آخر کار اس ملک کے سیاستدان نیب (NAB (قوانین کے ڈنک میں سے زہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ عارف علوی صدر پاکستان نے خوف خدا کا ذکر کرتے ہوئے ان ترامیم والی سمری بغیر دستخط واپس بھیج دی ۔ ایسی صورت حال میں سپیکر قومی اسمبلی سمری پر خود دستخط کرکے اس کے مندرجات کو قانونی شکل دے کر نافذ العمل کر دیتا ہے۔ یہ سعادت اپنے ملک کے نامی گرامی سیاستدان اور موجودہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے حصے میں آئیگی۔سچ پوچھیں نیب قوانین میں ان ترامیم کے نتیجے میں ہمارے ملک کے بڑے سیاستدانوں کی جان تو نیب کیسز سے چھوٹ جائیگی لیکن ایسا کرنے سے اُنھیں قوم کس نگاہ سے دیکھے گی وہ بھی واضح ہے ۔کیا بتانے کی ضرورت ہے ! موجودہ حکومت کی اکلوتی اپوزیشن عمران خان اور اس کی تحریک انصاف ہے۔عمران خان کا ایک ہی نعرہ تھا اور وہ تھا اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ! اگرچہ وہ اس میں ناکام ہوا ہے، اس کی واضح مثال اُس کے دور کی اپنی پنجاب حکومت کی کارکردگی ہے ۔ لیکن اُسے ذاتی طورکوئی بھی کرپٹ نہیں کہتا۔اُس نے کس کے لیے دولت اکٹھی کرنی ہے۔ایک دوست عمران خان کے اداکار شان شاہد کو دیئے گئے انٹرویو کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے ۔ بتا رہے تھے کہ دوران انٹرویو شان نے عمران خان سے پوچھا کہ ابھی عید گزری ہے توآپ نے اپنے بیٹوں سلیمان اور قاسم کو کتنی عیدی دی تو جواب میں عمران خان نے کہا کہ عیدی کیا دینی ہے میں نے تو ڈھائی سال سے اُن کی شکل ہی نہیں دیکھی ۔اپنے ملک میں تو یہاں کے سیاستدانوں کی اولادیں ارب پتی ہیں ۔ کیا یہ کسی سے ڈھکا چھپا ہے ۔ اپنی قوم نے عمران خان سے پیار کیا ، اُسے ووٹ دئیے لیکن بدقسمتی سے وہ انداز حکمرانی سے نا بلد تھا ۔ آپ خود غور کریں کہ جس شخص کے پاس وفاق میں حکومت ہو ، سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت ہو ، صوبہ خیبرپختونخوا میں دوسری بار حکومت ہو اور اُس کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو جائے ! اور وہ بھی تیسری دنیا کے ایک ملک میں جہاں کا ایک ڈپٹی کمشنرایک ضلع میں سیاسی ہواوں کا رخ تبدیل کر سکتا ہو۔ یہ تو کھل چکا کہ عمران خان بھی اس خطہ ارض کے دوسرے حکمرانوں کی طرح اپنے گرد خوشامدیوں کو پسند کرتا ہے اور جس پر اعتماد کرتا ہے تو اندھا کرتا ہے ۔خیر اُس کا دور تو گزر گیا اور اپوزیشن اتحاد کو حکومت مل گئی لیکن موجودہ حکمران جماعتوں میں سے مسلم لیگ (ن) کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ صوبہ پنجاب میں اور خصوصاً بزدار کی حکومت کے بعد اس جماعت کو ووٹوں کے ذریعے شکست دینا تقریباً ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا تھالیکن اس جماعت کے کچھ فیصلوں نے مسلم لیگ ن کی بطور جماعت ساکھ کو نقصان پہنچایا ۔ مثلاً اس جماعت کو آصف زرداری کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔ زرداری نے وزارتوں کی تقسیم میں جو ان کے ساتھ ہاتھ کیا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا ہے ۔ گالیاں کھانے والی وزارتیں مسلم لیگ(ن) کے پاس اور دنیا بھر کے لیڈران سے ملنے کے مواقع والی وزارت اپنے بیٹے کے پاس ۔