گذشتہ ہفتے 4جولائی کو ہونے والے قومی انتخابات میں لیبر پارٹی نے ایک شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کر کے برطانیہ میں تبدیلی کے نعرے کو حقیقت کا رنگ دے دیا ہے ۔ لگ بھگ چودہ سال سے اقتدار میں رہنے والی کنزر ویٹو پارٹی کو واضح اور عبرتناک شکست سے دو چار کیا ۔ سر کیئر سٹارمر کی تجربہ کار اور متاثر کن قیادت نے حالیہ انتخابات کے لئے ایک ٹھوس، مربوط اور مضبوط حکمتِ عملی بنائی، نہایت جانفشانی سے ایک بھرپور اور جاندار کیمپین چلائی اور برطانوی عوام کو تبدیلی کا منشور دیا اور پھر اسے عملی جامہ پہنا دیا ۔اس طرح ٹونی پلیئر کی 1997کی تاریخ ساز فتح کی یاد تازہ کرا دی۔ یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بریگزٹ کے بعد اور ڈیوڈ کیمرون کے استعفیٰ کے ساتھ ہی کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا تھا اور پارٹی نے اپنی طاقت کی بجائے لیبر پارٹی کی کمزور قیادت اور کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدان کا فائدہ اٹھایا تھا ۔یوں اپنے اقتدار کو طول دینے میں کامیاب ہوتی رہی ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ کووِڈ کی تباہ کاریاں اور اس کے نیتجے میں مرتب ہونے والے معاشی اثرات، افراطِ زر، مہنگائی اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے برطانوی عوام میں بے چینی، اضطراب اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملتا رہا۔اکتوبر 2022سے میں اپنی تعلیم کے سلسلے میں برطانیہ میں مقیم ہوں اور برطانوی سیاست کے اتار چڑھائو کو قریب سے دیکھتا آیا ہوں، عوام کے جذبات اور مسائل کے بارے میں ان کے خیالات سے کافی حد تک آگاہی ملتی رہی ہے۔ گزشتہ سال لوکل باڈیز الیکشنز نے آنے والی تبدیلی اور مقتدر سیاسی جماعت اور مخلوط حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجانا شروع کر دی تھیں۔ تقریبا ہر دوسرا سیاسی مبصر اور تجزیہ کار ٹوری پارٹی کی شکست کو بھانپ چکا تھا اور ان کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ بریگزٹ، کرونا اور یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں برطانوی سیاست، معاشرت اور معیشت پر بہت گہرے اور تباہ کن اثرات مرتب ہوئے اور ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی، این ایچ ایس کی ناکافی سہولیات اور انفرا سٹرکچر کی بدحالی نے برطانوی عوام کو شدید ذہنی اضطراب سے دو چار کر دیا ،جس کا باعث وہ ٹوری پارٹی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کی کارکردگی سے ہر گز مطمئن نہیں تھے۔جس کا اظہار انہوں نے 4جولائی کو ہونے والے قومی انتخابات میں اس اندازسے کیا کہ ملک بھر میں لیبر پارٹی کی شاندار فتح کے شادیانے بجنے لگے اور اب اس کے لئے لندن میں مسندِ اقتدار سجا دی گئی ہے۔ سر کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر ایک مضبوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے اور یوں اس سے بے پناہ امیدیں لگ چکی ہیں کہ وہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ اگرچہ ہائوس آف کامنز کی 650نشستوں میں سے 412لیبر پارٹی کے حصے میں آئی ہیں اور اس طرح وہ ایک مضبوط اور مستحکم حکومت بنانے میں آ چکی ہے مگر اسے بہت سے مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ سر کیئر سٹارمر اور اس کی کابینہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ پر ہوگا کیونکہ برطانوی عوام افراطِ زر ، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام سے بیزار اور بے دل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کافی کم رہا ہے، جس سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور حکومتی معاملات پر عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ غصے کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ لہٰذا سٹارمر حکومت کو بروقت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے، جس سے معیشت مضبوط ہو اور اس کے پاس انڈسٹری، ریلوے ، این ایچ ایس اور دیگر انفرا سٹرکچر میں تبدیلی اور اصلاحات کے لئے درکار وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ کمزور معیشت کے باوجود برطانیہ میں تارکینِ وطن کی آمد ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ صرف 2023ء میں 12لاکھ افراد برطانیہ میں پہنچ چکے ہیں، جس سے وسائل پر دبائو بڑھ گیا ہے اور سابقہ حکومت نے امیگریشن پالیسی سخت کر کے برطانیہ میں تعلیم کے لئے آنے والے طلباء و طالبات پر اپنے خاندان کے دیگر افراد لانے پر پابندی لگا دی تھی صرف پی ایچ ڈی والے ریسرچرز کو اس سے استثناء حاصل تھا۔ اسی طرح سٹارمر حکومت امیگریشن پر ایک ٹھوس پالیسی لائے گی جبکہ دوسری طرف لیبر پارٹی تاریخی طور پر برطانیہ میں موجود تارکینِ وطن کے ووٹ بنک پر انحصار کرتی آئی ہے اور ان میں ہمیشہ سے مقبول رہی ہے۔ لہٰذا امیگریشن کے قواعد و ضوابط میں کسی حد تک نرمی تارکینِ وطن کی خواہش رہے گی اور نئی حکومت سے ان کی اس ضمن میں کافی توقعات بھی وابستہ ہیں۔ نئی حکومت کو جہاں قومی سطح پر ایک جامع اور ٹھوس معاشی پلان کی ضرورت ہے وہاں بین الاقوامی افق پر برطانیہ کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نیٹ زیرو کا حصول اور اس سلسلے میں 2050ء تک اہداف کو ممکن بنانا یقینا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا اور سر کیئر سٹارمر حکومت ری نیو ایبل انرجی پر انحصار بڑھائے گی اور کلائمٹ چینج کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دلائے گی۔ اسی طرح نیٹو میں ایک بھرپور کردار، یوکرین کی حمایت اور اس سے جڑے دفاعی اخراجات میں اضافے کو یقینی بنانا نئی حکومت کے ایجنڈا کا کلیدی عنصر ہوگا۔ علاوہ ازیں یورپین یونین کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کر کے یورپی منڈیوں میں رسائی کو یقینی بنانا ہوگا تا کہ اس کے ثمرات برطانوی عوام تک لائے جا سکیں۔ لہٰذا یہ بات یقینی ہے کہ نئی حکومت کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر بیک وقت بھرپور قوت کے ساتھ ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات اٹھانے ہوں گے ،جن سے نہ صرف عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے بلکہ حکومت اور عوام میں بڑھتی ہوئی بد اعتمادی کی خلیج کو بھی کم کیا جا سکے۔دعوے، وعدے اور نعرے صرف الیکشن جیتنے کے لئے ہوتے ہیں، اب حکومت سازی کے بعد عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو سچ کر کے دکھانا ہوگا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ ٭٭٭٭٭