مکرمی ! آج کے ماڈرن دور کا ماڈرن انسان اپنی ہوس کی تسکین کے لیے ایسے ایسے ہیچ قسم کے افعال انجام دے رہا ہے کہ زمانہ جاہلیت سے میلوں آگے نکل چکا ہے اور اسے اشرف المخلوقات کہتے ہوئے بڑی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔یہ سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے'مگر آپ کو یاد ہوگا چند ماہ قبل ایک ایسے بدچلن باپ کی کہانی منظرِ عام پر آئی تھی'جس نے دنیا کے تمام والدین کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔مگر ٹھہرئے یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی داستان نہیں،اس قسم کا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ اوکاڑہ میں پیش آیا تھا۔اسی طرح 2011ء میں بھکر میں پولیس نے قبروں سے مردے نکال کر کھانے والے دو بھائیوں کو گرفتار کیا تھا۔آدم خور ملزمان نے کئی مردوں کے گوشت کا سالن بھی پکا کر کھا چکے تھے۔جنہوں نے خونخوار وحشی جانوروں اور زمانہ جاہلیت کو بھی شرمندہ کر دیا تھا۔آپ روزانہ میڈیا پر نظر رکھیں۔آپ کو اسی نوعیت کے سینکڑوں شرمناک واقعات دیکھنے کو ملیں گی۔مثلاً یہ کہ کہیں شوہر اپنی بیوی کو زہریلے سانپ سے ڈسوا کر قتل کر دیتا ہے تو کہیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحری کے وقت گرم کھانا نہ دینے پر اپنی شریکِ حیات کو گولی مار کر انسانیت کو شرمسار کرتا ہے۔کہیں شور مچانے پر سفاک انسان اپنی سات سالہ ننھی بھتیجی کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔کہیں پر بچوں کی لڑائی کو بنیاد بنا کر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے اور درجنوں لاشیں گرا دی جاتیں ہیں۔جی ہاں!یہ ہے اکیسویں صدی'جہاں ڈگری ہولڈرز اور پڑھے لکھے افراد کی زیر سایہ ایک ایسی ماڈرن جہالت فروغ پا رہی ہے جس کا زمانہ جاہلیت میں تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ (اقبال حسین اقبال،گلگت)