ماہ جون کے دن تھے عید کی آمد آمد تھی ہفتے بھر سے ناول لہورنگ فلسطین پڑھ رہی تھی اور عید الضحی کی صبح اور دوپہر کے درمیانی وقفے میں ناول کا آخری باب پڑھا ایک تو تہوار تھا،دل مظلوم فلسطینیوں کے دکھ سے ویسے ہی بوجھل تھا اوپر سے ناول کی پڑھتے ہوئے گویا کئی روز سے ارض فلسطین پر قیام تھا،آخری باب تمام ہوا تو آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی لگ گئی۔یروشلم کا خالدی گھرانہ ڈاکٹر یوسف ضیا خالدی ان کا بیٹا ڈاکٹر منصور اس کی محبوبہ یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والی انسانی اقدار سے گندھی ہوئی یائل سب دل میں گھر کر جاتے ہیں۔کالم کے ہزار لفظی چوکٹے میں اس کتاب پر نہیں لکھا جا سکتا یہ بہت بڑے کینوس پر پھیلی ہوئی کتاب ہے۔ میں تو حیرت زدہ تھی کہ ناول کس طرح لکھا گیا۔ناول کا موضوع صدیوں پر پھیلا ہوا تاریخی پس منظر لیے ہوئے ہے۔تحقیق کا ایک سرا نہیں تھا یہ کئی ڈائمنشنز میں پھیلی ہوئی تھی۔فلسطین کی سرزمین کے تاریخی مذہبی تہذیبی اور سماجی حوالے۔یہاں پر مشرقی یورپ اور عرب ملکوں سے آکر بسنے والے یہودی یہودیوں کے اشکیا نازی اور سیفاردی فرقے،ارض فلسطین پر جاری خون ریزی اور اس پس منظر میں یروشلم کی سرزمین پر صدیوں سے بسنے والے مسلمان عیسائی یہودی خاندانوں کے آپس کے سماجی مراسم اور انسانی اقدار کی جھلک بھی اس ناول کا ایک موضوع ہے۔ سر زمین فلسطین کی تاریخ قرآن اور بائبل کے حوالے جدید دور کے فلسطین کے کرداروں کا ماضی کا پس منظر اس دور کی سیاست اور عالمی استعماری طاقتوں کا کردار ان سب کو موضوع بنانے کے لیے کس درجہ کی تحقیق سلمی اعوان نے کی ہوگی، اسے سوچ کر ہی پسینہ آجاتا ہے۔ناول کے کینوس کا اندازہ لگائیں کہ یہ کتاب 1899ء سے شروع ہوتی ہے جب سلطنت عثمانیہ آخری سانسیں لے رہی تھی اور برطانیہ میں یروشلم پر قبضے کے سازشیں اپنے عروج پر تھیں۔کتاب کا ہیرو ڈاکٹر منصور ایک مسلمان ہے جو یروشلم کے ایک معزز مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے کہ تاکہ ہیروئن یائل یہودی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ یروشلم کا وہ یہودی خاندان ہے جو نسل در نسل مسلمانوں کے ساتھ اچھے روابط میں منسلک رہا ہے جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔دو مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منصور اور یائل کی محبت مذہبی اور تاریخی اور تہذیبی تفاوت کے پس منظر میں کس طرح شکست و ریخت سے گزرتے ہیں۔ پھر اس کہانی کے ساتھ ساتھ فلسطین پر گزرنے سیاسی سماجی حالات کا بیان پڑھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، لگتا ہے کہ سلمی اعوان کہیں یروشلم کی گلیوں میں برسوں رہتی رہی ہیں۔جس رچاؤ کے ساتھ انہوں نے وہاں کی تہذیب اور وہاں کے عام لوگوں کے آپس میں تعلقات پر قلم اٹھایا ہے یہ حیران کن ہے یقین کریں۔ یہ کارنامہ سلمی اعوان کے علاوہ اور کوئی سرانجام دے ہی نہیں سکتا تھا جنہوں عراق شام مصر کی جنگ زدہ سرزمینوں کے سفر کیے اور عرب ممالک کی اس ساری پٹی کے تہذیبی اور سماجی تانے بانے سے واقفیت حاصل کی۔