لاہور سے روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق نجی فرموں کے ذریعے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جیل کے قیدیوں کو روزگار کے مواقع میسر آنے لگے ہیں۔ لاہو رسمیت پنجاب کی 3جیلوں کے 350قیدی ماہانہ 20ہزار روپے تک کمانے لگ گئے ہیں۔ ان قیدیوں سے نجی فرموں کی ہوزری، ایمبرائیڈری، فرنیچر، فٹ بالز کی سلائی سمیت دیگر اشیاء تیار کروا کر انہیں معقول معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ جیل حکام کا یہ اقدام قابل تحسین ہے ۔ اس سے نہ صرف قیدیوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں بلکہ انہیں مفید شہری بنانے کی طرف بھی اہم پیش قدمی ہے۔ جیلوں میں قید افراد کے اہل خانہ کو بے شمار معاشی و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ا نہیں معاشرے کی بے حسی کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث مفلوک الحالی اور بیروزگاری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بچے گردش دوراں کاشکار ہو کر جرائم کی طرف جا نکلتے ہیں۔ جیل حکام نے ان قیدیوں کے لیے روزگار کا بند و بست کر کے بلا شبہ ایک پائیدار اور قابل تعریف کوشش کی ہے جس کے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ پر دوررس مفید اثرات مرتب ہوں گے اور جیلوں سے یہ الزام بھی ختم ہو جائے گا کہ جیلوں میں مجرموں کی اصلاح نہیں کی جاتی بلکہ ان سے تازہ دم مجرم تیار ہو کر باہر نکلتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے قیدیوں کی فلاح و بہبودکے لئے ایسے مفید اقدامات دوسرے صوبوں کی جیلوں میں بھی کیے جائیں۔