قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین، روس اور امریکہ کے ساتھ تعلقات اور خطے کی سکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی میں سیاسی و عسکری قیادت کی شرکت سے ملک کو اندرون و بیرون ملک درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر تجاویزایک ہی پلیٹ فارم سے سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ اجلاس کی ایک اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ ملک بھر میں تین روزہ دھرنوں اور مظاہروں کے باعث جو سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے ان کے حل کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی خوشحالی، امن و استحکام قانون کی عملداری میں ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہاں امن اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگی۔ کسی ملک کے معاشی استحکام کا دارومدار حکومت کی ان پالیسیوں پر منحصر ہوتا ہے جو وہ عوام کی خوشحالی کے لیے وضع کرتی ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی، قانونی اور معاشی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائے بغیر معاشرے میں استحکام پیدا نہیں ہوسکتا۔ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جاتی ہیں۔ جہاں انتظامی کوتاہی ہو اسے دور کیا جاتا ہے، کہیں فنڈز کی کمی رکاوٹ بن رہی ہو تو اس رکاوٹ کو دور کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ بعض اوقات نااہلی اور غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دے کر نظام کو مستعد اور ہموار بنا لیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو جب حکومت ملی تو اداروں کا انتظامی ڈھانچہ کئی طرح کے چیلنجز کا شکار تھا۔ قانون نافذ کرنے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے والے ادارے سیاسی مداخلت کے باعث اپنا جواز کھو چکے تھے۔ ایسے کئی سانحے قومی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف خلاف قانون کام کیا بلکہ اس کام کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑے۔ سانحہ ماڈل ٹائون ان میں سے ایک ہے۔ ملک کے طول و عرض میں سرکاری اراضی پر بااثر شخصیات نے قبضہ کیا، جو ادارے اور اہلکار اس طرح کے قبضے روکنے پرمامور تھے وہ دانستہ منہ دوسری طرف کئے رہے۔ بات صرف ادارہ جاتی غفلت اور بدعنوانی کی نہیں ہمارا سماج جمہوریت پسند کہلانے کے باوجود جمہوری رویوں پر کاربند نہیں۔ آئین میں تمام شہریوں کو کچھ حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ریاست ان حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہے تو شہری عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ احتجاج کرنے کے بیسیوں طریقے ہوں گے۔ کئی بے بس لوگ اپنی بات کی شنوائی نہ ہونے پر بے چارگی میں خودسوزی کرلیتے ہیں، کوئی سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر نعرے لگاتے ہیں، کچھ زنجیریں پہن لیتے ہیں۔ دفتروں میں کام کرنے والے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ خود سوزی کے سوا یہ تمام طریقے مہذب اور جمہوری ہیں مگر ہم نے ہر بات بزور طاقت منوانے کی روش اپنا رکھی ہے۔ پاکستانی سماج کی جمہوری تربیت کا فریضہ سیاسی جماعتوں کو ادا کرنا تھا لیکن یہ جماعتیں اپنی ساری توانائیاں چند خاندانوں کے تحفظ پر خرچ کر ڈالتی ہیں۔ پھر یہ مسئلہ صرف سیاسی دائرہ کار میں نہیں آتا۔ بہت سی چیزیں عام آدمی سے تعلق رکھتی ہے۔ عام آدمی غیر تربیت یافتہ ہو تو وہ سیاہ پٹیاں باندھتا ہے نہ نعرے لگاتا ہے بلکہ ڈنڈے اٹھا کر تشدد پر اتر آتا ہے۔ اپنی دانست میں وہ اس توڑ پھوڑ سے معاشرے کی اصلاح کا کار خیر انجام دے رہا ہوتا ہے مگر اس عمل کے ذریعے احتساب اور سزا کا ریاستی اختیار غیر محسوس انداز میں ہجوم کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ریاست طاقتور نہیں کمزور ہو جاتی ہے۔ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے پاکستان کے پاس تمام نوع کے لوازمات موجود ہیں۔ بلوچستان کے علاقوں میں کھربوں ڈالر کی معدنیات ہیں جنہیں مقامی آبادی کو سہولیات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر پر مشتمل جنت نظیر سیاحتی مقامات ہیں۔ سی پیک نے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ بدامنی یا ملک دشمن طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث بلوچستان میں کچھ منصوبے بھرپور رفتار سے تعمیر نہیں ہو سکے۔ ملک میں لاقانونیت اور سیاسی قوتوں کی جانب سے قانون شکنی نے پورے معاشرے کو ایسی آبادی میں تبدیل کردیا ہے جہاں آئین و قانون کو صرف سیاسی مباحث کے لیے بطور حوالہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دستاویز میں ریاست اور عام شہری کا تعلق کسی ذکر میں نہیں آتا۔ یہ صورت حال ملک کی ترقی کے لیے امید افزا نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سمیت قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء نے مرض کی تشخیص درست طور پر کرلی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی سلامتی، خوشحالی و دیرپا امن کے لیے ہمیں قانون کی جس بالادستی کو یقینی بنانا ہے اس کی خاطر پورا معاشرہ کس حد تک ایثار دکھانے پر تیار ہے۔ پاکستان نے عشروں سے ہجوم اور بدانتظامی کو بھگتا ہے۔ نئی حکومت سخت جدوجہد کرکے دوست ممالک کو سرمایہ کاری پر آمادہ کر رہی ہے۔ ہم نے خود کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو دوست ممالک کی امداد اور تعاون بھی ہمارے لیے مددگار ثابت نہ ہو سکیں گے۔