعبے کو دکانداری بنا دیا گیا، یہ لوگ انسانی جانوں سے کھیل رہے ، اپنے میڈیکل کالج چلا رہے ہیں اور بورڈکے ممبر بھی ہیں، میڈیکل کے شعبے میں اصلاحات لا کر ان کا قبلہ درست کرنا ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے تمام ارکان اسمبلی کو ایوان میں حاضر رہنے کی بھی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے آزادی مارچ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا جس پروزیراعظم نے کہا دھرنے کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے گا، آپ لوگ فکر نہ کریں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا تمام ارکان مہنگائی کے خلاف میرا ساتھ دیں، ذخیرہ اندوزوں نے ملک میں مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہے ، ذخیرہ اندوزوں کو کیفر کردار پہنچائیں گے ۔اجلاس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے کراچی کے مسائل کا ذکر کیا تو وزیراعظم نے کہا کراچی کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں ،جبکہ سندھ حکومت مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی۔انہو ں نے سندھ سے تعلق رکھنے والے پارٹی ارکان سے کہا جلد کراچی کا دورہ کروں گا ۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب میں سرکاری اراضی کو فلاحی مقاصد کے لئے برؤے کار لانے اور خصوصاً پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکوڈیشن کے زیر انتظام املاک کو عوامی مقاصدکے لئے استعمال کرنے کے حوالے سے اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا ماضی میں سرکاری املاک کو موثر طریقے سے برؤے کار نہ لانا مجرمانہ غفلت تھی۔ وزیراعظم نے اشیائے ضروریہ کی فراہمی و قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم آمدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا باآسانی میسر آئیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کے لئے ان اشیا کی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے ۔وزیراعظم کی زیر صدارت سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں بھی اجلاس ہوا۔وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال ، صوبائی حکومت سے متعلق امورپر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو دی جانے والی صحت کی سہولیات اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم سے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے بھی ملاقاتیں کیں۔ملاقات کرنیوالوں میں باسط بخاری، عامر طلال گوپانگ، نیاز احمد جھاکڑ، خواجہ شیراز محمود، محمد امجد فاروق کھوسہ، سردار محمد خان لغاری، سردار نصر اللہ دریشک، ریاض محمود مزاری اور ملک محمد عامر ڈوگر شامل تھے ۔وزیر اعظم نے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارم ٹو مارکیٹ روڈز پر توجہ ہے تاکہ چھوٹے کسان کو فائدہ ہو۔ وزیراعظم سے ہواوے سپر وائزری بورڈکے چیئرمین لی جی کی سربراہی میں وفد بھی ملا۔وزیراعظم سے چیئرمین سٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل معید یوسف نے بھی ملاقات کی۔