لاہور/اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی،لیڈی رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کی 2019 ء کی داخلہ پالیسی بحال کر دی،عدالت نے دوہری شہریت کے حامل طالبعلموں کا میڈیکل کالجوں میں اوپن میرٹ پر داخلے کرنے کا حکم دیدیا۔جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی آرڈیننس 2019ء کی دفعہ 49 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت ترامیم کا اختیار رکھتی ہے ،دوہری شہریت کے حامل میڈیکل کے طلباء کے کوٹہ کے تحت داخلے نہ کرنے کا پی ایم ڈی سی کا فیصلہ درست ہے ، ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کی تحلیل اور میڈیکل کمیشن کے قیام کیخلاف درخواستوں پر فریقین کو ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 18 نومبر تک ملتوی کر دی ۔ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی ۔درخواست گزار کے وکیل بابر ستار نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس ایمرجنسی حالات میں پاس کئے جاتے ہیں جبکہ مذکورہ آرڈیننس پارلیمنٹ کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے کسی ایمرجنسی کے بغیر جاری کیا گیا۔ وزارت صحت آ کر بتائے کہ 48 گھنٹے میں کیسے پی ایم ڈی سی تحلیل کر کے پی ایم سی کا قیام عمل میں لایا گیا؟ ٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا ۔