ہر شخص زندگی بھر جگہ جگہ لمحہ بہ لمحہ اپنے پس منظر اور ماحو ل کے مطابق شعوری طور مختلف چیزوں کی قیمتیں لگاتارہتاہے قیمت لگانے والا اپنے طرح طرح کے مفادات سے واقف ہوتاہے جو اسکی شعور ی سطح کی علامت ہوتی ہے ۔قیمت کا تعین کسی چیز میں مضمر فائدے کی مقدار سے ہوتا ہے ایک ہی چیز یا بات کے فائدے مختلف لوگو ں کے لئے مختلف موقعوں یا جگہوں پر مختلف ہوسکتے ہیں۔ ایک بھوکھے کے لئے روٹی کی قیمت زیا دہ ہوسکتی ہے بہ نسبت ایک شکم سیر کے ۔ آدمی کی اچھی یا بری فطرت بھی اس کے لئے قیمتوں کا تعین مختلف طریقوں سے کرتی ہے۔ ایک بد فطرت باپ بیٹی کے اسکول کی فیس جوئے میں ہار کر بھی اپنے تئیں باپ ہی رہتا ہے لیکن جس کے لئے جوئے کا مزہ بیٹی کے مستقبل سے زیادہ اہم ہو اُسے سمجھنا دوسرں کے لئے ممکن نہیں ہوتا ۔ قیمت صرف اشیاء کی ہی نہیںلگائی جاتی ، قیمت لوگوں کی بھی لگائی جاتی ہے ،رشتوں اور دوستوں کی بھی لگائی جاتی ہے قیمت خیالات ونظریات، علم وہنر کی بھی لگائی جاتی ہے۔ کوئی ملک ،کوئی علاقہ کوئی قوم ومعاشرہ اس سے مبرا نہیں ملے گا۔ لگتا یوں ہے جیسے تخلیق آدم سے لیکر آج تک لوگ ایک دوسرے کو بیچتے چلے آرہے ہیں ۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے قیمت کا مختلف دیگر چیزوں سے فرق کرنا ضروری ہے مثلاً قیمت اور منافع اورقیمت اور انعام میں کیا فرق ہے ؟ انعام آدمی اپنی خوشی سے کسی کو دیتا ہے انعام دینے کے لئے آدمی مجبور نہیں ہوتا جبکہ خریدار بیچنے والے کی منہ مانگی رقم ادا کرنے کا پابند ہوتاہے جسے قیمت کہا جاتا ہے۔ تحفہ اور قیمت میں یہ فرق ہے کہ تحفہ اظہار محبت یا اظہار احترام وعزت کے لئے آدمی اپنی مرضی اور خوشی سے کسی کو دیتا ہے تحفہ کی قیمت وصول نہیںکی جاتی کیونکہ تحفہ بیوپار نہیں ہوتا ۔قیمت اور اجرت میں یہ فرق ہے کہ اجرت پہلے سے طے شدہ کسی مزدور ی یا کام کے عوض دی جاتی ہے جو یکطرفہ لین دین نہیں ہوتا قیمت کا تعین یکطرفہ ہو تا جو صرف بیچنے والا کرتا ہے۔ قیمت کا تعین کرنے کے مراحل اب انتہائی جدید او رپیچیدہ ہوچکے ہیں۔ اب اس میں ایک تیسرا فریق یعنی حکومت بھی شامل ہوچکی ہے جو مختلف اشیاء پر ٹیکس عائد کرتی ہے قیمت کو یکساں اور قابل فروخت ہونے کیلئے وقتا ً فوقتاً ان کے ٹیکسوں میں کمی بیشی کرکے ان میں اتار چڑھائو پیدا کرتی رہتی ہے جس کا ردعمل بھی لوگوں میںظاہر ہوتارہتاہے ۔ مثلاً بجلی اور گیس کی سہولت کی قیمت بھی ہر حکومت یا کمپنی لوگوں کو مارکیٹ میںطلب اور رسد کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرتی ہے ۔قیمتوں کے تعین کے لئے اب دنیا بھر میں ماہرین کا تقرر کیا جاتاہے کیونکہ ان باتوں کا تعلق کسی ملک کی معیشت کے استحکام سے ہوتاہے ۔ ہمارا موضوع بحث ان اشیا سے ہے جو خریدوفروخت کے زمرے میں نہیںآتیں جن کی کبھی بھی کوئی بھی قیمت نہیں لگا سکتا لیکن جن کی قیمتیں مسلسل لگتی رہتی ہیں۔ ایسی چیزیں جو پہلے بالکل مفت ملا کرتی تھیں لیکن اب ان کی قیمتیں لگ گئی ہیں ۔ مثلاً پہلے کوئی پانی کی قیمت وصول نہیںکرتا تھا لیکن اب پانی دکانوں پرایک قابل فروخت شئے کی حیثیت اختیار کرگیا ہے لیکن اکیسیویں صدی میںاب دنیا نے ایک ایسی کروٹ لینا شروع کردی ہے کہ جن سہولتوں کے بغیر آدمی زندگی گذارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا وہ سہولتیں لوگوں کو بالکل مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ مثلاً گوگل ، فیس بک اور یوٹیوب کی سہولتیں دنیا بھر کو بالکل مفت فراہم کرکے بھی ان کے مالکان روزانہ اربوں ڈالر کماتے ہیں کیونکہ یہ کاروبار کے نئے ڈھنگ ہیں ۔ نفع نقصان کے معیار تبدیل ہوگئے ہیں جن باتوں کو چھپانے کے لئے دنیا کے کرتادھرتا صدیوں سے کوشاں رہے ہیں اب خود ہی ان باتوں کو آشکار کررہے ہیں اور وہ بھی مفت میں۔ کیسے؟ معلومات کو اس قدر عام اور ارزاں کرکے اتنی بہتات میںلوگوں کی جھولیوں میں انڈیل دیا ہے کہ عام آدمی بھی ان کے اُن کرتوتوں سے واقف ہوگئے ہیں جن پر صدیوں سے پردہ پڑاہوا تھا اورصرف کتابوں میں بند تھے۔ اسی لئے تو فرمایاگیا ہے ’’تم اپنی منصوبہ بندیا ں کرو اور اللہ اپنی منصوبہ بندی کرتاہے ہے کیونکہ وہ سب سے بہتر منصوبہ ساز ہے‘‘ سورج ہر چیز چمکاتاہے اور ہر چیز کو حرارت فراہم کرتاہے بارش سب کے لئے برستی ہے پوری کائنات اللہ نے آدمی کے مسخر کرنے کے لئے رکھ چھوڑی ہے جسے آدمی آہستہ آہستہ مسخر کررہا ہے کیا اللہ نے اسکی کوئی قیمت وصول کی ؟ اللہ نے دن کو کام کیلئے اور رات کو آرام کیلئے بنایا لیکن اسکی کوئی قیمت نہیں رکھی۔ اللہ اپنی ساری مخلوقات کو جن میں نباتات، جمادات، حیوانا ت ،انسان اورجن وملائک سبھی شامل ہیں، رزق فراہم کرتا ہے لیکن کوئی قیمت وصول نہیں کرتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اسے کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ وہ صرف عطا کرتاہے اور عطا کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ عطا وہی کرسکتا ہے کہ جس کے پاس سب سے زیاد ہ ہو جو خود محتاج نہ ہو بلکہ ہر کوئی اسکا محتاج ہو ۔ وہ ہربات اور ہر چیز میںشریک ہو لیکن اسکا کوئی شریک ناہو، وہ یکتا بڑا اور ہر چیز کاعلم بھی رکھتا ہو اور ہرچیز پر قادر بھی ہو قیمت صرف وہ لگاتاہے جسکے پاس ان میںسے کچھ بھی نہ ہو۔ دنیا کے بڑی بڑی شان وشوکت اورکروفر کے مالک وقت کے حاکم اور فرعون ہر با ت اور ہر چیز کی قیمت لگانے کے دھندے سے باہر نہیں نکل سکتے اسلئے کہ بظاہر سب کچھ ہونے کے باوجود ہر بات اور ہر چیز میں محتاج ہوتے ہیں ان کی مرضی کے بغیر ان کے بال بھی بڑھتے رہتے ہیں اور ناخون بھی ان کے خیالات اور سوچیں ان کی مرضی کے بغیر آوارگان فطرت کی طرح پھرتی رہتی ہیںلیکن کسی طور قابو میںنہیں آتیں ایسے ہی بے بس لوگ ہوتے ہیں جو ہر بات اور ہر چیز کی قیمت لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ی ایک طرف چاند پر کمندیں ڈالنے والا انسان دوسری طرف اب بھی کنویں میں ڈول ڈال رہاہے ہرقول ہر فعل ہر کتاب اور ہر تحریر کی ہر رشتے ناطے کی منہ مانگی قیمت وصول کی جارہی ہے یہ وجہ ہے کہ سیاست عبادت ،صحافت ،عدالت صحت حتیٰ کہ محبت اور نفر ت بھی دھندے کا روپ دھار چکے ہیں اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ دھندا تو چلتا ہی قیمت وصول کرنے پر ہے ۔