دمشق کی امیہ مسجد میں ملنے والی فلسطینی لڑکی سے محبت کا اظہار اس پر افسانہ لکھ کر چکی تھیں۔ ان کے سفر نامے مصر میرا خواب کی تعارفی تقریب اسلام آباد میں مصر کے سفارت خانے میں ہوئی وہاں فلسطینی سفیر سے ملاقات ہوئی فلسطینی سفیر حسین ابو شنیب نے انہیں فلسطین کے حوالے سے لکھنے کی دعوت دی۔ایک پاکستانی لکھاری کے لیے یہ بہت اعزاز کی بات تھی دل میں یہ خواہش جاگزیں ہوئی تو فلسطین کی سرزمین کے سفر کا خیال آیا اپنی کتاب کے آغاز میں سلمی اعوان لکھتی ہیں۔"فلسطین جانے کی خواہش تھی۔انہوں نے میرے کاغذات اسرائیل بھجوائے دو سال معاملات کی سولی پر لٹکتا رہا آخر فریڈم فلو ٹیلا نے پکا انکار کروا دیا پھر سفیر فلسطین ابو شنیب نے قیمتی کتابیں عنایت کیں نقشے حاضر کیے مگر پھر بھی سوچتی رہی کہ میں کبھی اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر نہیں گئی کیسے لکھوں " سچی لگن وسیلے بنادیتی ہے ان کی خالہ زاد بہن ڈاکٹر رضیہ حمید 40 سال سے امریکہ میں رہ رہی تھیں اور وہاں کی انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں سے وابستہ تھیں جو اکثر امریکی جیلوں کی مہمان بنتی تھیں۔پیس ناؤ کی طرف سے وہ تین ماہ کے لیے اسرائیل گئی تھی انہیں وہاں کے ماحول کو بڑے غور سے دیکھا انہوں نے سی ڈی ڈی وی ڈی کے ڈھیر کتابیں نقش پمفلٹ سب کچھ ڈھیر لگا دیا انہوں نے کچھ وقت یہودی گھروں میں گزارا تھا ،سفار دی اور اشکینازی یہودیوں کی شادیوں میں شرکت کی تھی یہودی تہذیبی زندگی کی جھلکیاں انہوں نے اپنی خالہ زاد بہن سے سنیں۔ اس ناول کو لکھنے کے لیے تاریخی سیاسی اور تہذیبی حوالوں سے انہوں نے بڑی جم کر تحقیق کی جو ناول کی ہر سطر سے جھلک رہی ہے۔پھر اس خالص تاریخی ، تہذیبی اور مذہبی تحقیق کو تخلیق کی خوش رنگ وادی سے گزار کر ناول کے پیرائے میں بیان کیا۔ ریسرچ اور ناول لکھنے کا یہ عرصہ چار برس پر محیط ہے بقول سلمی اعوان کے اس تمام عرصے میں وہ اپنے کرداروں کے ساتھ یروشلم کی گلیوں میں بھٹکتی رہیں۔ یروشلم کی ہزار صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخی تہذیبی اور سماجی زندگی کے تانے بانے کو اپنے اندر جذب کر کے ناول کے پیرائے میں سہولت اور رچاؤ سے بیان کرنا جہاں فکشن بھی ہو اور حقائق پر بھی زد نہ پڑے کسی ہما شما کا کام نہیں بلکہ ایک بڑے تخلیقی ذہن کا کارنامہ ہی ہو سکتا ہے۔اور سلمیٰ عوان نے بلا شبہ یہ کارنامہ سر انجام دیا،ناول کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ 2010 ء میں لکھا گیا ناول نقادوں کی توجہ سے محروم کیوں رہا؟شاید کتاب پڑھنے کا رواج نہیں رہا یا پھر ادبی نقاد بھی سہل پسند ہیں اور مشکل کتابیں پڑھنے سے گریز کرتے ہیں فلسطین کے تاریخی مذہبی اور تہذیبی حوالوں سے نا آشنا قاری کے لیے ناول کو سمجھنا مشکل ہے۔ مجھے یقین ہے لہو رنگ فلسطین ایک بڑے تاریخی کینوس پر پھیلا ہوا غیر معمولی ناول ان ادبی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے جسے مستقبل کا قاری دریافت کرے گا اور پھر اس کی ادبی قدوقامت کا اندازہ لگائے گا۔اردو ادب کو اپنی نوعیت کا منفرد اور بڑا ناول دینے پر میں سلمی اعوان کو سلام پیش کرتی ہوں۔ ٭٭٭٭٭