اسلام آباد (خبرنگار خصوصی،این این آئی)قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے آئندہ مالی سال 2020-21ء کے لئے 14 کھرب 89 ارب 48 کروڑ 4 لاکھ 27 ہزار روپے کے 96 مطالبات زر کی منظوری دے دی، ان وزارتوں اور ڈویژن پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں جمع نہیں کرائی گئیں جبکہ کابینہ ڈویژن کے 34مطالبات زر منظور اور اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد کردی گئیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے وزارت پٹرولیم، وزارت بجلی، خارجہ امور، ہائوسنگ و تعمیرات، انسانی حقوق، اطلاعات ونشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بین الصوبائی رابطہ، امور کشمیر وگلگت بلتستان، قانون و انصاف، احتساب بیورو، میری ٹائم افیئرز، انسداد منشیات، پارلیمانی امور، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، نجکاری کمیشن، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، سائنس وٹیکنالوجی، ریاستیں و سرحدی علاقہ جات، وزارت آبی وسائل، وزارت تجارت، موسمیاتی تبدیلی، دفاع، مواصلات، دفاعی پیداوار اور اقتصادی امور ڈویژن کے مطالبات زر پیش کئے جس کی قومی اسمبلی نے منظوری دے دی۔ قبل ازیں جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آپ ہمارے ارکان کی کٹوتی کی تحاریک کو باقی ممبران کی تحاریک کے ساتھ منسلک نہ کریں، ہمارے ممبران نے محنت کی ہے پھر بھی آپ ان کی کٹوتی کی تحاریک کو اکٹھا کر رہے ہیں ۔قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے لئے 50 ارب 88 کروڑ 21 لاکھ 75 ہزار روپے کے مطالبات زر کی منظوری دے دی۔ وفاقی وزیرحماد اظہر اور پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد خان نے اس حوالے سے ایوان میں تحاریک پیش کیں، ایوان نے کابینہ ڈویژن کیلئے اپوزیشن کے ارکان احسن اقبال، شاہدہ رحمانی، محسن شاہ نواز رانجھا اورڈاکٹرنفیسہ شاہ کی کٹوتی کی تحاریک مسترد کردیں۔ کٹوتی کی تحاریک پربحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ سیاحت کے لئے کیبنٹ ڈویژن میں ایک روپیہ نہیں ہے ، چوروں کو بچانے کے لئے پوری شوگر انڈسٹری کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، پوری دنیا میں پی آئی اے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ پارلیمانی امورکے وزیر علی محمدخان نے کہا کہ چینی رپورٹ کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے ، ایف آئی اے والوں نے زیادہ وقت کا مطالبہ کیا لیکن وزیراعظم نے کہا کہ 45 روز میں رپورٹ آنی چاہیے ، اس رپورٹ پر عملدرآمد ہوگا،نفیسہ شاہ نے کہا کہ شہری ہوابازی کے وزیر کا 200 پائلٹوں کے حوالے سے ایوان میں بیان درست نہیں، یہ ایک سنجیدہ ایشو ہے اور پوری دنیا اس کا مذاق اڑا رہی ہے ۔