بڑھا دیتی ہیںعمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا یہ ایک احساس ہے جو کبھی مجھے تھا کہ جب مجھ سے کتابیں باتیں کرتی تھیں اور پھر ایک اور طرح کا احساس کہ راز منکشف ہونے لگا’’خوں جلایا ہے رات بھر میں نے۔ لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے‘‘ اب سچ یہ ہے کہ نہ وہ دن رہے نہ وہ فراغت کہ کتاب کا لمس اور کاغذ کی خوشبو مدہوش کر دے ۔مجھے یاد ہے کہ تب اتنی کتابیں گھر میں جمع ہوگیں کہ جب ہمیں مکان بدلنا پڑا تو ٹرک والا کتب دیکھ اپنے ساتھی سے کہنے لگا کہ ’’یہ بندہ پاگل تو نہیں جس نے ان کتابوں کے لئے پورا ٹرک کروایا ہے‘‘ میرے معزز و محترم قارئین! یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ میرے سامنے کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر پڑا ہے اور سب مجھ سے یہ توقع کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میںکچھ نہ کچھ لکھوں مگر سیاسی اور سماجی موضوعات اس طرف آنے نہیں دیتے مگر ایک طرف ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ ادب و شاعری کو شجر ممنوعہ بھی تو نہیں بنایا جا سکتا‘ان کتابوں میں ایک ناولٹ چھ ماہ سے کتابوں کے نیچے آیا پڑا ہے جس کا نام’’ لمحہ لمحہ کرچیاں‘‘ ہے اور یہ سندھ میں بسنے والی ایک ادیبہ دعا علی کا ہے ٹائٹل پر ایک شعر بھی درج ہے: زندگی کی راہوں سے غم کی غم پناہوں سے میں سمیٹ لائی ہوں لمحہ لمحہ کرچیاں اس ناولٹ میں جو کہ عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے میرے لئے دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ اس میں سندھ کے وڈیروں کا کلچر بھی ہے اور وہیں ایک خاتون کی زندگی کے صبح و شام بھی ہیں ناول کی سب سے پہلی اور بھرپور تعریف یہ ہے کہ یہ زندگی سے بھر پور ہو دوسرے لفظوں میں اس کے اندر معاشرہ رویہ عمل نظر آئے اور اپنے جذبات کے ساتھ منظر متحرک دکھائی دیں۔ کردار جاندار ہوں‘ کہانی میں حقیقت کا گمان ہو ‘وہی جو ناصر کاظمی نے کہا تھا: ٹھنڈی رات جزیروں کی وہ جنت ماہی گیروں کی مجھ سے باتیں کرتی تھیں خاموشی تصویروں کی دعا علی کا تعلق بھی اس سرزمین سے ہے جہاں کی بھر پور نمائندگی اس عہد کی لاجواب تخلیق کار نور الہدیٰ شاہ نے اپنی تحریروں اور ڈراموں میں کی۔میں سمجھتاہوں کہ سندھ کا سماج اور رسم و رواج بہت عرصے سے ایک جیسے ہیں کہ وڈیروں جاگیرداروںاور ڈیرہ داروں کے زیر اثر ہیں۔ یہ کہانی بھی کوئی اتنی نئی نہیں ہے کہ جب کوئی لڑکی کسی کمزور لمحے میں کسی وڈیرے بلکہ بگڑے ہوئے نوجوان زمیندار سے شادی کر لیتی ہے تو پھر کیسے محبت خواب بن جاتی ہے اور زمینی حقیقتیں کیسے خاک اڑانے لگتی ہیں ۔اس کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ متاثرہ لڑکی کسی کے رحم و کرم پر ہونے کے باوجو ہمت نہیں ہارتی۔ اس فریب کو سمجھ کر وہ زندگی گزارنے کے لئے راہیں تراشتی ہے اور اس سے بھی زیادہ حس یہ کہ وہ اپنے بچوں کے لئے ایثار کرتی ہے۔ ۔ سندھ میں یہ روش عام ہے کہ وہاں وڈیرے اور جاگیردار گھر کے علاوہ بھی ایک سلسلہ شب بسری رکھتے ہیں ۔ نائو نوش‘ محفل آرائی اور پھر داد عیش یہ ایک آزادانہ کلچر ہے جس میں عورت مجبور و محتاج ہے۔ یہ کاروکاری اور اس طرح کی باتیں آپ آئے دن سنتے ہیں ‘ پھر قرآن سے شادی اور دوسرے ایسے رواج بہرحال عورت مرد کے رحم و کرم پر ہے مگر دعا علی نے اس ساری گھٹن اور جبر میں بھی ایک ایسا انداز اپنایا جو شہزاد احمد کے شعر میںنظر آتا ہے: اپنا حق شہزاد ہم چھینیں گے مانگیں گے نہیں رحم کی طالب نہیں بے چارگی جیسی بھی ہے کہانی میں ایک بگڑا ہوا نوجوان ایک لڑکی کے توہین آمیز رویہ سے اس سے بدلہ لینے کے لئے اس سے محبت اور پھر شادی کا ڈھونگ رچاتا ہے اور اسے Keepبنانے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکی اس کی انا کا رزق بننے سے انکار کر دیتی ہے وہ خاندانی رشتوں کو بھی بچاتی ہے اور پیہم کوشش سے اپنا اصل مقام حاصل کرتی ہے ظالم کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ بعض اوقات خیر اور اچھائی اس کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ مجھے بانو آپا کا خوبصورت جملہ یاد آتا ہے جو سنہرے لفظوں میں لکھنے والا ہے کہ کہتی ہیں ’’میں نے اشفاق احمد صاحب سے ایک قدم پیچھے رہ کر عزت پائی‘‘ یہی مثبت اور احساس ہے جو مردے دل میں گھر کر لیتا ہے ۔ اگر یہ کہانی اسلوب کے اعتبار سے رائج اور عام اسلوب ہے مگر بیان سیدھا اور دل پذیر ہے کہ اس میں ذرا بھی بناوٹ نہیں۔ برجستگی اور روانی سے تو یہ کہانی محترمہ کی آپ بیتی محسوس ہوتی ہے اگر نہیں بھی تو تاثر یہی ملتا ہے کہ اس میں ایک پیغام بھی ہے کہ لڑکیوں کو جذبات میں بہہ کر اپنی زندگی کے فیصلے خود نہیں کرنے چاہئیں۔ اس ناول کا انتساب دعا علی نے اپنے استاد نوید سروش کے نام کیا ہے جو پروفیسر بھی ہیں اور شاعر بھی۔ یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ سندھ کے سماج میں استاد شاگرد کا کلچر قائم ہے اور ایک خاتون لکھنے پڑھنے میں مصروف ہے۔ بچوں اور گھر کی مصروفیات اس کے بعد بیان کو اجازت دینے پر مائل کرنا یہ آسان نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ شاعری بھی کرتی ہے اور آن لائن میگزین بھی نکالتی ہے۔ اسی باعث میں نے سوچا کہ ایسی یکسو تخلیق کار کو داد تو دینی چاہیے۔ لیکن یہ حوصلے اور ثابت قدمی کی داستان بھی ہے ‘ایسے والدین اور بہن بھائیوں کی محبت بھی ہے۔ ایک لڑکی کو قدم اٹھانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا چاہیے کہ اس کے ساتھ وابستہ ایک جہان ہے‘ جس میں اس کے رشتہ داری نہیں پورا معاشرہ ہے۔ جوانی کے جوش میں ہوش ازبس لازم ہے۔لڑکی کی زندگی فضول قسم کی مہم جوئی کی کوئی جگہ نہیں۔ وگرنہ اس کے ساتھ کون کون سفر کرے گا‘ اسے معلوم نہیں ایک اور بات یہ ہے کہ اس معاشرے کو کون بدلے گا کہ جس میں عورت مرد کے رحم و کرم پر ہے ایک اور بات کہ لڑکی کا پڑھا لکھا ہونا اس کے ہر قدم پر کام آتا ہے کہ اسے بات کرنے کا شعور آتا ہے اور نامساعد حالات سے نمٹنے کا وہ سوچتی ہے‘ آنے والی نسل کے لئے تو وہ ادارہ ہے۔ ناول کی دلچسپی کہیں بھی کم نہیں ہوئی۔ ساری باتوں کے باوجود نہ افسانوی اور پراسرار ہرگز نہیں۔ بالکل سچی کہانی کی طرح ہے ‘مشاہدے اور تجربے پر مبنی۔ ایک شعر کے ساتھ اجازت: چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے