لاہور، الہ آباد (سپیشل رپورٹر، نمائندہ 92 نیوز)تھانہ لوئر مال کی حوالات میں پولیس کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں زیر حراست ملزم دم توڑ گیا، آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے لوئرمال پولیس کی حراست میں ملزم کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی اورذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی ، پولیس کے مطابق متوفی طبیعت خراب ہونے کے باعث جاں بحق ہوا ، حقائق پوسٹمارٹم رپورٹ میں واضح ہو جائیں گے ، 10اگست کو چوری کے مقدمہ میں ملوث ملزمان ذیشان ، اصغر،وقار اور حیدر وغیرہ کو ضلع کچہری لایا گیا ، ملزمان نے موقع پا کر بلیڈ سے اپنے آپ کو لہولہان کرلیا ، ہفتہ کی صبح ساتھیوں نے ذیشان کو اٹھانے کی کوشش کی تو وہ بے ہوش پڑا تھا ، ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی، پولیس کے مطابق ذیشان شاہدرہ کے علاقے فرخ آباد کا ہے ، اہلخانہ نے الزام عائد کیا ذیشان کی موت تشدد سے ہوئی ، پولیس نے الزامات کی تردید کردی، پولیس حکام کا کہنا ہے حوالات میں نصب کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے ، ابتدائی انکوائری رپورٹ سی سی پی او کو پیش کردی گئی، ابتدائی رپورٹ میں ملزم کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا ، ملزم ریکارڈ یافتہ تھااور ڈکیتی، چوری، منشیات فروشی اور ناجائز اسلحے سمیت 35 مقدمات میں ملوث تھا، باضابطہ تحقیقات کے لئے ایس ایس پی فیصل مختار کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے ، لاہور پولیس کی طرف سے جوڈیشل انکوائری کی بھی درخواست کی جا رہی ہے ۔ الہ آباد میں بھیڑ سوہڈیاں میں قتل کے مقدمہ میں زیر حراست ملزم عبد الغفور عرف ڈھولا جاں بحق ہوگیا، پولیس کے مطابق عبد الغفور کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، ذرائع کے مطابق حالت خراب ہونے پر ملزم کو دیہی مرکز صحت لے جایا گیا ، وہ مرکز میں پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