اسلام آباد( خبر نگار خصوصی،سپیشل رپورٹر،این این آئی،آن لائن)قومی اسمبلی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظورکرلی تاہم سنی اتحاد کونسل نے قرارداد کی مخالفت کی۔قومی اسمبلی میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد پیش کی گئی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں نے ووٹ دیے ہیں اور امریکی قرارداد مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں۔حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے امریکی ایوان نمائندگان کی پاکستان کے بارے میں منظور کی گئی حالیہ قرارداد پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد پیش کی۔انہوں نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوان نے امریکا کے ایوان نمائندگان کی جانب سے 25 جون کو پاکستان کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد کا نوٹس لیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں اس طرح کی مداخلت نامناسب ہے ، یہ کسی صورت عالمی طاقتوں کو زیب نہیں دیتا کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے ۔قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے ، پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کو غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے ۔قرارداد میں کہا ہے کہ ایوان چاہتا ہے کہ پاک امریکا تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہوں۔قومی اسمبلی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظورکی تاہم سنی اتحاد کونسل کے ارکان کا قرار داد کیخلاف قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان ایوان میں سائفر سائفر کے نعرے لگاتے رہے ۔قرار داد شائستہ پرویز ملک نے پیش کی،قرار داد کے حق میں قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ امریکی کانگرس غزہ اور کشمیر میں جاری جارحیت کا نوٹس لے ، ہم دوطرفہ تعلقات برابری کی سطح پر چاہتے ہیں۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں قرارداد کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد پاکستان کے داخلی امور میں غیر ضروری مداخلت ہے ۔ پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر تعلقات رکھنا چاہتا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں اسحاق ڈار نے رواں ہفتے خارجہ پالیسی کے اہم نکات بیان کیے ، نائب وزیراعظم نے چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا جب کہ نائب وزیراعظم نے فلسطین اورکشمیرکے جاری تنازعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ممتاز زہرہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک طویل عرصے پر محیط ہیں، امریکی کانگریس کو پاک امریکا تعلقات میں مضبوطی کیلئے کام کرنا چاہیے ، پاکستان نے امریکا کو اپنے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے ، پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی گہرے تعلقات کا عزم کیے ہوئے ہے ، بڑی افسوسناک بات ہے کہ امریکی کانگریس نے اس قرارداد کو منظور کیا، اس قرارداد کے بارے میں پاکستان کی طرف سے امریکا کو بریفنگ بھی دی گئی تھی۔ مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوام کے جمہوری حقوق کی عدم فراہمی سے تشویش ہے ۔دفترخارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان غزہ سے اسرائیلی فورسز کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتا ہے ۔ فلسطین پر اقوام متحدہ کی انکوائری رپورٹ میں نہتے فلسطینوں کے قتل کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے گئے ہیں۔ وقت ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکا جائے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ حکومت نے رضوان سعید کو واشنگٹن میں نیا سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، عاصم افتخار کو نیویارک اقوام متحدہ میں پاکستان کا ایڈیشنل مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، عاصم افتخار مناسب وقت پر مستقل مندوب کا عہدہ سنبھالیں گے ، تقرریوں کا اعلان معمول کے مطابق ہے ، تعیناتیاں متعدد ہفتوں سے زیر غور تھیں۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوام کے جمہوری حقوق کی عدم فراہمی پر تشویش ہے ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند ہونا چاہیے ، پاکستان کشمیریوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہاکہ افغانستان یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سویڈن کے درمیان اٹھارہویں سٹریٹیجک مذاکرات 26 جون کو ہوئے ۔ علاوہ ازیں پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے وزارت خارجہ کاد ورہ کیا اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی ،دونوں رہنمائوں کے درمیان پاک امریکہ تعلقات سمیت خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزارت خارجہ آمد پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استقبال کیا ،دونوں رہنمائوں کے درمیان ایک گھنٹہ سے زائد تک ملاقات جاری رہی ،دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات اور موجودہ صورتحال اور پیش رفت کا جائزہ لیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیاگیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اسحاق ڈار نے امریکی سفیر سے امریکی کانگریس قرارداد کی منظوری پر تحفظات کا اظہار کیا۔