لندن(ویب ڈیسک) امپیریل کالج لندن کے طبی انجینئروں نے ’’منی ایم آر آئی‘‘ اسکینر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جو جسامت اور وزن کے اعتبار سے موجودہ ایم آر آئی اسکینرز کے مقابلے میں تقریباً آدھا ہے جبکہ کارکردگی میں اس کے مساوی ہے ۔اب تک اس مختصر ایم آر آئی اسکینر کو جانوروں کی ہڈیوں اور جوڑوں کے اندرونی عکس لینے میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے جبکہ اس کی انسانی آزمائشیں اگلے سال سے شروع ہوں گی۔میگنیٹک ریزونینس امیجنگ یا ’’ایم آر آئی‘‘ کے میدان میں یہ نہایت اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس وقت استعمال ہونے والی ایم آر آئی مشینیں نہ صرف کئی ٹن وزنی ہوتی ہیں بلکہ انہیں نصب کرنے کے لیے بھی ایک بڑا اور خاص طور پر بنایا گیا، ایئر کنڈیشنڈ کمرہ درکار ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم آر آئی مشینوں کے اخراجات صرف بڑے اسپتال ہی برداشت کرسکتے ہیں جبکہ صرف ایک ایم آر آئی اسکین کا معاوضہ 50 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے ۔