خیبر پختونخواکے ضلع لکی مروت میں اتوار کے روز سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملے میں پاک فوج کے 26سالہ کیپٹن محمد فراز سمیت 7جوان شہید ہو گئے۔ کیپٹن محمد فراز کا تعلق ضلع قصور سے تھا اور 24جون کو ان کی شادی ہونا تھی۔ باقی شہداء میں صوبیدار میجر محمد نذیر ‘ لانس نائیک محمد انور‘ لانس نائیک حسین علی‘ سپاہی اسداللہ ‘ سپاہی منظور اور صوبیدار راشد محمود شامل ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے ہزاروں زندگیوں کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔پاک فوج کے افسر اور جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی کی لعنت سے جس عزم اور حوصلے کے ساتھ برسر پیکار ہیں اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ حالیہ بم دھماکے کے شہداء نے بھی وطن عزیز کے دفاع کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنی جان قربان کی ہے، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہمارے سپاہیوں کی ایسی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ وطن عزیز سے دہشت گردوں کا خاتمہ کئے بغیر ہم چین نہیں بیٹھیں گے۔ قوم اپنے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم قا نون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ دیسی ساختہ بم کے ذریعے حملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلحہ کے سہولت کار دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیںلہذاہشت گردوںکے ساتھ ساتھ انکے بہی خواہوں کا قلع قمع بھی ضروری ہے۔