کسے معلوم نہیں کہ آصف زرداری کا دل مسلم لیگ (ن) کے لیڈران سے کبھی صاف نہیں ہو سکتا ! وہ تو اپنے لیڈروںکو معاف کرنے پر تیا ر نہیں ہوتا۔عمران خان کی حکومت پر سب سے بڑا الزام مہنگائی کا تھا لیکن عمران خان کی خوش قسمتی کہ موجودہ اتحادیوں کی حکومت کے دو مہینوں میں مہنگائی نے کچھ یوں چھلانگیں لگائیں کہ لوگ عمران خان کے دو ر حکومت کی مہنگائی کو بھول گئے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے اس ملک کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔لاہور شہر جسے میں موٹر سائیکلوں کا شہر کہتا ہوں ، یہاںموٹر سائیکل والوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے سے سب سے زیادہ اثر تو غریب افراد اور متوسط طبقہ پر پڑتا ہے ۔ چنگچیز ، رکشاوں اور بسوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں ۔ نتیجتاً سب چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔سچ پوچھیں تو لوگ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد روز افزوں مہنگائی سے سخت تنگ ہیں اور چونکہ وزارت خزانہ کا قلمدان مسلم لیگ (ن) کے لیڈر مفتاح کے پاس ہے جو آئے دن پٹرول ، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی نوید سناتے رہتے ہیںاس لیے موجودہ مہنگائی کا سہرا لوگ مسلم لیگ (ن) کے سر پر سجاتے ہیں۔ اسی طرح بجلی، جسے ہر گھر استعمال کرتا ہے ،کی قیمتوں میں نئی اتحادی حکومت کے آنے کے بعد47% اضافہ، معمولی نہیں ہے ۔وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں خواجہ آصف کا یہ کہنا خاصا مبنی بر حقیقت ہے کہ اتحادی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے شامل ہونے پر اس جماعت کا گراف تیزی سے نیچے آیا ہے۔ اسی طرح ڈالر کی تیزی سے اڑان ، جو کسی طرح رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ،نے بھی اس ملک کے باسیوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ دو ماہ میں ڈالر کی انٹر بینک قیمت میں 28.55 روپے کے اضافہ نے لوگوں کو بے حد پریشان کر رکھا ہے اور یہ کوئی حتمی نہیں ہے کیونکہ ابھی اضافہ جاری ہے۔ نہ جانے اس ملک کی کتنی سڑکیں اور بلڈنگز رہن رکھ کر سکوک بانڈز کا اجراء کوئی مثبت تبدیلی لا سکے گا ۔اب لوگوں کی زبان پر یہ بات عام ہے کہ اتحادی جماعتوں کے لیڈروں نے اپنے اور اپنے خاندانوں کو سزاوں سے بچانے کی خاطر نیب قوانین میں ترامیم کو تویوں ترجیح دی کہ سالوں کا کام مہینوں میں، مہینوں کا کام ہفتوں میں اور ہفتوں کا کا م دنو ں میں کر دکھایا۔ مثلاً مسلم لیگ (ن) نے نیب عدالتوں میں اپنے ہی کیسوں میں دفاع کرنے والی ٹیم کے سربراہ کو وفاق میں وزیر قانون بنا دیا جس نے پیپلز پارٹی کے نیب کیسز میں دفاع کرنے والی ٹیم کے سربراہ کے ساتھ مل کر نیب قوانین میں ترامیم تیار کیں ، دونوں ایوانوں سے منظورکرا کے نافذ کرا دیا۔ایسے ایوان کی منظوری جس میں ملک کی ایک بڑی جماعت کی شمولیت ہی نہیں تھی، کو کو ن تسلیم کریگا۔ مسلم لیگ(ن) کو فوراً اس حکومت سے علیحدہ ہو کر اپنی ساکھ بچا لینی چا ہیے اور نئے الیکشن کا مطالبہ کر دینا چاہیے۔